Tafseer-al-Kitaab - An-Nisaa : 124
سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
سَبَّحَ : پاکیزگی بیان کرتا ہے لِلّٰهِ : اللہ کی مَا : جو فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں وَمَا فِي الْاَرْضِ ۚ : اور جو زمین میں وَهُوَ : اور وہ الْعَزِيْزُ : غالب الْحَكِيْمُ : حکمت والا
اللہ کا پاک ہونا بیان کیا ہر چیز نے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
سَبَّحَ ِﷲِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ج۔۔۔۔۔۔: اس آیت کی تفسیر سورة ٔ حدید کی پہلی آیت اور سورة ٔ بنی اسرائیل کی آیت (44) میں گزر چکی ہے ، یہاں صرف چند باتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو اس مقام سے متعلق ہیں :(1) سورة ٔ حدید میں ”مَا فِی السَّمٰوٰتِ والارض“ ہے ، جب کہ یہاں ”مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ“ ہے۔ ابن عاشور ؒ تعالیٰ نے اس کی توجیہ یہ فرمائی ہے کہ سورة ٔ حدید کی ابتداء میں زمین و آسمان کی ہر چیز کے اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرنے کو بطور دلیل بیان کیا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ کی توحید اور ان صفات کے ثبوت کے لیے جو بعد کی آیات میں بیان ہوئی ہے۔ چونکہ وہ سب کچھ جو زمین و آسمان میں پایا جاتا ہے مجموعی طور پر اس کی دلیل ہے ، اس لیے ”مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ“ میں اسے اکٹھا کردیا ہے۔ جب کہ سورة ٔ حشر کی ابتداء میں اللہ کی تسبیح کا ذکر مسلمانوں پر اس احسان کی یاد دلانے کے لیے ہے جو زمین پر پیش آنے والے ایک واقعہ کی صورت میں ہوا اور وہ ہے بنو نضیر کی جلا وطنی اور مسلمانوں کا ان کی راضی اور اموال کا مالک بن جانا۔ اس لیے اس میں زمین والوں کو خاص طور پر الگ ذکر کرنے کے لیے ”مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ“ فرمایا۔ یہی معاملہ سورة ٔ صف ، سورة ٔ جمعہ اور سورة ٔ تغابن کا ہے ، ان سب میں ”مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ“ کے بجائے ”مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ“ کہ اگیا ہے ، کیونکہ ان کے بعد مذکور چیزوں کا تعلق خاص طور پر زمین والوں کے ساتھ ہے۔ 2۔ بنو نضیر کے واقعہ کے ذکر سے پہلے ”سَبَّحَ ِﷲِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ“ لانے کا مقصد یہ ہے کہ اس جیسے طاقتور قبیلے کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا وہ مسلمانوں کی طاقت کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ تھا ، جو ہر عیب اور عجز سے پاک ہے ، یہ کام جو مسلمانوں کی تعداد اور قوت کے لحاظ سے ممکن ہی نہ تھا ، اللہ تعالیٰ کے لیے بالکل معمولی ہے ، کیونکہ وہ سبحان ہے ، اللہ تعالیٰ کی صفات ”العزیز الحکیم“ لانے میں بھی حکم ہے کہ جب وہ کسی کو غالب کرنا چاہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا اور اس واقعہ میں بھی اس کی بیشمار حکمتیں ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں مسلمانوں کے لیے سبق بھی ہے کہ جب آسمانوں کی ہر چیز اور زمین کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے تو تمہیں بھی اس کی بیشمار نعمتوں پر ، جن میں بنو نضیر کی جلا وطنی کی نعمت بھی ہے اس کی تسبیح کرنی چاہیے۔
Top