Tafseer-e-Mazhari - Ibrahim : 22
وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ
وَقَالُوْا : اور انہوں نے کہا لَا تَذَرُنَّ : نہ تم چھوڑو اٰلِهَتَكُمْ : اپنے ا لہوں کو وَلَا : اور نہ تَذَرُنَّ : تم چھوڑو وَدًّا : ود کو وَّلَا سُوَاعًا : اور نہ سواع کو وَّلَا يَغُوْثَ : اور نہ یغوث کو وَيَعُوْقَ : اور نہ یعوق کو وَنَسْرًا : اور نہ نسر کو
اور وہ بڑی بڑی چالیں چلے
مکرا کبارا . کبارًا صیغہ مبالغہ ہے کبیرٌ سے بنا ہے۔ بہت بڑا مکر۔ سرداروں کی طرف سے مکر یہ تھا کہ وہ لوگوں کو حضرت نوح کو دکھ پہنچانے اور کفر کرنے پر ابھارتے تھے اور نچلے طبقہ کا مکر یہ تھا کہ وہ حضرت کو طرح طرح سے دکھ پہنچاتے تھے ‘ یہی ان کی تدبیر تھی جس کو مکر کہا گیا۔
Top