Anwar-ul-Bayan - Al-Kahf : 5
وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا
وَلَقَدْ صَرَّفْنَا : ور ہم نے طرح طرح سے بیان کیا لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے فِيْ : میں هٰذَا الْقُرْاٰنِ : اس قرآن مِنْ : سے كُلِّ مَثَلٍ : ہر مثال فَاَبٰٓى : پس قبول نہ کیا اَكْثَرُ النَّاسِ : اکثر لوگ اِلَّا : سوائے كُفُوْرًا : ناشکری
سو ہم نے غار میں ان کے کانوں پر سالہا سال تک (نیند کا) پردہ ڈالے رکھا،12۔
12۔ یعنی ایسے غافل ہوکرسوئے کہ کوئی آواز بھی ان کے کان میں نہ پہنچتی تھی۔ اے انمناھم انامۃ لاتنبھھم فیھا الاصوات (بیضاوی) (آیت) ” ضربنا علی اذانھم “۔ ضرب اذان سے عربی محاورہ میں کنایہ ہوتا ہے۔ (آیت) ” سنین عددا “۔ عدد کا اضافہ یا تو تاکید کے لیے ہے اور یا کثرت عدد کے اظہار کے لیے ہے۔ ذکر اللہ علی سبیل التاکید وقیل ذکرہ یدل علی اکثرۃ (معالم)
Top