Anwar-ul-Bayan - Al-Muminoon : 91
مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ
مَا اتَّخَذَ : نہیں بنایا اللّٰهُ : اللہ مِنْ وَّلَدٍ : کسی کو بیٹا وَّمَا كَانَ : اور نہیں ہے مَعَهٗ : اس کے ساتھ مِنْ اِلٰهٍ : کوئی اور معبود اِذًا : اس صورت میں لَّذَهَبَ : لے جاتا كُلُّ : ہر اِلٰهٍ : معبود بِمَا خَلَقَ : جو اس نے پیدا کیا وَلَعَلَا : اور چڑھائی کرتا بَعْضُهُمْ : ان کا ایک عَلٰي بَعْضٍ : دوسرے پر سُبْحٰنَ اللّٰهِ : پاک ہے اللہ عَمَّا : اس سے جو يَصِفُوْنَ : وہ بیان کرتے ہیں
خدا نے نہ تو (اپنا) کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ اسکے ساتھ کوئی اور معبود ہے ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لے کر چلتا اور ایک دوسرے پر غالب آجاتا یہ لوگ جو کچھ (خدا کے بارے میں) بیان کرتے ہیں خدا اس سے پاک ہے
(23:91) اذا۔ حرف جواب اور جزا ہے۔ اصل میں یہ اذن ہے۔ وقف کی صورت میں نون کو الف سے بدل لیتے ہیں۔ بمعنی تب۔ اس وقت۔ فراء کا قول ہے کہ جس جگہ اذا کے بعد لام آئے گا۔ تو ضرور ہے کہ اس کے بعد لو مقدر ہو اگرچہ ظاہر اس کا کوئی پتہ نہ ہو۔ مثلاً قولہ تعالی۔ اذا لذھب کل الہ بما خلق (آیہ ہذا) ای لو کان معہ الھۃ کما تزعمون لذھب کل الہ بما خلق۔۔ لعلا۔ لام تاکید کے لئے ہے علا یعلو علو (باب نصر) یا علی یعلی (فتح) علاء سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ وہ چڑھ گیا۔ اس نے چڑھائی کی ۔ وہ غالب آیا۔ لعلا بعضہم علی بعض۔ تو ضرور ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتا۔ لذھب کل الہ بما خلق۔ تو وہ اپنی مخلوق کو لے کر جدا کرلیتا۔
Top