Ashraf-ul-Hawashi - An-Nahl : 51
وَ قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ١ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَاِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ
وَقَالَ : اور کہا اللّٰهُ : اللہ لَا تَتَّخِذُوْٓا : نہ تم بناؤ اِلٰهَيْنِ : دو معبود اثْنَيْنِ : دو اِنَّمَا : اس کے سوا نہیں هُوَ : وہ اِلٰهٌ : معبود وَّاحِدٌ : یکتا فَاِيَّايَ : پس مجھ ہی سے فَارْهَبُوْنِ : تم مجھ سے ڈرو
اور ان گھروں کے سوا جو لوگ بالکل مقدور نہیں رکھتے ان کی آسائش کے لئے) اللہ نے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں سے (جیسے جھاڑ پہاڑ وغیرہ) تمہارے لئے سائے بنائے اور پہاڑوں میں چھپ رہنے کی غار ( یا تراشے ہوئے مکان اور تمہارے لئے کپڑے کے) کرتے بنائے جو تم کو گرمی اور سردی2 اسے بچاتے ہیں اور (لوہے کے) کرتے (زر میں جو شن وغیرہ) جو لڑائی میں) تم کو تمہاری مار سے بچاتے ہیں یعنی ایک دوسرے پر جب وار کرتے ہو) اللہ تعالیٰ اسی طرح جیسے میب نعمتیں تم کو دیں اپنا احسان تم پر پورا کرتا ہے اس لئے کہ تم اس کا حکم مانو3
2 اور سردی سے بھی چونکہ سخت گرمی اور بادسموم سے بچنے کے لئے کپڑوں کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ اس لئے گرمی سے بچنے کا ذکر خصوصیت کے ساتھ فرما دیا۔ (شوکانی) 3 یعنی سلمان بنو اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ کی بےپایاں نعمتوں پر غور کرے گا ضرور ہے کہ وہ یہاں بلکہ میں کی اطاعت اختیار کرے۔
Top