Ashraf-ul-Hawashi - Al-Anbiyaa : 81
وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ
وَكَمْ قَصَمْنَا : اور ہم نے کتنی ہلاک کردیں مِنْ : سے قَرْيَةٍ : بستیاں كَانَتْ : وہ تھیں ظَالِمَةً : ظالم وَّاَنْشَاْنَا : اور پیدا کیے ہم نے بَعْدَهَا : ان کے بعد قَوْمًا : گروہ۔ لوگ اٰخَرِيْنَ : دوسرے
(یا نہیں) اور ہم نے زور کی ہوا سلیمان کے لئے (تابع کردی تھی) وہ اس کے حکم9 سے اس کے ملک کی طرف چلتی تھی جہاں ہم نے برکت رکھی ہے (یعنی شام کے ملک کی طرف اور ہم کو سب چیزوں کی خبر ہے
9 ۔ اس کی تفسیر میں حجرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان نے ایک تخت تیار کرایا تھا جس میں مع اعیان سلطنت بیٹھ جاتے اور ضروری سامان بھی رکھ لیتے پھر ہوا آتی اور اسے اڑالے جاتی۔ جب وہ چاہتے ہوا تیز چلتی اور جب چاہتے دھیمی۔ صبح سے زوال تک وہ ایک ماہ کی مسافت اور زوال سے شام تک ایک ماہ کی مسافت طے کرتی۔ نیز دیکھئے سورة سبا آیت 211 اور سورة ص آیت 53 تا 63 (فتح القدیر)
Top