Tafseer-e-Usmani - Al-Anbiyaa : 81
وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ
وَلِسُلَيْمٰنَ : اور سلیمان کے لیے الرِّيْحَ : ہوا عَاصِفَةً : تیز چلنے والی تَجْرِيْ : چلتی بِاَمْرِهٖٓ : اس کے حکم سے اِلَى : طرف الْاَرْضِ : سرزمین الَّتِيْ بٰرَكْنَا : جس کو ہم نے برکت دی ہے فِيْهَا : اس میں وَكُنَّا : اور ہم ہیں بِكُلِّ شَيْءٍ : ہر شے عٰلِمِيْنَ : جاننے والے
اور سلیمان کے تابع کی ہوا زور سے چلنے والی کہ چلتی اس کے حکم سے اس زمین کی طرف جہاں برکت دی ہے ہم نے1 اور ہم کو سب چیز کی خبر ہے2
1 حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دعاء کی تھی (رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ ) 38 ۔ ص :35) اللہ تعالیٰ نے ہوا اور جن ان کے لیے مسخر کردیے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ایک تخت تیار کرایا تھا جس پر مع اعیان دولت بیٹھ جاتے اور ضروری سامان بھی بار کرلیا جاتا، پھر ہوا آتی، زور سے اس کو زمین سے اٹھاتی، پھر اوپر جا کر نرم ہوا ان کی ضرورت کے مناسب چلتی جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا۔ (رُخَاۗءً حَيْثُ اَصَابَ ) 38 ۔ ص :36) یمن سے شام کو اور شام سے یمن کو مہینہ کی راہ دوپہر میں پہنچا دیتی۔ تعجب ہے کہ آج عجیب و غریب ہوائی جہازوں کے زمانہ میں بہت سے زائغین اس قسم کے واقعات کا انکار کرتے ہیں۔ کیا یورپ جو کام اسٹیم اور الیکٹرک سے کرسکتا ہے خدا تعالیٰ ایک پیغمبر کی خاطر اپنی قدرت سے نہیں کرسکتا۔ 2 کہ کس کو کس قسم کا امتیاز دینا مناسب ہے، اور ہوا وغیرہ عناصر سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے۔
Top