Kashf-ur-Rahman - Al-Anbiyaa : 12
وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ
وَلِسُلَيْمٰنَ : اور سلیمان کے لیے الرِّيْحَ : ہوا عَاصِفَةً : تیز چلنے والی تَجْرِيْ : چلتی بِاَمْرِهٖٓ : اس کے حکم سے اِلَى : طرف الْاَرْضِ : سرزمین الَّتِيْ بٰرَكْنَا : جس کو ہم نے برکت دی ہے فِيْهَا : اس میں وَكُنَّا : اور ہم ہیں بِكُلِّ شَيْءٍ : ہر شے عٰلِمِيْنَ : جاننے والے
سو جب ان ہلاک ہونے والوں نے ہمارے عذاب کی آہٹ پائی تب ہی اس بستی سے بھاگنے لگے
- 12 سو جب ان ظالموں کو ہمارے عذاب کا احساس ہوا اور انہوں نے ہمارے عذاب کی آہٹ پائی تب ہی اس بستی سے بھاگنے لگے۔ یعنی عذاب کے خوف سے ایڑ لگا کر بھاگے۔ ایڑ لگانا شاید سواریوں پر سوار ہو کر بھاگے ہوں گے اس بھاگنے پر ارشاد ہوا۔
Top