Tafseer-e-Baghwi - Al-Hadid : 21
سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ
سَابِقُوْٓا : ایک دوسرے سے آگے بڑھو اِلٰى مَغْفِرَةٍ : بخشش کی طرف مِّنْ رَّبِّكُمْ : اپنے رب کی طرف سے وَجَنَّةٍ : اور جنت کی طرف عَرْضُهَا : اس کی وسعت۔ چوڑائی كَعَرْضِ السَّمَآءِ : آسمان کے عرض کی طرح ہے۔ وسعت کی طرح ہے وَالْاَرْضِ ۙ : اور زمین کے اُعِدَّتْ : تیار کی گئی ہے لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے بِاللّٰهِ : اللہ پر وَرُسُلِهٖ ۭ : اور اس کے رسولوں پر ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ : یہ اللہ کا فضل ہے يُؤْتِيْهِ : وہ عطا کرتا ہے اسے مَنْ يَّشَآءُ ۭ : جس کو وہ چاہتا ہے وَاللّٰهُ : اور اللہ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ : بڑے فضل والا ہے
جان رکھو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشہ اور زینت (و آرائش) اور تمہارے آپس میں فخر (و ستائش) اور مال و اولاد کی ایک دوسرے سے زیادہ طلب (وخواہش) ہے (اس کی مثال ایسی ہے) جیسے بارش کہ (اس سے کھیتی اگتی ہے اور) کسانوں کو کھیتی بھلی لگتی ہے پھر وہ خوب زور پر آتی ہے پھر (اے دیکھنے والے ! ) تو اس کو دیکھتا ہے کہ (پک کر) زرد پڑجاتی ہے پھر چورا چورا ہوجاتی ہے اور آخرت میں (کافروں کے لئے) عذاب شدید اور (مومنوں کے لئے) خدا کی طرف سے بخشش اور خوشنودی ہے اور دنیا کی زندگی تو متاع فریب ہے
20 ۔” اعلموا انما الحیوۃ الدنیا “ یعنی بیشک دنیا کی زندگی اور ” ما “ صلہ ہے یعنی بیشک اس گھر میں میں ” لعب “ باطل ہے اس کا کوئی حاصل نہیں۔ ” ولھو “ خوشی ہے پھر ختم ہوجائے گی۔ ” وزینۃ “ منظر جس کے ذریعے تم زینت حاصل کرتے ہو۔ ” وتفاجر بینکم “ اس کے ذریعے وہ آپس میں فخر کرتے ہیں۔ ” وتکاثر فی الاموال والاولاد “ یعنی مال اور اولاد کی کثرت پر فخر کرنا۔ پھر اس کے لئے مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا ” کمثل غیث اعجب الکفار “ یعنی کاشتکاروں کو ” نباتہ “ جو اس بارش سے اگا۔ ” ثم بھیج “ خشک ہوجائے۔ ” فتراہ مصفرا “ اس کے سرسبز ہونے اور پک جانے کے بعد ” ثم یکون حطاما “ خشک ہونے کے بعد کاٹا جائے، توڑا جائے اور فنا ہوجائے۔ ” وفی الآخرۃ عذاب شدید “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں اللہ کے دشمنوں کے لئے۔ ” ومغفرۃ من اللہ ورضوان “ اس کے اولیاء اور اہل طاعت کے لئے۔ ” وما الحیاۃ الدنیا الامتاع الغرور “ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں دھوکے کا سامان اس کے لئے جو اس میں مشغول ہو آخرت کی طلب سے اعراض کرکے اور جو اس میں مشغول آخرت کی طلب کے ساتھ تو اس کے لئے ایسا نفع ہے جو اسے خیر تک پہنچادے گا۔
Top