Bayan-ul-Quran - Al-Kahf : 8
وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا
وَعُرِضُوْا : اور وہ پیش کیے جائیں گے عَلٰي : پر۔ سامنے رَبِّكَ : تیرا رب صَفًّا : صف بستہ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا : البتہ تم ہمارے سامنے آگئے كَمَا : جیسے خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے تمہیں پیدا کیا تھا اَوَّلَ مَرَّةٍ : پہلی بار بَلْ : بلکہ (جبکہ) زَعَمْتُمْ : تم سمجھتے تھے اَلَّنْ نَّجْعَلَ : کہ ہم ہرگز نہ ٹھہرائیں گے تمہارے لیے لَكُمْ : تمہارے لیے مَّوْعِدًا : کوئی وقتِ موعود
اور نامہٴ اعمال رکھ دیا جاوے گا تو آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ اس میں جو کچھ ہے اس سے ڈرتے ہوں گے اور کہتے ہوں گے کہ ہائے ہماری کم بختی اسی نامہٴ اعمال کی عجیب حالت ہے کہ بےقلمبند کیے ہوئے نہ کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا گناہ (چھوڑا) اور جو کچھ انہوں نے کیا وہ سب (لکھا ہوا) موجود پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ (ف 2)
2۔ کہ بے کیا ہوا گناہ لکھ دے یا کی ہوئی نیکی جبکہ شرائط کے ساتھ کی جاوے نہ لکھے۔ خلاصہ یہ کہ روساء مشرکین جس چیز پر فخر کرتے ہیں انہوں نے اس کا مال سن لیا، اور جن غربا کو حقیر سمجھتے ہیں ان کے باقیات صالحات کا لازوال ہونا معلوم کرلیا، اب بھی عقل نہ آوے تو گولی ماریئے۔
Top