Dure-Mansoor - Al-Muminoon : 44
ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ
ثُمَّ : پھر اَرْسَلْنَا : ہم نے بھیجے رُسُلَنَا : رسول (جمع) تَتْرَا : پے در پے كُلَّمَا : جب بھی جَآءَ : آیا اُمَّةً : کسی امت میں رَّسُوْلُهَا : اس کا رسول كَذَّبُوْهُ : انہوں نے اسے جھٹلایا فَاَتْبَعْنَا : تو ہم پیچھے لائے بَعْضَهُمْ : ان میں سے ایک بَعْضًا : دوسرے وَّجَعَلْنٰهُمْ : اور انہیں بنادیا ہم نے اَحَادِيْثَ : افسانے فَبُعْدًا : سو دوری (مار) لِّقَوْمٍ : لوگوں کے لیے لَّا يُؤْمِنُوْنَ : جو ایمان نہیں لائے
پھر ہم نے یکے بعد دیگر پیغمبروں کو بھیجا جب بھی کسی امت کے پاس اس کا رسول آیت تو انہوں نے اسے جھٹلایا سو ہم بعض کو بعض کے پیچھے وجود میں لاتے رہے اور ہم نے انہیں کہانیاں بنادیا، سو اس قوم کے لیے دوری ہے جو ایمان نہیں لاتے
1۔ ابن جریر وابن المنذروابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” ثم ارسلنا رسلنا تترا “ سے مراد ہے کہ رسولوں میں سے بعض بعض کے پیچھے آئے اور دوسرے لفظ میں یوں فرمایا آیت ” بعضہم علی اثر بعض “ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ دونوں سے اسی طرح روایت کیا۔ واللہ اعلم۔
Top