Dure-Mansoor - Al-Israa : 111
اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘
اَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا : کیا پس انہوں نے غور نہیں کیا الْقَوْلَ : کلام اَمْ : یا جَآءَهُمْ : ان کے پاس آیا مَّا : جو لَمْ يَاْتِ : نہیں آیا اٰبَآءَهُمُ : ان کے باپ دادا الْاَوَّلِيْنَ : پہلے
کیا ان لوگوں نے اس کلام میں غور نہیں کیا یا ان کے پاس ایسی چیز آئی ہے جو ان سے پہلے ان کے بڑوں کے پاس نہیں آئی
1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” افلم یدبروا القول “ کے بارے میں فرمایا اللہ کی قسم وہ قرآن میں ایسی چیز کو پاتے جو ان کو اللہ کی معصیت سے روک دیتی قوم اگر اس میں غور وفکر کرتی اور سمجھ بوجھ رکھتی۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے آیت ” ام لم یعرفوا رسولہم “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ آپ کو پہچانتے تھے لیکن اس سے حسد کرتے تھے آیت ” ولو اتبع الحق اہواء ہم “ میں حق سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” بل اتینہم بذکر ہم “ یعنی ہم نے ان کے لیے واضح کردیا۔ 4۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” بل اتینہم بذکرہم “ یعنی ذکر سے مراد ہے یہ قرآن آیت ” ام تسئلہم خرجا “ یعنی کیا تو ان سے کوئی معاوضہ مانگتا ہے۔ اس پر جو ہم نے آپ کو دیا ہے۔ 5۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ” خرجا “ سے مراد ہے اجر (یعنی معاوضہ) 6۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” الخرج “ اور اس سے پہلے جو قصہ مذکور ہے وہ کفار قریش کے لیے ہے۔ 7۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” ام تسئلہم خرجا “ میں خرجا کو الف کے بغیر اور ” فخراج ربک “ میں الف کے ساتھ پڑھا۔ 8۔ ابن ابی حاتم وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت ” ام تسئلہم خرجا فخراج ربک خیر “۔ صراط مستقیم پر چلنے کی دعوت 9۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وانک لتدعوہم الی صراط مستقیم (73) “ یعنی ایسا سیدھا راستہ ہے کہ اس میں کوئی ٹیڑھا پن نہیں۔ ہم کو ذکر کیا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ ایک آدمی سے ملے اور اس سے فرمایا مسلمان ہوجا۔ یہ چیز اس کو بڑی مشکل لگی اور گراں گزری تو اس کو نبی ﷺ نے فرمایا تم بتاؤ اگر تم کسی دشوار گزار راستہ میں ہو اور تم ایک ایسے آدمی سے ملو کہ تم اس کو اور اس کے نسب کو تم پہنچانتے ہو اور وہ تجھ کو ایک آسان اور کھلے راستے کی طرف بلاتا ہے کیا تو اس کا کہنا مانے گا اس نے کہا ہاں آپ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے بلا شبہ تو اس سے بھی زیادہ دشوار گزار راستے میں ہو اور میں اس راستے سے زیادہ آسان اور ہموار راستہ کی طرف بلا رہا ہوں۔ اگر تجھے اس راتہ کی طرف بلایا جاتا۔ اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی ﷺ ایک آدمی سے ملے اور اس سے فرمایا مسلمان ہوجا اس کو یہ چیز بڑی شاق گزری اللہ کے نبی ﷺ نے اس سے فرمایا تم بتاؤ اگر تیرے دونوجوان ہوں ان میں سے ایک بات کرے تو تجھ سے سچ کہے اور اگر تو اس کے پاس امانت رکھے تو تجھ کو ادا کردے دوسرا اگر بات کرتے تو تجھ سے جھوٹ بولے اور اگر تو اس کے پاس امانت رکھے تو خیانت کرے ؟ اس نے کیوں نہیں میرا نوجوان تو وہ ہے جب مجھ سے بات کرے تو مجھ سے سچ بولے اور جب اس کے پاس امانت رکھوں تو مجھ کو ادا کردے نبی ﷺ نے فرمایا تم بھی اپنے رب کے نزدیک ایسے ہی ہوگے۔ 10۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے آیت ” وان الذین لا یؤمنون بالاٰخرۃ عن الصراط لنکبون “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ حق سے ہٹ جانے والے ہیں۔ 11۔ ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولو رحمنہم وکشفنا ما بہم من ضر “ میں ضر سے مراد ہے بھوک۔
Top