Fahm-ul-Quran - Al-Muminoon : 91
مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ
مَا اتَّخَذَ : نہیں بنایا اللّٰهُ : اللہ مِنْ وَّلَدٍ : کسی کو بیٹا وَّمَا كَانَ : اور نہیں ہے مَعَهٗ : اس کے ساتھ مِنْ اِلٰهٍ : کوئی اور معبود اِذًا : اس صورت میں لَّذَهَبَ : لے جاتا كُلُّ : ہر اِلٰهٍ : معبود بِمَا خَلَقَ : جو اس نے پیدا کیا وَلَعَلَا : اور چڑھائی کرتا بَعْضُهُمْ : ان کا ایک عَلٰي بَعْضٍ : دوسرے پر سُبْحٰنَ اللّٰهِ : پاک ہے اللہ عَمَّا : اس سے جو يَصِفُوْنَ : وہ بیان کرتے ہیں
” اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے اور کوئی دوسرا الٰہ اس کے ساتھ نہیں ہے اگر اور ہوتے تو ہر الٰہ اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا اور پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے۔ اللہ پاک ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ (91)
فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے اپنی بادشاہت اور اختیارات کے حوالے سے یہ ثابت کیا ہے کہ زمین و آسمان کی بادشاہت میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے اب اپنی ذات کے حوالے سے بتلا یا اور سمجھایا ہے کہ ذات کے اعتبار سے بھی کوئی اس کا ہم سر اور شریک نہیں ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں۔ سورة المائدہ آیت 75 میں عیسائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان الفاظ میں سمجھایا کہ ابن مریم ( علیہ السلام) صرف اللہ کا رسول ہے اس سے پہلے رسول گزر چکے اس کی والدہ مریم کردار اور گفتار کے لحاظ سے صدیقہ تھی وہ ماں، بیٹا کھانا کھاتے تھے۔ توجہ فرمائیں کہ ہم ان لوگوں کے لیے اپنے دلائل کس طرح واضح کرتے ہیں تاکہ اس پر غور کریں کہ اس کے باوجود لوگ بھٹک جاتے ہیں۔ یہاں ایک اور عقلی دلیل کے ذریعے یہ بات سمجھائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی اولاد قرار نہیں دیا اور نہ ہی زمین و آسمان میں اس کے ساتھ کوئی اور الٰہ موجود ہے۔ اگر کوئی اور دو الٰہ ہوتے تو وہ اپنی مخلوق کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی کوشش کرتے اور ایک دوسرے پر یلغار کرتے یہی صورت حال اللہ کی اولاد ہونے کی صورت میں پیدا ہوتی۔ اس کا ایک بیٹا زیادہ سے زیادہ اختیار لینے کی کوشش کرتا اور اس کے مقابلے میں دوسرا اپنے اختیارات اور اپنی عوام میں اضافے کے درپے ہوتا۔ اس طرح یہ کائنات کئی حصوں میں تقسیم ہوجاتی۔ کیونکہ جس کی اولاد ہوتی ہے اس کا ایک وقت پر کمزور اور ضعیف ہونا لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ اولاد کی ضرورت اور ہر قسم کے تعاون سے مبرّا اور پاک ہے وہ ہر غائب اور ظاہر کو جاننے والا اور اپنی ذات، صفات اور بادشاہی کے حوالے سے بلندوبالا اور ہر قسم کی شراکت اور معاونت سے منزہ اور پاک ہے۔ مسائل 1۔ اگر ” اللہ “ کے علاوہ اور الٰہ ہوتے تو وہ اپنی اپنی مخلوق کو ایک دوسرے سے علیٰحدہ کرنے کی کوشش کرتے۔ 2۔ اگر ایک سے زیادہ الٰہ ہوتے تو وہ ایک دوسرے پر یلغار کرتے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات کے لحاظ سے لوگوں کے شرکیہ اور کفریہ عقیدہ اور کلمات سے پاک ہے۔ تفسیر بالقرآن الٰہ ایک ہی ہے : 1۔ الٰہ ایک ہی ہے اس کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں۔ (البقرۃ : 163) 2۔ تمہارا الٰہ ایک ہی ہے لیکن آخرت کے منکر نہیں مانتے۔ (النحل : 22) 3۔ آپ ﷺ فرما دیں میں تمہاری طرح بشر ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے تمہارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے۔ (الکہف : 110) 4۔ الٰہ تمہارا ایک اللہ ہی ہے۔ (طہ : 98) 5۔ آپ ﷺ فرمادیں میری طرف وحی کی جاتی ہے تمہارا الٰہ صرف ایک ہی الٰہ ہے۔ (الانبیاء : 108) 6۔ تمہارا صرف ایک ہی الٰہ ہے اسی کے تابع ہوجاؤ۔ (الحج : 34) 7۔ ہمارا الٰہ اور تمہارا الٰہ صرف ایک ہی ہے۔ ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔ (العنکبوت : 46) 8۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے جسے میں تلاش کروں۔ (الاعراف : 140) 9۔ اللہ ہی الٰہ ہے وہی اکیلا ہی عبادت کے لائق ہے۔ ( الانعام : 101) 10۔ کوئی اور الٰہ نہ بناؤ الٰہ تو ایک ہی ہے (النحل : 51) 11۔ اسکے سوا کوئی الٰہ نہیں مگر وہ اکیلا ہی ہے ( المائدۃ : 73) 12۔ اعلان کردیں اللہ ہی ایک الٰہ ہے اور میں تمہارے شرک سے بری ہوں۔ (الانعام : 19)
Top