Fi-Zilal-al-Quran - Al-Anbiyaa : 45
وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠   ۧ
وَ : اور لَقَدِ اسْتُهْزِئَ : البتہ مذاق اڑائی گئی بِرُسُلٍ : رسولوں کی مِّنْ قَبْلِكَ : آپ سے پہلے فَحَاقَ : آگھیرا (پکڑ لیا) بِالَّذِيْنَ : ان کو جنہوں نے سَخِرُوْا : مذاق اڑایا مِنْهُمْ : ان میں سے مَّا : جو كَانُوْا : تھے بِهٖ : اس کے ساتھ (کا) يَسْتَهْزِءُوْنَ : مذاق اڑاتے تھے
ان سے کہہ دو کہ ” میں تو وحی کی بنا پر تمہیں متنبہ کررہا ہوں “۔ مگر بہرے پکار کو نہیں سنا کرتے جبکہ انہیں خبردار کیا جائے “۔ ”
قل انمآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اذا ماینذرون (54) ” لوگوخیال کرو ‘ کہیں تم بہرے تو نہیں ہو۔ تم کیوں نہیں سنتے۔ ورنہ تمہارے پیروں تلے سے زمین سرک جائے گی اور دست قدرت تمہیں سیکڑ کر رکھ دے گا۔ ان کو دولت کے گھمنڈ اور مالدری کی مستی سے ڈرایا جاتا ہے۔ سیاق کلام اپنی موثر بات مزید بڑھاتا ہے اور عذاب کے وقت خود ان کی تصویری حالت ان کو بتاتا ہے۔
Top