Siraj-ul-Bayan - Al-Israa : 57
وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا
وَاِنْ : اور نہیں مِّنْ قَرْيَةٍ : کوئی بستی اِلَّا : مگر نَحْنُ : ہم مُهْلِكُوْهَا : اسے ہلاک کرنے والے قَبْلَ : پہلے يَوْمِ الْقِيٰمَةِ : قیامت کا دن اَوْ : یا مُعَذِّبُوْهَا : اسے عذاب دینے والے عَذَابًا : عذاب شَدِيْدًا : سخت كَانَ : ہے ذٰلِكَ : یہ فِي الْكِتٰبِ : کتاب میں مَسْطُوْرًا : لکھا ہوا
وہ جنہیں پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ کی تلاش میں ہیں کہ کون ان میں اس کا زیادہ مقرب ہے اور اس کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں ، بیشک تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے ۔ (ف 2) ۔
2) مکہ والے فرشتوں کی عبادت کرتے تھے عیسائی مسیح (علیہ السلام) و عزیز (علیہ السلام) کو پوجتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ تم جن لوگوں کی عبادت کرتے ہو ، وہ تو خود محتاج ہیں ، اللہ کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی بڑی کوشش یہی رہتی ہے ، کہ اللہ کا تقرب حاصل کیا جائے جب ان کی یہ حالت ہے ، تو کیونکر وہ تمہارے شرک پر خوش ہو سکیں گے ؟ حل لغات : تحویلا : تبدیلی ، پھیرنا ، ہٹانا ۔
Top