Tafseer-e-Haqqani - Al-Ahzaab : 64
وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ
وَاسْتَكْبَرَ : اور مغرور ہوگیا هُوَ : وہ وَجُنُوْدُهٗ : اور اس کا لشکر فِي الْاَرْضِ : زمین (دنیا) میں بِغَيْرِ الْحَقِّ : ناحق وَظَنُّوْٓا : اور وہ سمجھ بیٹھے اَنَّهُمْ : کہ وہ اِلَيْنَا : ہماری طرف لَا يُرْجَعُوْنَ : نہیں لوٹائے جائیں گے
اور فرعون اور اس کے لشکروں نے ناحق کا ملک میں سر اٹھایا تھا اور سمجھ لیا تھا کہ ہماری طرف لوٹ کر نہ لائے جائیں گے
وَ یْومَ الْقِیٰمَۃِ ھم من المقبوحین تک فرعون اور موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ تھا۔ اس کو تمام کرکے ولقد آتینا موسیٰ الکتب الخ سے اس قصہ کے نتائج کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب پہلی قرن یعنی زمانے والے ہلاک ہوچکے تو خلق کی رہنمائی کے لیے ہم نے موسیٰ کو مبعوث کیا۔ اس کو یہ یہ باتیں پیش آئیں، جنگل میں کلام کیا۔ معجزات دیے اور کتاب یعنی تورات عطا کی جو بصارت اور ہدایت اور رحمت تھی۔ سمجھداروں کے لیے اس طرح موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد جب گمراہی کا ایک زمانہ دراز گزر گیا۔ خلق کی ہدایت کے لیے اے محمد ﷺ تجھ کو مبعوث کیا اور تجھ پر قرآن نازل کیا جس میں گزشتہ انبیاء کے صحیح صحیح واقعات تجھ پر ظاہر کئے ورنہ اے محمد ﷺ نہ تو آپ جانب غربی میں تھے، یعنی اس مکان میں جو غربی رخ تھا، جہاں کہ ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو وحی بھیجی۔ اس سے مراد کوہ طور کی وادی ہی ہے جو عرب میں غربی سمت پر واقع ہے، یا اسی وادی کے غربی جانب مراد ہے۔ وَمَاکُنْتَ مِنَ الشّٰہْدِیْنَ اور نہ تو اس معاملہ کا دیکھنے والا تھا۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں، یہ معنی ہوئے کہ نہ تو آپ اس جگہ موجود تھے اور جو موجود بھی ہوتے تو ان وقائع کو نہ دیکھتے۔ وَلٰکِنَّآ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا لیکن موسیٰ ( علیہ السلام) کے عہد سے لے کر تیرے زمانہ تک بہت سے قرن 1 ؎ پیدا کئے۔ فتطاول علیہم العمر پس بعد زمانہ کی وجہ سے علوم اور شرائع معدوم ہوگئے تھے تو ہم پر رسول بھیجنا ضرور ہوا، پھر تفصیل کرتا ہے۔ وماکنت ثاویا ای مقیما فی اھل مدین کہ نہ تو مدین میں رہا کرتا تھا جو تتلوا علیہم آیٰتِنا تو ان مکہ والوں کو ان کے حالات بتا رہا ہے۔ (مقاتل) اور ضحاک کہتے ہیں تو مدین والوں کا رسول نہ تھا، بلکہ ان کا اور رسول تھا شعیب۔ تو اور رسول ہے جو سب کے بعد آیا۔ وَمَا کُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرْ اذ نادَیْنَا اور نہ تو کوہ طور کے پاس تھا، جبکہ ہم نے موسیٰ کو پکارا۔ یہ موسیٰ ( علیہ السلام) کہ کسی دوسرے واقعہ کی طرف اشارہ ہے، جبکہ ستر آدمیوں کو لے کر گئے تھے۔ وَلٰکِنَّ رَحْمَۃً مِّنْ رَّبّْکَ مگر تیرے رب نے اپنے فضل سے تجھ پر وحی کی اور یہ باتیں بتائیں اور تجھ کو رسول بنایا۔ لتنذر قومًا کہ تو ان لوگوں کو متنبہ کرے کہ جن کے پاس رسول نہیں آیا وہ تیرے زمانہ کے لوگ ہیں، یتذکرون تاکہ وہ سمجھیں اور ہدایت پاویں۔
Top