Kashf-ur-Rahman - Al-Muminoon : 70
قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا
قُلِ : آپ کہ دیں اللّٰهُ : اللہ اَعْلَمُ : خوب جانتا ہے بِمَا لَبِثُوْا : کتنی مدت وہ ٹھہرے لَهٗ : اسی کو غَيْبُ : غیب السَّمٰوٰتِ : آسمانوں وَالْاَرْضِ : اور زمین اَبْصِرْ بِهٖ : کیا وہ دیکھتا ہے وَاَسْمِعْ : اور کیا وہ سنتا ہے مَا لَهُمْ : نہیں ہے ان کے لئے مِّنْ دُوْنِهٖ : اس کے سوا مِنْ وَّلِيٍّ : کوئی مددگار وَّلَا يُشْرِكُ : اور شریک نہیں کرتا فِيْ حُكْمِهٖٓ : اپنے حکم میں اَحَدًا : کسی کو
کیا یہ لوگ اس رسول کی شان میں یوں کہتے ہیں کہ اس کو جنون ہے یہ بات نہیں ہے بلکہ رسول ان کے پاس ایک حق بات لیکر آیا ہے لیکن ان کا حال یہ ہے کہ ان میں کے اکثر حق بات سے نفرت کرتے ہیں
(70) کیا یہ لوگ اس رسول کی شان میں یوں کہتے ہیں کہ اس کو جنون ہے اور یہ اس رسول کی طرف جنون اور دیوانگی کو منسوب کرتے ہیں یوں نہیں بلکہ رسول ان کے پاس ایک حق بات لیکر آیا ہے اور ان منکرین کا حال یہ ہے کہ ان میں کے اکثر حق بات سے نفرت کرتے ہیں یعنی پیغمبر کو نہ جنون ہے نہ دیوانگی وہ تو دین حق لے کر آیا اور اسی دین حق کا پرچار کرتا ہے ان دین حق کے منکروں کی حالت یہ ہے کہ ان میں ایسے لوگوں کی اکثریت ہے جو دین حق سے نفرت کرتے ہیں اور ان کو حق کی اشاعت ناگوار معلوم ہوتی ہے یعنی اکثریت ایسے نفرت کرنے والوں کی ہے اور جو کم ہیں وہ تکبر کی وجہ سے اور برادری کے پاس کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے اور دین حق کے منکروں کی خواہش یہ ہے کہ حق بھی ایسا ہو جو ان کی خواہشات کا پیرو اور متبع ہو جو یہ چاہیں ویسا ہی دین حق بھی ہو آگے اس کا جواب ارشاد ہوتا ہے۔
Top