Tafseer-al-Kitaab - Ibrahim : 45
وَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ١ؕ اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ
وَاَنْذِرِ : اور ڈراؤ النَّاسَ : لوگ يَوْمَ : وہ دن يَاْتِيْهِمُ : ان پر آئے گا الْعَذَابُ : عذاب فَيَقُوْلُ : تو کہیں گے الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ظَلَمُوْا : انہوں نے ظلم کیا (ظالم) رَبَّنَآ : اے ہمارے رب اَخِّرْنَآ : ہمیں مہلت دے اِلٰٓى : طرف اَجَلٍ : ایک دن قَرِيْبٍ : تھوڑی نُّجِبْ : ہم قبول کرلیں دَعْوَتَكَ : تیری دعوت وَنَتَّبِعِ : اور ہم پیروی کریں الرُّسُلَ : رسول (جمع) اَوَ : یا۔ کیا لَمْ تَكُوْنُوْٓا : تم نہ تھے اَقْسَمْتُمْ : تم قسمیں کھاتے مِّنْ قَبْلُ : اس سے قبل مَا لَكُمْ : تمہارے لیے نہیں مِّنْ زَوَالٍ : کوئی زوال
اور آباد تھے تم42 بستیوں میں انہی لوگوں کی جنہوں نے ظلم کیا اپنی جان پر اور کھل چکا تھا تم کو کہ کیسا کیا ہم نے ان سے اور بتلائے ہم نے تم کو سب قصے
42:۔ جن ظالموں نے ضد وعناد سے توحید کا انکار کیا اور ہمارے پیغمبروں کو جھٹلایا جن کو عذاب سے ہلاک و برباد کیا ان کی بتاہی کے بعد ان کے شہروں اور علاقوں میں تم آباد ہوئے اور تم نے ان کی تباہی کے آثار سے معلوم کرلیا کہ ہم نے ان مکذبین کا کیا حشر کیا اور پھر ہم نے مثالیں دے دے کر مسئلہ توحید کو اچھی طرح سمجھا دیا مگر اس کے باوجود تم نے انکار کیا اور مسئلہ توحید کو ماننے کا جو موقع ہم نے فراہم کیا تھا اس سے تم نے فائدہ نہ اٹھایا اس لیے اب اگر تمہیں دوبارہ مہلت دی گئی تب بھی تم نہیں مانو گے۔ یا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تم سے پہلے معاندین کے قصص و واقعات بیان کر کے تم کو تنبیہ کی کہ دیکھو اگر نہیں مانو گے تو ان ہلاک شدہ قوموں کی طرح تم پر بھی ہولناک عذاب بھیجا جائے گا۔
Top