Jawahir-ul-Quran - Al-Haaqqa : 16
وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاهِیَةٌۙ
وَانْشَقَّتِ السَّمَآءُ : اور پھٹ جائے گا آسمان فَھِيَ : تو وہ يَوْمَئِذٍ : اس دن وَّاهِيَةٌ : سست ہوگا ۔ کمزور ہوگا
اور پھٹ جائے8 آسمان پھر وہ اس دن بکھر رہا ہے
8:۔ ” وانشقت السماء “ اس دن شدت زلزلہ کی وجہ سے آسمان نہایت کمزور ہوں گے اور ان میں شگاف پڑجائیں گے اور جو فرشتے آسمانوں میں رہتے ہیں وہ آسمانوں کے ان اطراف و جوانب میں ہوں گے جہاں شگاف نہیں ہوں گے۔ ای جوانب السماء واطرافھا التی بقیت بعد الانشقاق (مظہری ج 10 ص 52) ۔ ” ویحمل عرش ربک “ اس دن اللہ تعالیٰ کے عرش کو فرشتوں کی آٹھ صفیں اٹھائے ہوں گی جن کی مجموعی تعداد کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں یہ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے بعض نے کہا مراد آٹھ فرشتے ہیں۔ قال ابن عباس ثمانیۃ صفوٖ من الملائکۃ لایعلم عددھم الا اللہ، وقال ابن زیدھم ثمانیۃ املاک (قرطبی ج 18 ص 266) ۔ قیامت کے دن کسی شخص کی کوئی بات اور کسی کا کوئی عمل چھپا نہ رہے گی، بلکہ سب کچھ سامنے آجائیگا، کسی کی حق تلفی نہ ہوگی، نہ کسی پر زیادتی ہوگی اور ہر ایک کو اس کے عملوں کی پوری پوری جزاء وسزا ملے گی۔
Top