Maarif-ul-Quran - Aal-i-Imraan : 56
فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ
فَاَمَّا : پس الَّذِيْنَ : جن لوگوں نے كَفَرُوْا : کفر کیا فَاُعَذِّبُھُمْ : سوا نہیں عذاب دوں گا عَذَابًا : عذاب شَدِيْدًا : سخت فِي : میں الدُّنْيَا : دنیا وَالْاٰخِرَةِ : اور آخرت وَمَا : اور نہیں لَھُمْ : ان کا مِّنْ : سے نّٰصِرِيْنَ : مددگار
سو وہ لوگ جو کافر ہوئے ان کو عذاب کروں گا سخت عذاب دنیا میں اور آخرت میں اور کوئی نہیں ان کا مدد گار
ربط آیات
اوپر آیت میں مذکور تھا کہ " میں ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان قیامت کے روز عملی فیصلہ کروں گا " اس آیت میں اس فیصلہ کا بیان ہے۔
خلاصہ تفسیر
تفصیل (فیصلہ کی) یہ ہے کہ جو لوگ (ان اختلاف کرنے والوں میں) کافر تھے سو ان کو (ان کے کفر پر) سخت سزا دوں گا (مجموعہ دونوں جہان میں) دنیا بھی (کہ وہ تو ہوچکی) اور آخرت میں بھی (کہ وہ باقی رہی) اور ان لوگوں کا کوئی حامی (طرف دار) نہ ہوگا اور جو لوگ مومن تھے اور انہوں نے نیک کام کئے تھے سو ان کو اللہ تعالیٰ ان کے (ایمان اور نیک کاموں کا) ثوابدیں گے اور (کافر کو سزا ملنے کی وجہ یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ محبت نہیں رکھتے (ایسے) ظلم کرنے والوں سے (جو اللہ تعالیٰ یا پیغمبروں کے منکر ہوں یعنی چونکہ یہ ظلم عظیم ہے، معافی کے قابل نہیں، اس لئے مبغوض شدید ہو کر سزا یاب ہوجاتا ہے) یہ (قصہ مذکورہ) ہم تم کو (بذریعہ وحی کے) پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں جو کہ (آپ کے) منجملہ دلائل (نبوت) کے ہے اور منجملہ حکمت آمیز مضامین کے ہے۔
معارف و مسائل
مصائب دنیا کفار کے لئے کفارہ نہیں ہوتے مومن کے کفارہ ہو کر مفید ہوتے ہیں
(فاعذبھم عذابا شدیدا فی الدینا والاخرۃ) اس آیت کے مضمون پر ایک خفیف سا اشکال ہوتا ہے، کہ قیامت کے فیصلہ کے بیان میں اس کہنے کے کیا معنی کہ میں دنیا و آخرت میں سزا دوں گا، کیونکہ اس وقت تو سزائے دنیوی نہیں ہوگی۔
حل اس کا یہ ہے کہ اس کہنے کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی حاکم کسی مجرم کو یہ کہے کہ اس وقت تو ایک سال کی قید کرتا ہوں، اگر جیل خانہ میں کوئی شرارت کی تو دو سال کی سزا کروں گا، فقط اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ دو سال آج کی تاریخ سے ہوں گے، پس اس بنا پر یقینی ہے کہ شرارت کے بعد دو سال کا حکم ہوجاوے گا، حاصل یہ ہوتا ہے کہ شرارت پر اس مجموعہ کی تکمیل بطور انضمام ایک سال زائد کے مرتب ہوجاوے گی۔ اسی طرح یہاں سمجھنا چاہئے کہ دنیا میں تو سزا ہوچکی اس کے ساتھ سزائے آخرت منضم ہو کر مجموعہ قیامت کے روز تکمیل کردیا جائے گا۔ یعنی سزائے دنیا کفارہ نہ ہوگا سزائے آخرت کے لئے بخلاف اہل ایمان کے کہ اگر ان پر دنیا میں کوئی مصیبت وغیرہ آتی ہے تو گناہ معاف ہوتے ہیں اور عاقبت کی عقوبت خفیف یا دفع ہوجاتی ہے، اور اسی وجہ سے اس کی طرف لا یحب الظالمین میں اشارہ فرمایا گیا، یعنی اہل ایمان بسبب ایمان کے محبوب ہیں، محبوب کے ساتھ ایسے معاملات ہوا کرتے ہیں اور اہل کفر بسبب کفر کے مبغوض ہیں، مبغوض کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہوتا۔ (بیان القرآن)
Top