Mutaliya-e-Quran - At-Tawba : 8
وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ
وَلَوْ : اور اگر اَنَّا كَتَبْنَا : ہم لکھ دیتے (حکم کرتے) عَلَيْهِمْ : ان پر اَنِ : کہ اقْتُلُوْٓا : قتل کرو تم اَنْفُسَكُمْ : اپنے آپ اَوِ اخْرُجُوْا : یا نکل جاؤ مِنْ : سے دِيَارِكُمْ : اپنے گھر مَّا فَعَلُوْهُ : وہ یہ نہ کرتے اِلَّا : سوائے قَلِيْلٌ : چند ایک مِّنْھُمْ : ان سے وَلَوْ : اور اگر اَنَّھُمْ : یہ لوگ فَعَلُوْا : کرتے مَا : جو يُوْعَظُوْنَ : نصیحت کی جاتی ہے بِهٖ : اس کی لَكَانَ : البتہ ہوتا خَيْرًا : بہتر لَّھُمْ : ان کے لیے وَاَشَدَّ : اور زیادہ تَثْبِيْتًا : ثابت رکھنے والا
مگر اِن کے سوا دوسرے مشرکین کے ساتھ کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے جبکہ اُن کا حال یہ ہے کہ تم پر قابو پا جائیں تو نہ تمہارے معاملہ میں کسی قرابت کا لحاظ کریں نہ کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا وہ اپنی زبانوں سے تم کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر دل ان کے انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں
كَيْفَ [ کیسے (ہوگا کوئی عہد) ] وَ [ اس حال میں کہ ] اِنْ [ اگر ] يَّظْهَرُوْا [ وہ لوگ غالب ہوں ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] لَا يَرْقُبُوْا [ تو وہ لحاظ نہیں کریں گے ] فِيْكُمْ [ تم میں ] اِلًّا [ کسی رشتہ داری کا ] وَّلَا ذِمَّةً ۭ [ اور نہ کسی عہد کا ] يُرْضُوْنَكُمْ [ وہ راضی کرتے ہیں تم لوگوں کو ] بِاَفْوَاهِهِمْ [ اپنے مونہوں سے (یعنی باتوں سے) ] وَ [ حالانکہ ] تَاْبٰي [ انکار کرتے ہیں ] قُلُوْبُهُمْ ۚ [ ان کے دل ] وَاَكْثَرُهُمْ [ اور ان کے اکثر ] فٰسِقُوْنَ [ عہد سے نکلنے والے ہیں ] ء ل ل : (ن) الا ۔ کسی حالت کا اتنا صاف اور واضح ہونا کہ انکار ممکن نہ ہو ۔ رشتہ دار ہونا ۔ ال ، رشتہ داری ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 8 ۔ ذم م ۔ (ن) ۔ ذما : کسی کی مذمت کرنا ۔ برا بھلا کہنا ۔ مذموم ۔ اسم المفعول ہے۔ مذمت کیا ہوا ۔ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا [ نتیجتا تو بیٹھ رہے گا ملامت کیا ہوا ، دھتکارا ہوا ] 17:22 ۔ ذمۃ ، ایسی ذمہ داری یا عہد جس کو پورا کرنا قابل مذمت ہو۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 8 ۔ (آیت ۔ 8) كَيْفَ کے بعد پچھلا پورا جملہ یکون للمشرکین عہد محذوف ہے ۔
Top