Mafhoom-ul-Quran - Al-Kahf : 107
ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا
ثُمَّ : پھر رَدَدْنَا : ہم نے پھیر دی لَكُمُ : تمہارے لیے الْكَرَّةَ : باری عَلَيْهِمْ : ان پر وَاَمْدَدْنٰكُمْ : اور ہم نے تمہیں مدد دی بِاَمْوَالٍ : مالوں سے وَّبَنِيْنَ : اور بیٹے وَجَعَلْنٰكُمْ : اور ہم نے تمہیں کردیا اَكْثَرَ : زیادہ نَفِيْرًا : جتھا (لشکر)
جو لوگ ایمان لائے اور نیک کیے عمل ان کے لیے بہشت کے باغ مہمانی ہوں گے۔
نیک اعمال کرنیوالوں کی مہمانی تشریح : یعنی ” قیامت کے روز “ یہ ذوالقرنین کے فقرے ” قیامت کے وعدہ برحق “ کی سچائی کو ظاہر کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے۔ اس پوری سورت میں یہی مضمون تینوں قصوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ جو آنحضرت ﷺ نے لوگوں کے سامنے رکھا، یعنی توحید کفر و شرک، نیکی بدی، دنیا و آخرت، امن و فساد، نفرت و محبت، بغض و خلوص اور پھر ان کے بدلے میں ملنے والی جنت و دوزخ کا ذکر بڑے ہی احسن انداز سے کیا گیا ہے۔ کاش کہ آج کا مسلمان سچا اور پکا مسلمان بن جائے۔
Top