Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Maarif-ul-Quran - An-Nahl : 65
وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۠ ۧ
وَاللّٰهُ
: اور اللہ
اَنْزَلَ
: اتارا
مِنَ
: سے
السَّمَآءِ
: آسمان
مَآءً
: پانی
فَاَحْيَا
: پھر زندہ کیا
بِهِ
: اس سے
الْاَرْضَ
: زمین
بَعْدَ
: بعد
مَوْتِهَا
: اس کی موت
اِنَّ
: بیشک
فِيْ
: میں
ذٰلِكَ
: اس
لَاٰيَةً
: نشانی
لِّقَوْمٍ
: لوگوں کے لیے
يَّسْمَعُوْنَ
: وہ سنتے ہیں
اور خدا ہی نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کو اس مرنے کے بعد زندہ کیا۔ بیشک اس میں سننے والوں کے لئے نشانی ہے۔
رجور بسوئے دلائل توحید بتذکیر انعامات خداوند حمید قال اللہ تعالیٰ : واللہ انزل من السماء .... الیٰ .... واکثرھم ھم الکفرون۔ (ربط) اوپر سے بہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کا ذکر چلا آرہا ہے اور پھر اسی طرح سے یہ پیرایہ انعامات دلائل توحید کو بیان فرماتے ہیں اور یہ دلائل معاد بھی ہیں اور دلائل قدرت بھی ہیں اور دلائل ہدایت بھی ہیں اور دلائل رحمت بھی ہیں۔ دور تک اسی طرح سلسلہ کلام چلا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قسم قسم کے انعامات کو ذکر فرمایا جو علاوہ نعمت ہونے کے اس کے کمال علم اور کمال قدرت اور حکمت کے دلائل بھی ہیں۔ (1) چناچہ واللہ انزل من السماء ماء سے اپنی قدرت کا بیان شروع فرمایا کہ آسمان سے پانی برسانا اور خشک زمین کا سرسبز و شاداب کردینا اور جانوروں کے پیٹ سے دودھ کا، خون اور گربر سے پاک صاف نکالنا اور قسم قسم کے پھلوں کا تمہارے لیے پیدا کرنا وغیرہ سب اللہ کی قدرت کے کرشمے ہیں اور بنی نوع انسان کے لیے عجیب عجیب نعمتیں ہیں۔ (2) یہاں تک حیوانات میں چرندوں کے منافع کو بیان کیا کہ انسان ان کے دودھ سے فائدہ اٹھاتا ہے اب آگے پرندوں کے منافع کو بیان فرماتے ہیں چناچہ واوحی ربک الی النحل الخ سے بھی اپنی قدرت کی ایک دلیل بیان فرمائی وہ یہ کہ شہد کی مکھیوں کا بالہام خداوندی ایک نہایت خوبصورت اور پر حکمت گھر بنانا جس کو ایک مہندس بھی نہ بنا سکے اور پھر ان کا مختلف پھلوں کو کھا کر شہد کا نکالنا اور پھر اس شہد کا مختلف الالوان ہونا یعنی کسی شہد کا سپید ہونا اور کسی کا سرخ ہونا اور کسی کا گلابی ہونا وغیرہ وغیرہ اور پھر مختلف امراض میں اس کا ذریعہ شفا ہونا یہ کسی مادہ اور طبیعت کا اقتضاء نہیں بلکہ کسی قادر اور حکیم کردگار کی قدرت و حکمت کا کرشمہ ہے اور پھر آیت واللہ خلقکم ثم یتوفکم الخ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے مختلف حالات اور قسم قسم کے تغیرات سے اپنی قدرت کاملہ کا اظہار فرمایا کہ چند قطروں سے ایک جاندار کا پیدا کرنا اور اس کو مختلف قسم کے حواس اور اعضاء کا عطا کرنا اور پھر اس کو جوان اور بوڑھا بنانا اور قوت کے بعد اس کو ضعف میں مبتلا کرنا یہ اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ کوئی ذات والا صفات ہے کہ جس نے اس انسان کو پیدا کیا اور عدم کے بعد اس کو وجود میں لایا اور مختلف حالات سے گزار کر اس کو موت اور فنا کے گھاٹ اتار دیا پس جس ذات والا صفات کے ہاتھ میں تمہارا وجود اور عدم اور موت اور حیات اور قوت اور ضعف ہے وہی تمہارا مالک اور وہی تمہارا خدا ہے ولادت سے لے کر موت تک عمر کی جو منزلیں اس نے مقرر کردی انسان ان کو طے کرکے اپنی آخری منزل تک پہنچ جاتا ہے انسان کی قدرت میں یہ نہیں کہ لڑکپن یا جوانی کی منزل میں کچھ زیادہ ٹھہر جائے۔ لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے اپنی خوشی سے آئے نہ اپنی خوشی چلے (3) اور پھر واللہ فضل بعضکم علی بعض فی الرزق سے بھی انسانی حالات سے اپنی قدرت و حکمت کو ثابت فرمایا مگر دوسرے اعتبار سے یعنی امارت اور غربت فراخی اور تنگدستی کے اعتبار سے لوگوں کا مختلف ہونا یہ بھی اس کی قدرت کی دلیل ہے کسی کو امیر بنانا اور کسی کو فقیر اور کسی کو عاقل اور دانا اور کسی کو جاہل اور بےوقوف۔ اور بیوقوفوں کو خوب رزق دیا اور عقل مندوں اور علم والوں کو بھوک سے مارا تاکہ سمجھ جائیں سمجھنے والے کہ دنیاوی رزق کی کمی اور زیادتی علم اور عقل پر موقوف نہیں یہ سب خدا کی قدرت اور مشیت کا کرشمہ ہے۔ (4) اور پھر واللہ جعل لکم من انفسکم ازواجا الخ میں اپنی ایک خاص نعمت کو بیان کیا جو کہ اس کی قدرت و حکمت کی دلیل بھی ہے کہ تمہاری محبت اور الفت اور موانست کے لیے تمہارے لیے عورتیں پیدا کیں اور پھر ان سے تم کو بیٹے اور پوتے عطا کیے اور پاکیزہ روزیاں تم کردیں پھر ان دلائل مذکورہ کا نتیجہ بیان فرمایا افبالباطل یؤمنون وبنعمۃ اللہ ہم یکفرون کیا تم اللہ تعالیٰ کے انعامات اور احسانات کا انکار کرتے ہو اور باطل چیزوں کی پرستش کرتے ہو جن سے تم کو نہ نفع پہنچ سکتا ہے اور نہ نقصان۔ (5) اور پھر مومن اور کافر کی دو مثالیں بیان کیں ضرب اللہ مثلا عبدا مملوکا الخ اور ضرب اللہ مثلا رجلین الخ اور ان دو مثالوں کے بعد پھر دلائل علم، قدرت کو بیان کیا جس کا ذکر پہلے سے چلا آرہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو آسمان اور زمین کے تمام پوشیدہ چیزوں کا علم ہے تو کمال علم ہوا اور کمال قدرت یہ ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (6) اس کے بعد حق تعالیٰ نے پھر اپنے آثار قدرت اور انسان پر اپنی مرحمت اور مکرمت کے حالات کو بیان کیا تاکہ بندے اللہ کی نعمت کو پہچانیں اور نعمت سے منعم تک پہنچیں۔ تفصیل دلائل قدرت و دلائل نعمت برائے اثبات الوہیت و وحدانیت دلیل اول : اور اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس پانی سے زمین کو بعد خشک اور مردہ ہوجانے کے زندہ فرمایا زندہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پانی برساکر اس میں قوت نمو پیدا کی اور اس سے کھیتی اور سبزہ کو اگایا بیشک اس میں یعنی آسمان سے بارش نازل کرنے میں اور پھر بارش سے مردہ زمین کو زندہ کرنے میں ہماری کمال قدرت کی نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو دل کے کانوں سے ہمارے قرآن کی آیتیں سنتے ہیں اور جو لوگ صرف کانوں سے سنتے ہیں اور دل سے متوجہ نہیں ہوتے ان کو آیات قرآنی سے کوئی نفع نہیں ہوتا۔ دلیل دوم : اور بیشک تمہارے لیے چوپایوں میں عبرت ہے اگر تم ان میں غور و فکر کرو تو جہالت سے گزر کر علم اور معرفت کے مقام تک پہنچ جاؤ اور خدا کی کمال قدرت کو معلوم کرلو پلاتے ہیں ہم تم کو اس چیز سے جو ان کے پیٹوں میں ہے یعنی ہم ان چوپایوں کے پیٹ میں سے تمہارے لیے غذا پیدا کرتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ان کے پیٹ میں سوائے گوبر اور خون کے کیا ہے ہم اپنی کمال قدرت سے گوبر اور خون کے درمیان سے خالص دودھ نکالتے ہیں جو پینے والوں کے لیے نہایت لذیذ اور خوشگوار ہوتا ہے۔ یعنی باوجود یکہ دودھ گوبر اور خون کے درمیان سے نکلتا ہے مگر بایں ہمہ خالص سفید ہوتا ہے اور خون اور گوبر کے آمیزش سے بالکلیہ پاک و صاف ہوتا ہے اور اس کی بو اور مزہ میں ذرہ برابر خون اور گوبر کا اثر نہیں ہوتا اس سے خدا تعالیٰ کی کمال قدرت کا ظہور ہوتا ہے کہ دوناپاک اور گندی اور بدبو دار چیزوں کے درمیان سے کیسی عمدہ غذا پیدا فرما دی اور مطلب یہ ہے کہ تم خدا کی قدرت اور نعمت میں غور کرو ہم تم کو دودھ جیسی عمدہ غذا پلاتے ہیں جو خون اور گوبر کی نجاست اور کدورت کے شائبہ سے خالص اور پاک ہوتی ہے اور وہ دودھ آسانی سے حلق سے اتر جاتا ہے اور لذیذ اور خوشگوار ہے اور ہضم بھی خوب ہوتا ہے غرض یہ کہ جب جانوروں کے شکم میں گھاس وغیرہ پہنچتا ہے تو ہضم اور طبخ کے بعد کچھ حصہ گوبر بن جاتا ہے اور کچھ حصہ پیشاب بن جاتا ہے خون تو رگوں میں چلا جاتا ہے اور دودھ تھنوں میں آجاتا ہے اور ہر چیز اپنے اپنے مخرج سے نکلتی اور دوسری چیز کے ساتھ نہیں ملتی ہے۔ یہ سب خدا کی قدرت کے کرشمہ ہے کہ شکم حیوان سے جو خون اور گوبر کا منبع ہے اس سے خالص دودھ نکالتا ہے اور اس عمدہ غذا سے تم کو سیراب کرتا ہے جس میں نہ خون کی رنگت ہے اور نہ گوبر کی بدبو ہے جیسا کہ ماں کے پستان میں خون ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی لطیف حکمت سے سرپستان میں ایک چھوٹا سا سوراخ پیدا فرما دیا اور مسامات تنگ کر دئیے اس میں سے دودھ چھن کر اور صاف ہو کر نکلتا ہے جو بچہ کے لیے بہترین لطیف غذا ہے یہ صنعت سوائے خداوند قدیر کے کون کرسکتا ہے پس جس نے تمہارے لیے یہ نعمت پیدا کی اسی کی پرستش کرو۔ دلیل سوم : اور منجلہ دلائل قدرت و الوہیت یہ ہے کہ تم کھجور اور انگور کے پھلوں سے مست کرنے والی شراب بناتے ہو اور اچھی روزی بناتے ہو جیسے خرمائے خشک اور کشمش اور کھجور اور انگور کا شیرہ اور سرکہ بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے جو عقل علیم رکھتے ہیں خدا کی قدرت کی نشانی ہے آخر یہ چیزیں کس نے بنائیں اور کس نے اس میں یہ شیرینی اور لذت پیدا کی یہ آیت شراب کے حرام ہونے سے پہلے نازل ہوئی مگر اس آیت میں شراب کی حرمت کی طرف اشارہ موجود ہے کیونکہ سکرا کو رزق حسن (اچھی روزی کے مقابلہ میں ذکر فرمایا) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شراب اچھی روزی نہیں اور یہی معنی حرام کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت پر خاص عنایت فرمائی کہ ان کی عقلوں کی حفاظت کے لیے شراب کو حرام کردیا۔ دلیل چہارم : گزشتہ آیت میں حیوانات چرند سے خالص دودھ نکالنے کا بیان فرمایا اب حیوانات پرند میں سے شہد کی مکھی کے منافع بیان فرماتے ہیں اور الہام کیا تیرے پروردگار نے شہد کی مکھیوں کی طرف یعنی ان کے دل میں ڈالا کہ تم پہاڑوں میں اور درختوں میں اپنا گھر بناؤ یعنی ایسی بلند اور اونچی جگہ پر اپنا چھتہ بناؤ جہاں ہر ایک کا ہاتھ نہ پہنچے پھر اس کو یہ القاء ہوا کہ تو ہر قسم کے پھلوں میں سے کھا اور ان کو چوس پھر تیسری بات اس کو یہ القاء ہوئی کہ تو اپنے پروردگار کی ان راہوں پر چل جو اس نے تیرے لیے مسخر اور آسان کی ہیں تجھے ان راہوں پر چلنا دشوار نہیں۔ اب آگے اس کا نتیجہ بیان فرماتے ہیں کہ ان مکھیوں کے پیٹوں سے یعنی مونہوں سے ایک پینے کی چیز نکلتی ہے یعنی شہد۔ جس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں یعنی سفید اور سرخ اور زرد اور سبز نیز اس شہد میں لوگوں کی مختلف بیماریوں کے لیے شفا ہے۔ بیشک شہد کی مکھی میں قدرت ربانی کی کھلی نشانی ہے اس گروہ کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں اسی ایک شہد کی مکھی میں خدا تعالیٰ کی قدرت و الوہیت کے بہت سے دلائل ہیں بشرطیکہ غور کریں جو شخص شہد کی مکھی کے عجیب و غریب احوال میں ذرا بھی غور کرے گا وہ ایک فاعل مختار اور قادر کردگار کے وجود سے انکار نہیں کرسکتا۔ (1) شہد کی مکھی سے خدا تعالیٰ کی کمال قدرت کا اظہار ہوتا ہے کسی حقیر و ذلیل مکھی سے کیسی عمدہ اور لذیذ اور صحت بخش چیز خدا نے نکالی (2) اس کے چھتوں کے خانوں سے بھی حیرت ہوتی ہے ہر ایک خانہ مسندس مساوی الاضلاع ہوتا ہے اور آپس میں سب برابر ہوتے ہیں گویا کہ پرکار سے بنائے گئے ہیں یہ بات بدون الہام خداوندی ممکن نہیں۔ (3) نیز شہد کی مکھیوں پر ایک ایک مکھی ملکہ ہوتی ہے جس کا حکم سب مکھیاں مانتی ہیں۔ اور یہ ملکہ، جثہ اور خلقت میں دوسری مکھیوں سے بڑی ہوتی ہے اور چھتے کی تمام مکھیاں اس کی فرمانبردار ہوتی ہیں چھتوں کے دروازوں پر دربان اور چوکیدار ہوتے ہیں جو اور مکھیوں اور کیڑوں کو اندر نہیں آنے دیتے۔ (4) قسم قسم کے پھلوں کا رس چوسنے کے لیے دور دور جاتی ہیں اور اپنے مکان اور راستے کو نہیں بھولتیں اور ایک چھتے کی مکھیاں دوسرے چھتے پر نہیں جاتیں۔ یہ وہ عجیب و غیرب خواص ہیں جن کا حصول بغیر الہام الٰہی ممکن نہیں پھر اس میں سے شہد نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لیے شفاء ہے اس میں عقلاء کو کلام نہیں لیکن بعض طبیب اس میں کلام کرتے ہیں۔ امام فخر الدین رازی (رح) تحریر کرتے ہیں کہ خدا نے یہ نہیں فرمایا کہ شہد میں ہر مرض کے لیے شفاء ہے اور معجونوں میں کوئی بھی معجون ایسی نہیں جس میں اطباء نے شہد تجویز نہ کیا ہو۔ مگر بعض علماء کا خیال ہے کہ شہد واقع میں ہر مرض کی دوا ہے بعض مواقع میں بعض امراض میں اس کا اثر ظاہر نہ ہونا اس کے شفاء ہونے کے منافی نہیں جو دوا جس مرض کے لیے مخصوص ہے بعض اوقات اس کا اثر بھی اس مرض پر ظاہر نہیں ہوتا۔ حدیث میں ہے، آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اپنے اوپر دو شفاؤں کو لازم پکڑو یعنی شہد اور قرآن، شیخین ؓ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میرے بھائی کو دست آتے ہیں۔ حضور پر نور ﷺ نے فرمایا اس کو شہد پلا اس نے اس کو شہد پلایا پھر آپ ﷺ کے پاس آیا۔ اور عرض کیا کہ میں نے اس کو شہد پلایا مگر اس کے دست اور بڑھ گئے حضور اکرم ﷺ نے فرمایا پھر پلا، تین مرتبہ اس نے شہد پلایا اور ہر مرتبہ یہی آکر کہا کہ میں نے اس کو شہد پلایا تھا اس کے دست اور بڑھ گئے۔ آپ ﷺ نے اس کو ہر مرتبہ یہی جواب دیا جب چوتھی مرتبہ آیا تو آپ ﷺ نے اس سے پھر یہی فرمایا کہ اس کو پھر شہد پلا اس نے کہا کہ میں نے اس کو پلایا مگر اس کے دست بڑھتے جاتے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے اس نے اس کو پھر شہد پلایا اور خدا نے اس کو شفاء دی۔ اشارہ اس طرف تھا کہ اس کو شہد پلائے جا انشاء اللہ اس کو نفع ہو کر رہے گا مگر تیرے بھائی کا پیٹ ایسا ہوگیا ہے کہ اس کو ایک یا دو دفعہ کا شہد پلانا کافی نہ ہوا۔ غرض یہ کہ حدیث قواعد طبیہ کے خلاف نہیں۔ بہت سے اقسام کے اسہال میں خود اطباء نے شہد کو مسہل تجویز کیا ہے۔ ان اطباء کا قول یہ ہے کہ شہد صفراء والوں کے لیے مضر ہے حرارت کو بڑھاتا ہے اور گرم مزاج والوں کو نقصان دیتا ہے اور پیاس لگاتا ہے سو خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ شہد کل مرضوں کی دوا ہے۔ ” شفاء “ نکرہ ہے۔ مقام اثبات میں وارد ہوا ہے عموم پر دلالت نہیں کرتا۔ غایت سے غایت ہے کہ شفاء کی تکوین تعظیم کے لیے لی جائے تو اس سے شہد کا شفاء عظیم ہونا مفہوم ہوگا۔ عموم، مفہوم نہ ہوگا اور اکثر مرضوں کی دواء شہد کو اطباء بھی بتلاتے ہیں اور یہ سب کے نزدیک مسلمہ ہے کہ اس کا نفع مضرت سے بڑھا ہوا ہے۔ خصوصا اصحاب بلغم اور شیوخ مردوزن کے لیے تو مجرب تریاق ہے اور معجونوں کا اس سے خالی نہ ہونا اس کی قدر و منزلت ثابت کرتا ہے کہ اسی میں شفاء عظیم ہے۔ نیز اطباء نے شہد کو ” جالی “ یعنی معدہ کا چلا کرنے والا لکھا ہے اور تمام امراض کی اصل معدہ ہے تو جب معدہ صاف ہوگا تو بیماری کیوں کر آئے گی اس لیے حدیث میں آیا ہے کہ علی الصبح ہر روز تین انگلیاں شہد کی چاٹ لیا کرو۔ خلاصہ کلام یہ کہ شہد کی مکھی قدرت خداوندی کا ایک عجیب کرشمہ ہے کہ اگر کسی کے کاٹ لے تو بلبلا اٹھے یہ تو اس کی سمیت ہوئی اور اس کا شہد تریاق اور شفاء عظیم ہے۔ یہاں تک اللہ تعالیٰ نے حیوانات کے چرند اور پرند میں اپنے عجائب قدرت کو بیان فرمایا اب خود انسان میں اپنے عجائب قدرت کو بیان فرماتے ہیں۔ دلیل پنجم : اور من جملہ دلائل قدرت کے ایک دلیل پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو پیدا کیا اور عدم سے وجود میں لایا اور ہر ایک کی عمر کی مدت مقرر کی پھر تم کو مار ڈالے گا اور دوبارہ عدم میں لے جائے گا اور تم میں سے کچھ ایسے بھی ہیں کہ جو ذلیل اور ناکارہ عمر کی طرف لوٹا دئیے جاتے ہیں تاکہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے یعنی ایسا بوڑھا پھوس ہوجائے کہ عقل بھی جاتی رہے اور عالم ہونے کے بعد جاہل بن جائے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ مارنے اور جلانے پر قادر ہے ویسے ہی وہ عالم سے جاہل بنانے پر بھی قادر ہے پس جس کے ہاتھ میں تمہارا وجود اور عدم اور علم اور جہل ہے اس کی پرستش کرو۔ بڑھاپے میں ہوش و حواس میں تو سب کے ہی فتور آجاتا ہے مگر جو قرآن خواں ہیں خدا ان کی مدد کرتا ہے۔ وہ ارذل العمر کو نہیں پہنچتا۔ بہر حال انسان کا نطفے سے پیدا ہونا اور پھر اس کا بوڑھا ہو کر مرجانا مادہ اور طبیعت کا کام نہیں کیونکہ مادہ اور طبیعت تو بےشعور ہیں بلکہ یہ کسی مدبر حکیم کا کام ہے۔ بیشک اللہ علم والا قدرت والا ہے کہ اس کے علم اور قدرت کی کوئی حد نہیں اور نہ اس کے لیے فناء وزوال ہے بندہ کو چاہئے کہ اپنے علم اور قوت پر گھمنڈ نہ کرے بڑھاپے میں نہ علم رہتا ہے نہ قدرت رہتی ہے۔ اب آئندہ آیت میں انسان کے حالات مختلفہ سے اپنی قدرت پر استدلال فرماتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ انسان کا عدم سے وجود میں آنا اور پھر اس کا نشوونما پانا اور بچپن اور جوانی اور بڑھاپے کی منزلین طے کرکے پردہ عدم میں پہنچ جانا یہ تمام امور نہ اتفاقی ہیں اور نہ طبعی ہیں بلکہ کسی علیم و قدیر کی ودرت کا کرشمہ ہیں ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے عمروں کا تفاوت بیان کیا اب آئندہ، ارزاق کا تفاوت بیان کرتے ہیں کہ جس طرح بنی آدم کی عمریں مختلف اور متفاوت ہیں اسی طرح ان کی روزیاں بھی متفاوت ہیں۔ دلیل ششم : اور من جملہ دلائل قدرت اور الوہیت میں سے ہے کہ اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر روزی میں فضیلت دی۔ کسی کو امیر بنانا اور کسی کو فقیر بنایا کسی کو مالک اور آقا بنایا اور کسی کو مملوک اور غلام بنایا غرضیکہ بنی آدم کو اوصاف متباین اور متفاوت پر پیدا کیا۔ مطلب یہ ہے کہ سب کا رزق اس کے قبضہ قدرت میں ہے وہ بعض کو زیادہ دیتا ہے اور بعض کو کم اور کسی بندی کے اختیار میں نہیں کہ اس تفاوت کو ختم کر دے اور اس اختلاف اور تفاوت میں اس کی حکمت بالغہ ہے جس کے سمجھنے سے بندوں کی عقلیں قاصر ہیں اور اس کے اسباب کے ادراک سے عاجز اور درماندہ ہیں جس طرح خدا تعالیٰ نے اس ظاہری رزق یعنی مال، و دولت میں تفاوت رکھا۔ اسی طرح معنوی رزق یعنی علم و عقل اور فہم اور حسن صورت اور حسن سیرت اور صحت اور مرض اور ضعف اور قوت اور بصارت اور بصیرت میں بھی تفاوت رکھا کسی کو زیادہ عقل دی اور کسی کو کم کسی کو قوی اور جسیم اور ہیکل بنایا اور کسی کو ضعیف اور ناتواں بنایا کسی کو عاقل اور کسی کو ناداں کسی کو عالم اور کسی کو جاہل کسی کو حسین اور کسی کو بدشکل بنایا۔ غرض یہ کہ دنیا کا سارا نظام اسی اختلاف اور تفاوت پر مبنی ہے اگر سب یکساں ہوجائیں تو نظام عالم درہم برہم ہوجائے اور یہ تفاوت اور تقسیم اللہ کی قدرت اور حکمت کا کرشمہ ہے اگر سب یکساں ہوجائیں تو نظام عالم درہم برہم ہوجائے اور یہ تفاوت اور تقسیم اللہ کی قدرت اور تقسیم اللہ کی قدرت اور حکمت کا کرشمہ ہے اگر یہ بات علم و عقل اور فہم اور دانش پر موقوف ہوتی تو دنیا میں کوئی بدعقل اور جاہل دولت مند اور مالدار نظر نہ آتا اور کوئی عالم اور عاقل دنیا میں خوار اور نادار نہ ہوتا۔ حالانکہ معاملہ برعکس ہے ظاہری صورت کے لحاظ سے سب انسان یکساں ہیں۔ مگر صفات اور کمالات کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ کارخانہ عالم انہی اختلافات اور تباین و تفاوت پر مبنی ہے اگر سب آدمی سب باتوں میں یکساں ہوجائیں تو کیوں کائی حاکم ہو اور کوئی محکوم اور کوئی مالدار اور کوئی نادار اور کوئی مالک مکان اور کوئی کرایہ دار اور دنیا کا کارخانہ اسی اختلاف سے چل رہا ہے پس جن کو اللہ کی طرف سے رزق میں فضیلت اور وسعت دی گئی اور اللہ نے ان کو سردار اور امیر اور دولت مند بنایا اور ان کے پاس مال و دولت بھی ہے اور ان کے پاس غلام بھی ہیں وہ اپنی روزی اور دولت اپنے غلاموں کو دینے والے نہیں کہ وہ سب آقا اور غلام اس روزی میں برابر ہوجائیں۔ یعنی آقا اور مالدار اس پر راضی نہیں کہ اپنے مال و دولت کو اپنے غلاموں پر اس طرح تقسیم کردیں کہ غلام اور آقا سب برابر ہوجائیں۔ حالانکہ وہ بھی تمہارے ہم جنس اور مثل اور ہم شکل ہیں۔ اور وہ مال ان کا مخلوق (پیدا کیا ہوا نہیں) پس یہ کیسے ممکن ہے کہ خدا کی مملوک اور اس کی مخلوق خدا کی خدائی میں شریک ہوجائے۔ عجیب احمق لوگ ہیں کہ اپنے غلاموں کو تو اپنا شریک اور برابر بنانا پسند نہیں کرتے مگر خدا کے غلاموں کو اور اس کے پیدا کئے ہوئے بندوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی آقا اس بات پر راضی نہیں کہ اس کا غلام اس کے مساوی اور برابر ہوجائے غلامی اور مساوات جمع نہیں ہوسکتے پس جب کہ دو ہم جنس اور متحد النوع انسانوں کے اندر مالک اور مملوک میں شرکت اور مساوات نہیں تو خالق اور مخلوق کو معبودیت میں کیسے برابر کیا جاسکتا ہے پس جب کہ تمہارے غلام شریک اور برابر نہیں ہوسکتے تو اللہ کے بندے اور اس کے غلام اس کی الوہیت میں کیسے شریک ہوسکتے ہیں۔ حسن بصری (رح) سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ بن الخطاب نے ابو موسیٰ اشعری ؓ کو جو آپ ؓ کی طرف سے کوفی، بصرہ کے گورنر تھے خط لکھا۔ اقنع برزقک من الدنیا فان الرحمان فضل بعض عبادہ علیٰ بعض فی الرزق بلاء مبتلی بہ کلا فیبتلی من بسطہ کیف شکرہ للہ واداء ہ الحق الذی افترض علیہ فیما رزقہ دخولہ۔ (رواہ ابن ابی حاتم) ۔ اے ابو موسیٰ ! تو اپنے اس رزق پر متناعت کر جو تجھ کو دنیا میں ملا ہے کیونکہ رحمن نے اپنے بعض بندوں کے اعتبار سے رزق زیادہ دیا ہے اور یہ رزق من جانب اللہ ابتلاء اور امتحان ہے جس کے ذریعہ ہر ایک کا امتحان کرتا ہے پس جس کو رزق زیادہ دیا اس کا امتحان اس طرح ہوتا ہے کہ وہ کس طرح اللہ کی دی ہوئی دولت کا شکر بجالاتا ہے اور جو حق تعالیٰ نے اس پر اس مال و دولت میں فرض کیا تھا۔ وہ اس کو کیوں کر ادا کرتا ہے۔ (ابن حاتم (رح) نے اس روایت کو روایت کیا) معلوم ہوا کہ بنی آدم میں امیری اور فقیری تو نگری اور تنگ دستی میں تفاوت من جانب اللہ ہے جس کو اللہ نے مال و دولت دیا اس پر اللہ کا شکر اور مال کا حق ادا کرنا واجب ہے اور جس کو اللہ نے مفلس بنایا اس پر صبر اور قناعت واجب ہے فقیر اور نادار کو یہ تو اجازت ہے کہ صنعت وحرفت یا تجارت یا زراعت کے ذریعہ حلال طریقہ سے جس طرح چاہے دولت حاصل کرے اس پر کوئی تحدید نہیں۔ لیکن کسی نادار کو ازراہ حسد و رقابت کسی مالدار کے مال پر نظر کرنا ناجائز اور حرام ہے جیسے آج کل اشتراکی لوگ مزدوروں کو اکسا رہے ہیں کہ تم دولت مندوں اور سرمایہ داروں کی دولت کو لوٹ لو اور مساوات کا دلفریب نعرہ لگا کر جاہلوں کو اس پر آمادہ کر رہے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ رزق میں مساوات عقلا محال ہے رزق کا تفاوت قدرت خداوندی کا کرشمہ ہے اسے کوئی بدل نہیں سکتا اور بفرض محال اگر ملک کا مال و دولت سب پر برابر تقسیم ہوگیا تو یہ بتلائیں کہ علم اور عقل اور حسن و جمال اور قوت و صفت اور صحت و بیماری اور موت وحیات میں مساوات کی کیا صورت ہوگی کسی کو ایک چپاتی کھانا مشکل ہے اور کوئی دس نان کھا کر ڈکار نہیں لیتا اگر سب کے سامنے دس دس نان رکھ دئیے گئے تو سب کے معدے کی اشتہاء اور سب کی بھوک کیسے برابر ہوگی مطلب یہ ہے کہ رزق ظاہری اور باطنی سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے جس کو چاہا کم دیا اور جس کو چاہا زیادہ دیا کیا یہ لوگ خدا کی نعمت کا انکار کرتے ہیں۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ سب نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں تو پھر کسی کو اس کا شریک ٹھہرانا اس کی نعمت سے منکر ہونا ہے جیسا کہ منجمین اور طبیعین خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو کواکب اور نجوم کی طرف اور مادہ اور طبیعت کی طرف منسوب کرتے ہیں بس یہی اللہ کی نعمت سے انکار کرنا ہے۔ دلیل ہفتم : اور من جملہ دلائل قدرت و وجوہ نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری جنس سے تمہارے لیے بیویاں پیدا کیں اور پھر تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے بیٹے اور پوتے پیدا کیے تاکہ تمہاری نوع اور نسل باقی رہے اور پاکیزہ اور لذیذ چیزوں میں سے تمہیں رزق دیا تاکہ تمہارا وجود شخصی باقی رہ سکے تمہاری راحت و آرام کے لیے بیبیاں پیدا کیں اور خدمت کے لیے اولاد دی کہ تمہاری خدمت کرے اور تمہاے بعد تمہاری نسل باقی رہے اور بقا اور زندگی کے لیے پاکیزہ چیزیں تم کو عطا کیں کیونکہ بقا اور زندگی رزق پر موقوف ہے کیا توحید کے ان دلائل واضحہ کے بعد بھی یہ لوگ بےحقیقت اور بےبنیاد چیز پر اعتقاد اور ایمان رکھتے ہیں باطل سے مراد شرک اور بت پرستی ہے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں کہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں کو غیر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں۔ یعنی بتوں کا احسان مانتے ہیں کہ بیماری سے چنگا کیا۔ یا بیٹا دیا یا روزی دی اور یہ سب جھوٹ ہے وہ جو سچ دینے والا ہے اس کے شکر گزار نہیں اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی پرستش رتے ہیں جو ان کو آسمان اور زمین سے ذرہ برابر رزق پہنچانے کی مالک نہیں نہ آسمان سے مینہ برسا سکتے ہیں اور نہ زمین سے کوئی چیز اگا سکتے ہیں اور نہ اس کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ ان کو کچھ اختیار ہے اور نہ قدرت ہے عاجز محض ہیں کسی قسم کی استطاعت نہیں رکھتے پھر کس لیے ان کی پرستش کرتے ہیں پس تم اللہ کے لیے مثالیں نہ گھڑو اس کا نہ کوئی مثل ہے اور نہ کوئی شبیہ اور مثیل ہے۔ شاہ عبد القادر (رح) فرماتے ہیں۔ ” مشرک کہتے ہیں کہ مالک تو اللہ ہی ہے یہ لوگ اس کی سرکار میں مختار ہیں اس واسطے ان کو پوجتے ہیں کہ (بڑی سرکار تک ان کے ذریعے رسائی ہوجائے) ۔ سو یہ مثال غلط ہے (اللہ پاک پر چسپاں نہیں) اللہ تعالیٰ ہر چیز آپ کرتا ہے کسی کے سپرد نہیں کر رکھا اور اگر صحیح مثال چاہو تو آگے دو مثالیں بیان فرمائیں “۔ (موضح القرآن) مشرکین یہ کہتے تھے کہ خدائے تعالیٰ بادشاہ ہے اور ہم بلا واسطہ بادشاہ تک نہیں پہنچ سکتے لہٰذا یہ ہمارے لیے وسائل اور ذرائع ہیں ہم کو خدا کا مقرب بنا دیں گے جس طرح بادشاہ وزیروں کو مختار کا ربنا دیتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ مثال غلط ہے اللہ تعالیٰ پر چسپاں نہیں کارخانہ عالم میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ اس کے علم اور ارادہ اور مشیت سے ہو رہا ہے۔ سلاطین دنیا کی طرح نہیں کہ وہ اپنے ماتحت حکام کو اختیارات تفویض اور سپرد کردیتے ہیں کہ تفویض تو ارادہ اور اختیار سے کیا لیکن تفویض کے بعد وہ ماتحت حکام ان اختیارات کے استعال میں آزاد ہیں بغیر بادشاہ کے علم اور بغیر اس کے ارادہ اور بغیر اس کی اجازت کے بہت سے کام کر گزرتے ہیں جیسے بسا اوقات وزراء کوئی فیصلہ کر گزرتے ہیں اور بادشاہ کو اس فیصلہ کا مطلق علم نہیں ہوتا اور بادشاہ کے اترادہ اور مشیت کو اس فیصلہ کے صادر کرنے میں کوئی دخل نہیں ہوتا سو بارگاہ خداوندی میں یہ بات ممکن نہیں اس لیے کہ عقلا یہ محال ہے کہ خدا اپنی قدرت اور اختیار کو کسی کے تفویض کر دے بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے کوئی شئی اس کے دائرہ علم اور ارادہ اور مشیت سے باہر نہیں۔ عالم میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے خواہ بواسطہ اسباب ہو یا بلا واسطہ اسباب ہو وہ سب اس کے علم محیط اور اس کے ارادہ اور مشیت سے وقوع پذیر ہو رہا ہے لہٰذا ہر کلی اور جزئی میں اسی کو فاعل حقیقی سمجھ کر اس کو اپنا معبود اور مستعان سمجھو بلا واسطہ سب تمہاری سنتا ہے اور بغیر کسی کے خبر دئیے ہوئے تمہارا سب حال جانتا ہے بادشاہوں کو وزیر اور پیش کار کی اس لیے ضرورت ہے کہ انہیں پیٹھ پیچھے کی خبر نہیں اور سارے کام خود انجام نہیں دے سکتے۔ اس لیے معین اور مددگار کے محتاج بنے اور خدا تعالیٰ علیم وخبیر اور مالک و قدیر ہے وہ غنی اور بےنیاز ہے اسے کسی وزیر اور مشیر کی ضرورت نہیں اور نہ اس کے کارخانہ ربوبیت میں کوئی دخیل ہے اور نہ وہاں کسی کا روز ہے لہٰذا خداوند ذوالجلال کو دنیا کے بادشاہوں پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے معلوم ہوا کہ جو مثال تم نے بیان کی وہ غلط ہے اگر صحیح مثال چاہتے ہو تو ہم تمہارے لیے دو مثالیں بیان کرتے ہیں غور سے ان کو سنو۔ مثال اول : اللہ تعالیٰ نے شرک کے بطلان ظاہر کرنے کے لئے ایک مثال بیان فرمائی فرض کرو کہ ایک غلام ہے جو دوسرے کا مملوک ہے اور ایسا غلام ہے کہ وہ کسی تصرف پر قادر نہیں۔ کیونکہ بعض غلام ایسے ہوتے ہیں کہ آقا ان کو تصرفات کی اجازت دیدیتا ہے جیسے عبد ماذون اور جیسے مکاتب کہ آقا نے اس کو نوشتہ دے دیا کہ اس قدر روپیہ کما کر دے دے تو آزاد ہے پس ان کو کچھ تصرف کی اجازت نہ ہو۔ پس ایک تو ایسا ہے کہ عبد ملوک ہے کسی تصرف پر قدرت نہیں رکھتا۔ اور ایک شخص وہ ہے کہ جس کو ہم نے اپنے پاس سے اور اپنے فضل سے عمدہ روزی دی یعنی وسعت اور کثرت سے اس کو ایسا رزق دیا جو لوگوں کی نظروں میں اچھا معلوم ہوتا ہے اور اس کو اس کا مالک اور مختار بنایا پس وہ شخص ہمارے دئیے ہوئے رزق حسن میں سے خیرات کی راہوں میں اور طرح طرح کی نیکیوں میں پوشیدہ اور علانیہ طور پر خرچ کرتا ہے یعنی جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور کسی سے نہیں ڈرتا کیا یہ وہ شخص برابر ہوسکتے ہیں یعنی بےاختیار، صاحب اختیار آقا کے برابر نہیں ہوسکتا۔ تو بت تو تمام مخلوق میں سب سے زیادہ عاجز نہیں ہوسکتے تو مالک حقیقی اور مملوک حقیقی کب برابر ہوسکتے ہیں حالانکہ آقا اور غلام تو نفس خلقت اور صورت بشری میں دونوں مساوی ہیں۔ مگر بایں ہمہ دونوں برابر نہیں تو اللہ جو کہ قادر مطلق اور مالک مطلق ہے اس میں اور بتوں کے درمیان مساوات کیونکہ ہوسکتی ہے جو نہ کسی شیء کے مالک ہیں اور نہ کسی شی پر قادر ہیں اور دنیا کا کوئی عاقل، قادر اور عاجز کے درمیان مساوات کا قائل نہیں۔ اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ مثال مومن اور کافر کی ہے کافر عبد مملوک ہے جو کسی شئے پر قادر نہیں کیونکہ جب وہ اللہ کی عبادت سے اور اس کی توفیق سے محروم ہے اور اپنے مال کو راہ خدا میں خرچ کرنے سے محروم ہے تو گویا وہ ایک غلام حقیر و ذلیل ہے اور عاجز ہے جو کسی شئے پر قادر نہیں خدا تعالیٰ نے اس کو تصرف سے روک رکھا ہے اور مومن وہ شخص ہے کہ جس کو اللہ نے اپنے پاس سے رزق حسن یعنی حلال روزی دی اور وہ دن رات کی عبادت میں لگا ہوا ہے اور اپنے مال کو راہ خدا میں پوشیدہ اور علانیہ طور پر جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے تو یہ دونوں شخص برابر نہیں نہ آزاد اور غلام برابر ہے نہ بخیل اور سخی برابر ہے۔ اور نہ نافرمان (کافر) اور فرماں بردار ( مومن) برابر ہے، سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو سب کا خالق اور تمام کائنات کا مالک مطلق اور مختار مطلق ہے اور تمام کائنات اسی کی مملوک اور غلام ہے لیکن باوجود اس کے یہ لوگ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر نادان اور بےعقل ہیں کہ صاف اور واضح بات کو بھی نہیں سمجھتے اور بایں ہمہ بتوں کو مستحق تعریف سمجھتے ہیں۔ دوسری مثال : اور اگر اس مثال سے ان پر حق واضح نہ ہو تو اللہ نے ان کے لیے ایک دوسری مثال بیان فرمائی۔ فرض کرو کہ وہ شخص ہیں ان میں سے ایک تو گونگا غلام ہے اور بہرا بھی ہے کیونکہ جو پیدائشی گونگا ہوتا ہے وہ بہرا بھی ہوتا ہے کہ کسی بات پر قدرت نہیں رکھتا اور وہ اپنے آقا پر بوجھ ہے یعنی وہ کسی کام کا نہیں اور نہ اس سے کسی بھلائی کی توقع ہے۔ وہ آقا اس کو جہاں بھیجے وہاں سے کوئی خیر اور بھلائی لے کر واپس نہ آئے کیا ایسا منحوس غلام اس مبارک شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو لوگوں کو عدل و انصاف کا حکم کرتا اور خود سیدھی راہ پر ہے یعنی اس کے ہوش و حواس درست ہیں نہایت عقلمند اور دیانت دار اور نیک کردار ہے جو شخص خود صاحب فہم و فراست نہ ہو وہ دوسروں کو انصاف اور نیکی کی کیسے ہدایت کرسکتا ہے پس جب یہ دونوں شخص برابر نہیں ہوسکتے تو یہ گونگے اور بہرے بت خدا وند پروردگار کے کیسے برابر ہوسکتے ہیں اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ کافر اور مومن کی مثال ہے کافر اندھے اور بہرے اور گونگے غلام کی طرح ہے نہ حق کو دیکھتا ہے اور نہ حق کو سنتا ہے اور ناکارہ اور نکما ہے آقا کا کوئی کام نہیں کرتا۔ اور مومن قانت، سیدھی راہ پر جا رہا ہے اور دوسروں کو بھی اس راہ پر لے جانا چاہتا ہے یہ دونوں شخص کیسے برابر ہوسکتے ہیں۔ حضرت شاہ عبد القادر (رح) فرماتے ہیں ” یعنی خدا کے دو بندے ایک بہت نکما نہ ہل سکے اور نہ چل سکے جیسے گونگا غلام۔ دوسرا رسول ہے جو اللہ کی راہ بتا دے ہزاروں کو اور بندگی پر قائم ہے اس کے تابع ہونا بہتر ہے یا اس کے “ (انتہی) حضرت شاہ والی اللہ قدس اللہ سرہ العزیز فرماتے ہیں حاصل ایں دو مثل آنست کہ آں چہ درعالم تصرف ندارد باخدا برابر نیست چناچہ مملوک ناتواں با مالک توانا برابر نیست و چناں کہ گنگ بےتمیز با صاحب ہدایت برابر نیست “ (انتہیٰ ) حق تعالیٰ نے ابطال شرک کے لیے دو مثالیں بیان فرمائیں اب مزید دلائل توحید بیان کرتے ہیں۔ دلیل ہشتم : کمال علم و کمال قدرت : اور من جملہ دلائل الوہیت کے اس کا کمال علم اور کمال قدرت ہے اس لیے کہ آسمانوں اور زمین کی پاشیدہ چیزیں اللہ ہی کو معلوم ہیں اس سے کوئی شے چھپی ہوئی نہیں خواہ وہ زمین میں ہو یا آسمان میں ہو یہ اس کا کمال علم ہوا۔ اور منجملہ غیب کے قیامت بھی ہے اس کا علم سوائے خدا کے کسی کو نہیں اور نہیں ہے قیامت کا کام مگر ایسا جیسے جھپکنا یا اس سے بھی زیادہ نزدیک مطلب یہ کہ مردوں کا دوبارہ زندہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں جب اللہ چاہے گا آنا فانا ہوجائے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے جس کام کا وہ ارادہ کرتا ہے وہ پلک جھپکنے سے بھی پہلے ہوجاتا ہے یہ اس کے کمال قدرت کی دلیل ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ کس کا علم اور قدرت عالم کے ذرہ ذرہ کو محیط ہو۔ کون اس کا ہمسر ہوسکتا ہے۔ دلیل نہم : اور منجملہ دلائل قدرت و وجود نعمت یہ امر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے اس حال میں نکالا کہ تم اس وقت کچھ نہیں جانتے تھے نو ماہ سے ماں کے پیٹ میں مجوس تھے اور خون و حیض تمہاری غذا تھی ولادت کے بعد تم جیل خانہ سے باہر نکلے اور آنکھ کھولی اور اس عالم کو دیکھا۔ دیکھ کر حیران رہ گئے سمجھ میں کچھ نہ آیا اور بعد ازاں اللہ نے بنا دئیے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل تاکہ آنکھ اور کان سے محسوسات کا ادراک کرو اور دل سے معقولات کا ادراک کرو اور عقل سے خیرو شر اور ہدایت و ضلالت اور حق و باطل کا فرق سمجھو اور غور کرو کہ آنکھ اور کان اور دل کیسی نعمتیں ہیں شاید تم ہمارا احسان مانو اور ہمارے عطا فرمودہ حواس ظاہرہ و باطنہ کو ہماری معرفت اور محبت میں لگا ڈالو۔ اور اپنے منعم و محسن کا شکر کرو کہ تم کو کیسی تاریک اور گندی جگہ سے نکال کر کہاں پہنچا دیا۔ تمام دنیا کی نعمتوں سے متمتع ہونے کا ذریعہ آنکھ اور کان اور عقل ہیں اور اگر وہ اپنی رحمت سے تم کو آنکھ اور کان اور عقل نہ دیتا تو ذرا غور کرو کہ پھر تم کیا کرتے۔ ” شکر “ کی حقیقت یہ ہے کہ منعم کی دی ہوئی نعمت کو اس کے حکم کے مطابق استعمال کرو اور اس کی نعمت کو امانت سمجھو۔ معصیت سے بچاؤ۔ نعم کو خلاف حکم صرف کرنا یہ خیانت ہے بہرحال تمہارا اس طرح پیدا ہونا یہ اس کی دلیل ہے کہ تم خود بخود پیدا نہیں ہوگئے بلکہ کسی علیم و قدیر نے تم کو پیدا کیا ہے۔ دلیل دہم : اور من جملہ دلائل قدرت کے خلا میں اڑنے والے پرند بھی ہیں کیا لوگوں نے پرندوں کی طرف نظر نہیں کی جو بحکم خداوندی آسمان کے خلاء یعنی ہوا میں معلق ہیں۔ کعب احبار ؓ کہتے ہیں کہ پرندہ بلندی میں بارہ میل تک اڑ سکتا ہے اس سے اوپر نہیں جاسکتا اللہ کے سوا ان کو اور کوئی اس خلا میں تھامے ہوئے نہیں بیشک اس تسخیر میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ جو اللہ کو مانتے ہیں وہ ان نشانیوں کو دیکھ کر اللہ کی قدرت اور وحدانیت کو سمجھ جاتے ہیں اور جو مومن نہیں وہ ان نشانیوں پر نظر نہیں کرتے۔ حق تعالیٰ نے اپنی قدرت سے پرندوں کو عجیب طور سے پیدا کیا کہ ان کے دو بازو ہیں ان کو پھیلا کر ہوا میں اڑتے ہیں اور ان میں اڑنے کی قوت پیدا کی وہ پر پھیلا کر ہوا میں اس طرح اڑتے ہیں جیسے کوئی پانی میں تیرتا ہے اور سوائے اللہ کے کوئی چیز ان کو ہوا میں روکنے اور تھامنے والی نہیں نہ اوپر سے کوئی چیز پکڑے ہوئے ہے اور نہ نیچے سے ان کو کوئی چیز تھامے ہوئے اور سہارا دئیے ہوئے ہے۔ ورنہ ان کی ثقل جسمانی کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اوپر سے نیچے گر پڑتے اور ان کا جسم ثقیل ہوائے لطیف کو چیرتے ہوئے اوپر چڑھتا ہے اور اڑتا ہے اور پھر ہوا کو چیرتا ہوا نیچے اترتا ہے اس عجیب و غریب تسخیر میں اللہ کی قدرت اور وحدانیت کی کھلی نشانیاں ہیں غرض یہ کہ پرندوں کا ہوا میں معلق روکنا یہ اس کی قدرت کا کرشمہ ہے شیفتگان اسباب و علل و دلدادگان فلسفہ ان چیزوں کے جو اسباب طبعی بیان کرتے ہیں وہ سب پادر ہوا ہیں اور ان کی کوتاہ نظری اور کج عقلی کی نشانیاں ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں :۔ ” یعنی ایمان لانے میں بعض اٹکتے ہیں۔ معاش کی فکر سے سو فرمایا کہ ماں کے پیٹ سے کوئی کچھ نہیں لایا۔ اسباب کمائی کے، آنکھ، کان، دل اللہ ہی دیتا ہے اڑتے جانور ادھر میں کس کے سہارے رہتے ہیں “۔ (موضح القرآن) دلیل یازدھم : اور من جملہ دلائل قدرت الوہیت یہ ہے کہ اللہ نے تمہارے لیے حالت جعفر میں تمہارے گھروں میں سے جائے سکونت بنائی جہاں تم آرام کرسکو انسان معاش کے لیے حرکت کرتا ہے اور حرکت کے بعد اس کو سکون کی حاجت ہوئی ہے تو اس نے تمہارے لیے بیوت اور مساکن بنا دئیے اور حالت سفر میں چوپایوں کی کھالوں سے اس نے تمہارے لیے گھر بنا دئیے یعنی خیمے تم ان کو اپنے سفر کے دن اور ھالت سفر میں ہلکا پاتے ہو اور بےتکلف اپنے ساتھ اٹھائے پھرتے ہو۔ مٹی اور پتھر کے گھروں میں یہ بات حاصل نہیں۔ خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے ہماری آسائش کے لیے ہمیں رہنے کو دو گھر دئیے ایک تو وہ جو مٹی اور پتھر وغیرہ سے بنائے جاتے ہیں اور اپنی جگہ سے ہٹ نہیں سکتے دوسرے وہ گھر جنہیں جہاں چاہیں لے جائیں جیسے خیمے جو سفر اور حضر دونوں حال میں آسان اور ہلکے ہیں یہ سب اللہ کا فضل ہے اور احسان ہے اور اللہ نے تمہاری آسائش کے لیے بھیڑوں کے بالوں اور اونٹوں کے بالوں اور بکریوں کے بالوں سے اثاثہ اور سامان منفعت بنایا جس سے تم ایک وقت اور مدت تک نفع اٹھاؤ یعنی ان کے کہنہ ہونے تک یا وقت موت تک اس سامان سے نفع اٹھاؤ۔ دلیل دوازدھم : اور من جملہ دلائل قدرت و الوہیت یہ امر ہے کہ اللہ نے تمہاری راحت اور محافظت کی چیزوں کو پیدا کیا۔ چناچہ تمہارے لیے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں میں سے بعض سے تمہارے لیے سایہ بنا دیا جس سے تم گرمی اور سردی اور برف و باراں وغیرہ کی تکلیف سے بچتے ہو۔ سایہ سے مراد وہ چیزوں ہیں جن کے سایہ میں آدمی رہتا ہے جیسے مکان اور دیوار اور درخت وغیرہ اگر وہ اپنی رحمت سے سایہ دار چیزیں نہ پیدا کرتا تو سردی اور گرمی سے حفاظت مشکل ہوجاتی۔ دلیل سیز دھم : اور من جملہ دلائل قدرت و الوہیت یہ امر ہے کہ اللہ نے تمہارے لیے پہاڑوں میں چھپ رہنے کو جگہیں بنائی ہیں۔ یعنی غار وغیرہ بنائے جہاں سردی اور گرمی اور بارش اور دشمن اور موذی جانور سے محفوظ رہ سکے اور جس میں گھر بنانے کی استطاعت نہ ہو وہ وہاں پناہ لے سکے یہ سامان حفاظت بھی اسی کی قدرت اور نعمت کا کرشمہ ہے۔ دلیل چہاردھم : اور من جملہ دلائل قدرت ووجود نعمت یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے ایسے کرتے بنائے ہو تم کو گرمی سے بچائیں۔ سرابیل سے مطلق لباس مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے لباس پیدا کیا جو تم کو گرمی سے بچاتا ہے اور سردی سے بھی بچاتا ہے۔ مگر آیت میں ایک شق کو بیان کردیا تو دوسری شق کو اس پر قیاس کرلیا جائے چونکہ عرب میں گرمی کی شدت تھی اس لیے آیت میں صرف حر کا ذکر فرمایا اور برد کا ذکر نہیں فرمایا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے مختلف مواضع میں اپنی مختلف نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے کسی جگہ گرمی سے حفاظت کا ذکر فرمایا اور کسی جگہ سردی کے سامان حفاظت کا ذکر فرمایا۔ نیز گرمی سے حفاظت اور بچاؤ کا سامان برودت ہی کے حاصل کرنے کے لیے ہوتا ہے اس لیے تقیکم الحر میں حر کے ذکر پر اکتفاء کیا اور اس طرح نہیں فرمایا کہ تقیکم الحر والبرد، اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ایسے کرتے بھی بنائے جو تم کو آپس کی لڑائی کی زد سے بچائیں جیسے زرھیں اور جو ہتھیار جنگ میں بچاؤ کے لیے پہنے جاتے ہیں۔ امتنان بر اتمام احسان اب ان دلائل قدرت و وجود نعمت کے بیان کے بعد فرماتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمتیں پوری کرتا ہے تاکہ تم اس منعم حقیقی کے سامنے گردن جھکادو اور ہر بن مو سے زبان لشکر بن جاؤ پس اگر یہ ناقدرے اور ناشکرے منعم حقیقی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے سے اعراض کریں تو آپ ﷺ کوئی غم نہ کریں کیونکہ آپ ﷺ کے ذمہ تو صرف صاف کھول کر اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے ان کے اعراض کا وبال ان کی گردن پر ہے۔ یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کو خوب پہنچانتے ہیں پھر باوجود اس علم یقینی کے ان نعمتوں کے منکر ہوجاتے ہیں ان میں سے بعض اگرچہ شکر گزار بھی ہیں لیکن ان میں کے اکثر ناشکرے ہیں۔ اللہ کے انعامات کو دیکھتے ہیں اور اس کے احسانات کو سمجھتے ہیں اور دل سے مانتے ہیں مگر عناد اور ضد کی بناء پر ان کا انکار کرتے ہیں۔
Top