Tafseer-e-Madani - An-Nahl : 3
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
خَلَقَ : اس نے پیدا کیے السَّمٰوٰتِ : آسمان (جمع) وَالْاَرْضَ : اور زمین بِالْحَقِّ : حق (حکمت) کے ساتھ تَعٰلٰى : برتر عَمَّا : اس سے جو يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک کرتے ہیں
اسی نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین (کی اس حکمتوں بھری کائنات) کو حق کے ساتھ، وہ بہت بلند (وبالا) ہے اس شرک سے جو یہ لوگ (اس کی جناب اقدس کے بارے میں) کرتے ہیں
6۔ کائنات کی تخلیق حق کے ساتھ : کہ کائنات کی حکمتوں بھری اس کھلی کتاب کے مطالعے سے انسان اپنے خالق ومالک سبحانہ وتعالیٰ کی قدرت اور اس کی عظمت کو پہچانے اور اس کی واحدانیت کا اقرار کرے اور اس کی عبادت و بندگی بجا لاکر اس کائنات میں پھیلی ہوئی اس کی بےحد وحساب نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے۔ تاکہ اس طرح وہ دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہوسکے۔ نیز اس سے وہ یہ بھی جان لے کہ حکمتوں بھری یہ کائنات بےمقصد اور بےکار نہیں ہوسکتی۔ اور وہ پکار اٹھے۔ (ربنا ماخلقت ھذا باطلا) نیز اس سے وہ یہ سبق بھی لے کہ جس نے اس عظیم الشان کائنات کو بلاشرکت غیرے اس طرح پیدا فرمادیا وہ اس کائنات کو اور اس کے مخدوم ومطاع اس انسان کو دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔ اس قادر مطلق کے لئے جب اس کائنات کو پہلی مرتبہ پیدا کرنا اور عدم سے وجود میں لانا کچھ مشکل نہیں تھا تو پھر اس کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لئے آخر کیونکر مشکل اور ناممکن ہوسکتا ہے۔ افسوس کہ آج مادی ترقی کے اس دور میں جب کہ انسان پر کمندیں ڈالنے کی تگ ودو میں ہے بلکہ اس وقت جب کہ راقم السطوریہ سطور تحریر کررہا ہے اس ضعیف البنیان انسان نے مریخ پر بھی اپنا سیارہ اتار دیا ہے جو وہاں سے اس کی تصویریں بھیج رہا ہے۔ اور اس پر دنیا ساری میں شور پڑا ہوا ہے اور سائنس دان اپنی کامیابی پر پھولے نہیں سما رہے۔ مگر اس سب کے باوجود اس دور میں اور اس قدر مادی ترقی کے باوجود یہ ایسا اندھا اور اوندھا بنا ہوا ہے کہ اتنا آگے نکلنے کے باوجود یہی انسان غور و فکر کے اس پہلو سے یکسر محروم ہے۔ اور وہ یہ نہیں سوچتا کہ آخرمریخ اور اس طرح کے ان دوسرے سیاروں کو بنایا کس نے ؟ اور فضائے بسیط میں اس پر حکمت نظام کے تحت ان کو معلق کس نے کیا ؟ اور ان کو اس باریکی سے چلاتا ہوں ہے ؟ اور ہماری یہ عقلیں جن سے ہم یہ کارنامے انجام دے رہے ہیں ہمیں بخشیں کس نے ؟ اور اس کا ہم پر کیا حق ہے ؟ سو وہی ہے اللہ جلا جلالہ وعزبر ھانہ۔ اگر انسان اس پہلو سے سوچنے اور غور کرنے لگے تو یہی سائنس اس کے لیے نور ایمان سے سرفرازی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید بکل حال من الاحوال۔
Top