Tafseer-e-Baghwi - Al-Israa : 108
اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘
اَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا : کیا پس انہوں نے غور نہیں کیا الْقَوْلَ : کلام اَمْ : یا جَآءَهُمْ : ان کے پاس آیا مَّا : جو لَمْ يَاْتِ : نہیں آیا اٰبَآءَهُمُ : ان کے باپ دادا الْاَوَّلِيْنَ : پہلے
تو کیا ان لوگوں نے کبھی اس کلام پر غور نہیں کیا یا ان کے پاس کوئی ایسی انوکھی چیز آگئی ہے، جو ان کے پہلے بڑوں کے پاس نہیں آئی تھی ؟
85 قرآن حکیم کے بارے میں غور و فکر کی دعوت وتحریض : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ان لوگوں نے کبھی اس کلام کے بارے میں غور نہیں کیا ؟ تاکہ یہ اس کی حقیقت کو جانتے اور اس کی عظمت کو پہنچانتے۔ یعنی ان کو اس بارے غور و فکر سے کام لینا چاہئے۔ تاکہ اس کے نتیجے میں یہ نورحق و ہدایت سے بہرہ ور و سرفراز ہوسکیں اور دائمی ہلاکت و تباہی سے بچ سکیں۔ سو اس ارشاد میں زجر و تحضیض ہے کہ یہ لوگ اس کلام حکیم میں غور و فکر سے کام لیں۔ آخر یہ لوگ ایسا کیوں نہیں کرتے۔ کیا ان لوگوں کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں یا یہ اس سے اس لیے بدکتے ہیں کہ ان کے پاس وہ کچھ آگیا جو ان کے باپ دادا کے پاس نہیں آیا۔ سو اگر ایسا ہے تو آخر یہ اپنی ناک سے آگے کیوں نہیں دیکھتے۔ یہ لوگ اپنے قریب کے ان آباؤ اجداد کو تو دیکھتے ہیں جو علم کی روشنی سے محروم ہونے کے باعث کفر و شرک کے اندھیروں میں ڈوبے پڑے تھے۔ لیکن یہ اپنے آباؤ اجداد کے مورث اعلیٰ اور جدِّ امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو کیوں نہیں دیکھتے جو اسی دین فطرت اسلام پر قائم تھے۔ سو اگر یہ لوگ قرآن حکیم کی تعلیمات مقدسہ کو اپنے مشرک باپ دادا کی روایات کے خلاف سمجھ کر ان سے بدکتے ہیں تو یہ ان کی بڑی جہالت و حماقت اور ہٹ دھرمی ہے۔ باپ دادا کا طریقہ بجائے خود کوئی سند اور دلیل نہیں ہوتا بلکہ اس کو عقل و نقل کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اور پھر یہ لوگ اپنے انہی باپ دادا کی لکیر کے فقیر کیوں بنے ہوئے ہیں جو دین سے بیخبر اور علم کی روشنی سے محروم تھے۔ یہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل جیسے باپ دادا کو کیوں نہیں دیکھتے جو ان کے جدِّ امجد اور مورث اعلیٰ تھے اور جن کے ساتھ اپنے انتساب پر یہ فخر بھی کرتے ہیں۔ سو ان کو ان ہی کے نقش ِ قدم پر چلنا چاہیے تاکہ ان کا بھلا ہو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ وباللہ التوفیق -
Top