Tafseer-e-Majidi - Al-Muminoon : 91
مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ
مَا اتَّخَذَ : نہیں بنایا اللّٰهُ : اللہ مِنْ وَّلَدٍ : کسی کو بیٹا وَّمَا كَانَ : اور نہیں ہے مَعَهٗ : اس کے ساتھ مِنْ اِلٰهٍ : کوئی اور معبود اِذًا : اس صورت میں لَّذَهَبَ : لے جاتا كُلُّ : ہر اِلٰهٍ : معبود بِمَا خَلَقَ : جو اس نے پیدا کیا وَلَعَلَا : اور چڑھائی کرتا بَعْضُهُمْ : ان کا ایک عَلٰي بَعْضٍ : دوسرے پر سُبْحٰنَ اللّٰهِ : پاک ہے اللہ عَمَّا : اس سے جو يَصِفُوْنَ : وہ بیان کرتے ہیں
اللہ نے کسی کو بھی بیٹا نہیں قرار دیا ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے اگر ایسا ہوتا تو چڑھائی کرتا اللہ ان باتوں سے پا ک ہے جو یہ اس کی نسبت بیان کرتے ہیں،81۔
81۔ مشرک قوموں کی خرافی روایات (میتھالوجی) ان قصوں سے بھری پڑی ہیں کہ فلاں دیوتا اور فلاں دیوتا میں یوں جنگ ہوئی، اس نے اس پر یوں چڑھائی کی۔ وہ اس پر یوں غالب آیا۔ قرآن نے ایک مختصر سے بلیغ فقرہ میں ان لوگوں کی دیومالا کا گویا ست کھینچ کر رکھ دیا ہے۔ (آیت) ” مااتخذ اللہ من ولد “۔ اللہ کے نہ کوئی بیٹا ہے۔ جیسا کہ بدنصیب مسیحیوں نے سمجھ رکھا ہے۔ اور نہ اس کے کوئی بیٹی ہے جیسا کہ بدبخت مشرکوں نے گڑھ لیا ہے۔ (آیت) ” وما کان ....... بعض “۔ استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر معبودوں میں تعدد ہوتا تو یہ نظام عالم پارہ پارہ ہو کر رہ جاتا۔ لیکن ایسا نہ ہونا بدیہی ہے اس لیے اس مفروضہ پر جمے رہنا گویا بداہت کا انکار کیے جانا ہے۔
Top