Tafseer-e-Mazhari - Al-Anbiyaa : 102
لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ
لَا يَسْمَعُوْنَ : وہ نہ سنیں گے حَسِيْسَهَا : اس کی آہٹ وَهُمْ : اور وہ فِيْ : میں مَا اشْتَهَتْ : جو چاہیں گے اَنْفُسُهُمْ : ان کے دل خٰلِدُوْنَ : وہ ہمیشہ رہیں گے
(یہاں تک کہ) اس کی آواز بھی تو نہیں سنیں گے۔ اور جو کچھ ان کا جی چاہے گا اس میں (یعنی) ہر طرح کے عیش اور لطف میں ہمیشہ رہیں گے
لا یسمعون حسیسہا وہ اس کی آہٹ بھی نہیں سنیں گے یعنی جہنم سے اتنی دور رکھے جائیں گے کہ اس کی آہٹ بھی ان کو سنائی نہیں دے گی۔ وہم فیہا اشتہت انفسہم خلدون۔ اور وہ اپنی جی چاہی (مرغوب طبع) چیزوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ فِیْہَا کو خٰلِدُوْنَ سے مقدم ذکر کرنا اختصاص اور اہمیت کو ظاہر کر رہا ہے۔ صوفیہ صافیہ کی ذات خداوندی کے سوا کوئی اور خواہش ہی نہیں ہوتی اس لئے ہر وقت وہ وصل کی حالت میں اور دیدار خداوندی کے استغراق میں رہیں گے لیکن یہ وصل اور استغراق ناقابل بیان کیفیت کا حامل ہوگا زمان و مکان اور ہیئت و شکل کی قیود سے خالی اور جہت و امتداد و مسافت سے پاک اسی لئے اس کو بلا کیف کہا جاتا ہے (مترجم) ۔
Top