Tafseer-e-Mazhari - Al-Anbiyaa : 76
وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ
وَنُوْحًا : اور نوح اِذْ نَادٰي : جب پکارا مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے فَاسْتَجَبْنَا : تو ہم نے قبول کرلی لَهٗ : اس کی فَنَجَّيْنٰهُ : پھر ہم نے اسے نجات دی وَاَهْلَهٗ : اور اس کے لوگ مِنَ : سے الْكَرْبِ : بےچینی الْعَظِيْمِ : بڑی
اور نوح (کا قصہ بھی یاد کرو) جب (اس سے) پیشتر انہوں نے ہم کو پکارا تو ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کو اور ان کے ساتھیوں کو بڑی گھبراہٹ سے نجات دی
ونوحا اور نوح ( علیہ السلام) کو اس کا عطف لوطاً پر ہے یعنی ہم نے نوح ( علیہ السلام) کو حکم اور علم عطا کیا تھا۔ اذ نادی من قبل جب کہ (مذکورہ انبیاء سے) پہلے انہوں نے (انپے رب کو) پکارا تھا۔ یعنی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے بددعا کی تھی۔ فاستجبنا لہ پس ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیا۔ فنجینہ واہلہ اور ہم نے ان کو اور ان کے اہل کو یعنی ان لوگوں کو۔ من الکرب العظیم۔ جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے سخت غم سے نجات دی۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا ڈوبنے سے اور قوم کی جانب سے تکذیب سے نجات دی۔ حضرت نوح کی عمر تمام انبیاء سے زیادہ ہوئی اور سختیاں بھی آپ نے سب سے زیادہ برداشت کیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ قوم والے حضرت نوح ( علیہ السلام) کو مارتے تھے اور اتنا مارتے تھے کہ اپنے خیال میں مردہ کردیتے تھے پھر ایک نمدہ میں لپیٹ کر گھر میں ڈال دیتے تھے۔ لیکن دوسرے روز آپ پھر گھر سے برآمد ہو کر لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے تھے۔ محمد بن اسحاق نے بیان کیا کہ عبید بن عمیر لیثی نے کہا مجھے اطلاع پہنچی ہے کہ لوگ حضرت نوح کو پکڑ کر آپ کا گلا گھونٹتے کہ آپ بےہوش ہوجاتے پھر ہوش آتا تو کہتے میرے رب میری قوم کو بخش دے وہ ناواقف ہیں۔
Top