Mutaliya-e-Quran - Al-Hashr : 17
فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠   ۧ
فَكَانَ : پس ہوا عَاقِبَتَهُمَآ : ان دونوں کا انجام اَنَّهُمَا : بیشک وہ دونوں فِي النَّارِ : آگ میں خَالِدَيْنِ : وہ ہمیشہ رہیں گے فِيْهَا ۭ : اس میں وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا : اور یہ جزا، سزا الظّٰلِمِيْنَ : ظالموں
پھر دونوں کا انجام یہ ہونا ہے کہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائیں، اور ظالموں کی یہی جزا ہے
[فَكَان عَاقِبَتَهُمَآ : پس ہے انجام دونوں کا ] [انهُمَا : کہ وہ دونوں ][ فِي النَارِ : آگ میں ہے ][ خَالِدَيْنِ فِيْهَا : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہیں اس میں ][وَذٰلِكَ جَزٰۗؤُا الظّٰلِمِيْنَ : اور یہ ظلم کرنے والوں کی جزاء ہے ] نوٹ۔ 1 : اس پورے رکوع کے انداز بیان سے یہ بات متعرشم ہوتی ہے کہ یہ اس زمانے میں نازل ہوا تھا جب رسول اللہ ﷺ نے بنی نضیر کو مدینہ سے نکل جانے کے لیے دس دن کا نوٹس دیا تھا۔ اور ان محاصرہ شروع ہونے میں کئی دن باقی تھے۔ بنی نضیر کو جب یہ نوٹس ملا تو عبد اللہ بن ابی نے ان کو یہ کہلا بھیجا کہ ہم دو ہزار آدمیوں کے ساتھ تمہاری مدد کو آئیں گے۔ اس لیے مسلمانوں کے آگے ہتھیار مت ڈالو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ پس ترتیب نزول کے اعتبار سے یہ رکوع پہلے نازل ہوا تھا اور پہلا رکوع اس کے بعد نازل ہوا جب بنی نضیر مدینہ سے نکالے جا چکے تھے۔ لیکن قرآن مجید کی ترتیب میں بحکم الٰہی پہلے رکوع کو مقدم اور دوسرے کو مؤخر اس لیے کیا کہ اہم تر مضمون پہلے رکوع میں بیان ہوا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Top