Tafseer-e-Saadi - An-Nahl : 127
اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
اَتٰٓى : آپہنچا اَمْرُ اللّٰهِ : اللہ کا حکم فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ : سو اس کی جلدی نہ کرو سُبْحٰنَهٗ : وہ پاک وَتَعٰلٰى : اور برتر عَمَّا : اس سے جو يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک بناتے ہیں
خدا کا حکم (یعنی عذاب گویا) آ ہی پہنچا تو (کافرو) اس لے لئے جلدی مت کرو۔ یہ لوگ جو (خدا کا) شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے۔
آیت نمبر 1 قولہ تعالیٰ : اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ کہا گیا ہے کہ اس میں اتی بمعنی یأتی ہے، (یعنی آ رہا ہے) اور یہ تیرے اس قول کی طرف ہے : إن اکرمتنی أکرمتک (اگر تو نے میری عزت کی تو میں تیری تکریم کروں گا) ۔ اور یہ پہلے گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ماضی اور مستقبل میں خبر دینا برابر ہے، کیونکہ وہ لامحالہ ہو کر رہنے والا ہے، جیسا کہ اس کا قول ہے : ونادی اصحب الجنۃ اصحب النار (الاعراف :44) اور امر اللہ سے مراد اسکے لئے اس کی سزا اور عقاب ہے جو شرک کرنے اور اس کے رسول کی تکذیب کرنے پر قائم رہا۔ حسن، ابن جریج اور ضحاک نے کہا ہے : امر سے مراد وہ ہے جس کے ساتھ قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کے فرائض و احکام کو بیان کیا ہے۔ اور اس میں بہت بعد ہے، کیونکہ یہ منقول نہیں ہے کہ صحابہ کرام میں سے کسی نے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی طلب میں عجلت کی ہو اس سے پہلے کہ وہ ان پر فرض کئے جائیں، البتہ عذاب و عقاب کی طلب میں جلدی کرنے والے ہیں اور وہ بہت سے کفار قریش وغیرہ سے منقول ہے حتیٰ کہ نضر بن حارث نے کہا : اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک، تو اس نے عذاب کی طلب میں عجلت کی۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : حضاک حضرت عمر ؓ کے قول سے استدلال کرتے ہیں کہ میں نے اور میرے رب نے تین چیزوں میں باہم موافقت کی ہے : مقام ابراہیم میں، حجاب میں اور بدر کے قیدیوں کے بارے میں، اسے امام بخاری اور امام مسلم رحمہا اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے۔ اور یہ بیان سورة البقرہ میں پہلے گزر چکا ہے۔ اور زجاج نے کہا ہے : یہ وہ ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر پر انہیں جزا دینے کا وعدہ کیا ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی مثل ہے : فاذا جآء امرنا وفار التنور (المومنون :27) (یہاں تک کہ جب آگیا ہمارا حکم اور ابل پڑا تنور) ۔ اور بعض نے کہا ہے : یہ قیامت کا دن ہے یا قیامت کی علامت میں سے وہ جو اس کے قرب پر دلالت کرتی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : جب یہ آیت نازل ہوئی : اقتربت الساعۃ وانشق القمر۔ (القمر) (قیامت قریب آگئی ہے اور چاند شق ہوگیا) ۔ کفار نے کہا : بیشک یہ گمان کر رہے ہیں کہ قیامت قریب آچکی ہے، پس تم ان بعض کاموں سے رک جاؤ جو تم کرتے ہو، پس وہ رک گئے اور انتظار کرنے لگے لیکن انہوں نے کوئی شے نہ دیکھی، تو پھر کہنے لگے : ہم تو کوئی شے نہیں دیکھ رہے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی، اقترب للناس حسابھم الآیہ (الانبیاء :1) (قریب آگیا لوگوں کے لئے ان کے (اعمال کے) حساب کا وقت) پس وہ خوفزدہ ہوگئے اور قرب قیامت کا انتظار کرنے لگے، پھر ایام طویل ہوگئے تو وہ کہنے لگے : ہم تو کوئی شے نہیں دیکھ رہے ہیں، پھر یہ آیت نازل ہوئی : اتی امر اللہ پس رسول اللہ ﷺ اور مسلمان اچھل پڑے اور خوفزدہ ہوگئے، پھر یہ ارشاد نازل ہوا : فلا تستعجلوہ پس وہ مطمئن ہوگئے، تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے قیامت کے ساتھ ان دو کی طرح مبعوث کیا گیا ہے “۔ اور آپ ﷺ نے دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا اور وہ ایک سبابہ (شہادت کی انگلی) اور اس کے ساتھ والی انگلی تھی۔ آپ فرماتے ہیں کہ قریب تھا کہ وہ مجھ سے سبقت لے جاتی لیکن میں اس پر سبقت لے گیا۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ حضور نبی مکرم ﷺ کی بعثت قیامت کی نشانیوں میں سے ہی ہے۔ اور یہ کہ حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) جب آسمان والوں کے پاس سے گزرتے اس حال میں کہ انہیں حضور نبی رحمت ﷺ کی طرف بھیجا جاتا تھا تو وہ کہتے : اللہ اکبر، قیامت قریب آگئی۔ قولہ تعالیٰ : سبحنہ وتعالیٰ عما یشرکون یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ہر اس شے سے پاک ہے جس کے ساتھ وہ اسے متصف کرتے ہیں کہ وہ قیامت قائم کرنے پر قدرت نہیں رکھتا، اور یہ اس لئے ہے کہ وہ کہتے تھے : کوئی بھی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قدرت نہیں رکھتا، پس وہ اللہ تعالیٰ کو اس عجز کے ساتھ متصف کرتے تھے جس کے ساتھ صرف اور صرف مخلوق کو متصف کیا جاسکتا ہے، اور یہ شرک ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : عما یشرکون یعنی اس کی ذات ان کے شریک ٹھہرانے سے پاک ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ما بمعنی الذی ہے، یعنی وہ ذات جو ان سے بلند ہے جنہوں نے اس کے ساتھ شرک کیا۔
Top