تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 36

  1. وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ﴿36﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. رَاٰكَتمہیں دیکھتے ہیں
    3. الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓاوہ جنہوں نے کفر کیا (کافر)
    4. اِنْنہیں
    5. يَّتَّخِذُوْنَكَٹھہراتے تمہیں
    6. اِلَّامگر۔ صرف
    7. هُزُوًاایک ہنسی مذاق
    8. اَھٰذَاکیا یہ ہے
    9. الَّذِيْوہ جو
    10. يَذْكُرُیاد کرتا ہے
    11. اٰلِهَتَكُمْتمہارے معبود
    12. وَهُمْاور وہ
    13. بِذِكْرِذکر سے
    14. الرَّحْمٰنِرحمن (اللہ)
    15. هُمْوہ
    16. كٰفِرُوْنَمنکر (جمع)
Translation · Al-Qurtubi
اور جب کافر تم کو دیکھتے ہیں تو تم سے استہزاء کرتے ہیں کہ کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے ؟ حالانکہ وہ خود رحمن کے نام سے منکر ہیں
Tafseer · Al-Qurtubi
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و از راک الذین کفروا ان یتخذونک الا ھزواً اس آیت میں ان نافیہ ہے۔ الھزء کا معنی مزاق کرنا ہے۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ استہزاء کرنے والے وہی ہیں جن کا ذکر سورة الحجر میں انا کفینک المستھزء ین۔ (الحجر) کے تحت گزر چکا ہے۔ وہ اس کو مبعوث سمجھتے تھے جو ان کے بتوں کے الہ ہونے کا انکار کرتا تھا اور خود رحمن کی الوہیت کا انکار کرتے تھے۔ یہ انتہائی جہالت ہے۔ اھذا الذی یعنی وہ کہتے ہیں : کیا یہ ہے وہ ؟ قول کو مضمر کیا گیا ہے اور وہ اذا کا جواب ہے۔ ان یتخذونک الا ھزواً ، اذا اور اس کے جواب کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ یذکر الھتکم یعنی برائی اور عیب کے ساتھ خداؤں کا ذکر کرتا ہے : عشرہ کا قول ہے : لا تذکری مھری وما أطعمتہ فیکون جلدک مثل جلد الاجرب یعنی میرے مہر کو عیب نہ لگا۔ وھم بذکر الرحمن یعنی وہ قرآن کا انکار کرتے ہیں۔ ھم کفرون۔ دوسرا ھم ان کے کفر کی تاکید ہے، یعنی وہ ہی انکار کرنے والے ہیں۔ ان کے وصف کفر میں مبالغہ کیا۔