تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 92

  1. اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ﴿92﴾

    1. اِنَّبیشک
    2. هٰذِهٖٓیہ ہے
    3. اُمَّتُكُمْتمہاری امت
    4. اُمَّةًامت
    5. وَّاحِدَةًایک (یکتا)
    6. ڮ وَّاَنَااور میں
    7. رَبُّكُمْتمہارا رب
    8. فَاعْبُدُوْنِپس میری عبادت کرو
Translation · Al-Qurtubi
یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو
Tafseer · Al-Qurtubi
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ جب انبیاء کرام کا ذکر فرمایا تو فرمایا : یہ تمام توحید پر جمع تھے۔ یہاں امۃ سے مراد دین ہے اور وہ اسلام ہے ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد و غیر ہما کا قول ہے۔ رہے مشرک تو انہوں نے تمام انبیاء کی مخالفت کی۔ وانا ربکم یعنی صرف میں ہی تمہارا پروردگار ہوں۔ فاعبدوں صرف میری عبادت کرو۔ عیسیٰ بن عمر اور ابن ابی اسحاق نے ان ھذہ امتکم واحدۃ پڑھا ہے اور یہ حسن نے ابو عمرو سے روایت کیا ہے۔ باقی قراء نے امۃ واحدۃً پڑھا ہے۔ اس پر نصب قطع کی بنا پر ہے کہ کلام مکمل کرنے کے بعد نکرہ آیا ہے۔ فراء کا قول ہے نحاس نے کہا : امۃ پر نصب حال کی بنا پر ہے یعنی حق پر جمع ہونے کی حالت پر یعنی یہ امت ایک امت رہی اور تم توحید پر جمع رہے اور جب تم جدا جدا ہوگئے اور اختلاف کیا تو جو حق کی مخالفت کرنے والا تھا وہ دین حق کے اہل میں سے نہ رہا جیسے تو کہتا ہے : فلان صدیقی عفیفاً یعنی جب تک وہ پاک تھا میرا دوست تھا جب عفت میں مخالف ہوا تو میرا دوست نہ تھا۔ رہا رفع تو یہ امتکم سے بدل ہونے کی بنا پر یا مبتدا کے اضمار کی بنا پر ہوگا یعنی ان ھذہ امتکم ھذہ امۃ واحدۃ یا یہ دوسری خبر ہوگی اور اگر تو ھذہ سے بدل کی بنا پر امتکم کو نصب دے تو بھی جائز ہے اور امۃ واحدۃ ان کی خبر ہوگی۔