Al-Qurtubi - Al-Israa : 84
اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ
اَيَحْسَبُوْنَ : کیا وہ گمان کرتے ہیں اَنَّمَا : کہ جو کچھ نُمِدُّهُمْ : ہم مدد کر رہے ہیں ان کی بِهٖ : اس کے ساتھ مِنْ : سے مَّالٍ : مال وَّبَنِيْنَ : اور اولاد
کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو دنیا میں ان کو مال اور بیٹوں کی مدد دیتے ہیں
آیت نمبر 55-56 اللہ کا ارشاد ہے : ا یحسبون انما نمدھم بہ مال وبنین۔ ما بمعنی الذی ہے یعنی اے پیارے محمد : کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ جو ہم انہیں دنیا میں مال اور اولاد دیتے ہیں وہ ان کے لیے ثواب ہے بلکہ وہ تو استدراج ہے اور ڈھیل ہے یہ بھلائیوں کے پہنچانے میں جلدی نہیں ہے۔ ان کی خبر میں تین اقوال ہیں۔ 1۔ خبر محذوف ہے۔ زجاج نے کہا اس کا معنی ہے نسارع لھم بہ فی الخیرات، بہ کو، حذف کیا گیا۔ (زاد المسیر، جلد 3 صفحہ 347) ۔ ہشام الضریر نے ایک باریک اور دقیق قول کیا ہے۔ انہوں نے کہا : انما ھی الخیرات۔ معنی یہ ہوگا سارع لھم فیہ۔ پھر ظاہر فرمایا اور فرمایا فی الخیرات۔ اس تقدیر پر اس میں حذف نہیں ہے۔ کسائی کا مذہب یہ ہے کہ انما ایک حرف ہے۔ یہ حذف کی تقدیر کا محتاج نہیں وبنین پر وقف جائز ہے اور جنہوں نے کہا کہ انما دو حرف ہیں ان کے نزدیک ایک ضمیر کا ہونا ضروری ہے جو خبر سے ان کے اسم کی طرف لوٹے وبنین پر وقف مکمل نہیں۔ سختیانی نے کہا وبنین پر وقف اچھا نہیں کیونکہ یحسبون دو مفعولوں کا محتاج ہے۔ دونوں مفعولوں کی تکمیل فی الخیرات میں ہے۔ ابن انباری نے کہا : یہ خطا ہے کیونکہ ان اپنے اسم اور خبر کی وجہ سے کافی ہے ان کے بعد دوسرا مفعول لانا جائز نہیں۔ ابو عبد الرحمن سلمی اور عبد الرحمن بن ابی بکرہ نے یسارع یاء کے ساتھ پڑھا ہے اس بناء پر کہ اس کا فاعل امدادنا ہے۔ یہ بغیر حذف کے ہونا جائز ہے یعنی یسارع لھم الامداد۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس میں حذف جائز ہونا معنی ہوگا یسارع للہ لھم فی الخیرات بھی پڑھا جاتا ہے اس میں تین وجوہ ہیں : ایک حذف کی بناء پر ہے اور یسارع الامداد ہونا بھی جائز ہے یہ بھی جائز ہے کہ لھم نائب الفاعل ہو ؛ یہ نحاس نے ذکر کیا ہے۔ مہدوی نے کہا حر نحوی نے نسرع لھم فی الخیرات پڑھا ہے یہ جماعت کی قرأت کا معنی ہے۔ ثعلبی نے کہا : درست جمہور کی قرأت ہے کیونکہ پیچھے تمد آیا ہوا ہے۔ بل لا یشعرون۔ انہیں شعور نہیں کہ یہ ان کے لئے فتنہ اور استدراج ہے۔
Top