Maarif-ul-Quran - Al-Muminoon : 55
اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ
اَيَحْسَبُوْنَ : کیا وہ گمان کرتے ہیں اَنَّمَا : کہ جو کچھ نُمِدُّهُمْ : ہم مدد کر رہے ہیں ان کی بِهٖ : اس کے ساتھ مِنْ : سے مَّالٍ : مال وَّبَنِيْنَ : اور اولاد
کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو ان کے مال و اولاد میں اضافہ کر رہے ہیں
آیت 56-55 سرگشتگان دنیا کو تنبیہ مال وبنین دنیاوی رفاہیت کی ایک جامع تعبیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان سرمستوں کی سرمستی کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان کو دنیا کی جو خوشحالیاں دے رکھی ہیں انکی تھپکیاں ان کو جاگنے نہیں دے رہی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ عیش جو ان کو حاصل ہے، ان کی زندگی کے کامیاب ہونے کی دلیل ہے اور ان کامیبیوں اور فتوحات میں برابر ضا افہ ہی ہوتا رہے گا اس وجہ سے کسی ڈرانے والے کے ڈرائوئوں سے ڈر کر انہیں اپنا عیش مکدر نہیں کرنا چاہئے۔ فرمایا کہ اگر وہ یہ سمجھے بیٹھے ہیں تو بہت غلط سمجھے ہیں۔ یہ جن چیزوں کو کامیابیاں تصور کئے ہوئے ہیں یہ کامیابیاں نہیں ہیں بلکہ یہ قدرت کے استدراج کا پھندا ہے جس میں پھنس جانے کے بعد وہ کبھی اس سے چھوٹ نہیں سکیں گے لیکن وہ اپنی بلاوت کے سبب سے اس حقیقت کا احساس نہیں کر رہے ہیں۔
Top