تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 57. Al-Hadid · Ayah 8
وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿8﴾
- وَمَا لَكُمْاور کیا ہے تمہارے لیے
- لَا تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ ۚنہیں تم ایمان لاتے ہو اللہ پر
- وَالرَّسُوْلُاور رسول
- يَدْعُوْكُمْبلاتا ہے تم کو
- لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْتاکہ تم ایمان لاؤ اپنے رب پر
- وَقَدْ اَخَذَحالانکہ تحقیق اس نے لیا ہے
- مِيْثَاقَكُمْپختہ عہد تم سے
- اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَاگر ہو تم ایمان لانے والے
Translation · Al-Qurtubi
اور تم کیسے لوگ ہو کہ خدا پر ایمان نہیں لاتے ؟ حالانکہ (اس کے) پیغمبر تمہیں بلا رہے ہیں کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ اور اگر تم کو باور ہو تو وہ تم سے (اس کا) عہد بھی لے چکا ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
وما لکم لا تومنون باللہ یہ استفہام ہے مراد توبیخ ہے یعنی ایمان نہ لانے کا تمہارے پاس کیا عذر ہے جب کہ تمام رکاوٹیں ختم ہوچکی ہیں والرسول یدعوکم اس کے ساتھ یہ واضح کیا کہ شرائع کے وارد ہونے سے پہلے کوئی حکم نہیں۔ ابو عمر نے اسے پڑھا و قد اخذمیثاقکم، احذ فعل مجہول ہے باقی قراء نے اسے معروف پڑھا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے تم سے پختہ وعدہ لیا ہے کہ تم میں عقلیں رکھیں اور تم پر دلائل اور حجتیں قائم ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی متابعت کی طرف لے جاتی ہیں ان کنتم مومنین۔ یہاں ان، اذ کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر تم حجتوں اور دلائل پر ایمان رکھتے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر تم کسی روز حق پر ایمان رکھتے ہو تو آج سب سے مناسب وقت ہے کہ تم ایمان لے آئو کیونکہ حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے دلائل قائم ہوچکے ہیں پس اس کے دلائل صحیح ثابت ہوگئے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر تم اللہ تعالیٰ جو تمہارا خالق ہے اس پر ایمان رکھتے ہو۔ وہ اس چیز کا اعتراف کرتے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ ایسی قوم کو خطاب ہے جو ایمان لائی نبی کریم ﷺ نے ان سے وعدہ لیا بعد میں وہ مرتدہو گئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ان کنتم مومنین۔ سے مراد ہے اگر تم ایمان کی شرائط کا اقرار کرتے ہو۔