تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 58. Al-Mujaadila · Ayah 10
اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ﴿10﴾
- اِنَّمَااس کے سوا نہیں
- النَّجْوٰىسرگوشی
- مِنَسے
- الشَّيْطٰنِشیطان
- لِيَحْزُنَتاکہ وہ غمگین کرے
- الَّذِيْنَان لوگوں کو جو
- اٰمَنُوْاایمان لائے
- وَلَيْسَاور نہیں
- بِضَآرِّهِمْوہ ان کا بگاڑ سکتا
- شَيْئًاکچھ
- اِلَّابغیر
- بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭاللہ کے حکم سے
- وَعَلَي اللّٰهِاور اللہ پر
- فَلْيَتَوَكَّلِتو بھروسہ کرنا چاہیے
- الْمُؤْمِنُوْنَمومن (جمع)
Translation · Al-Qurtubi
کافروں کی) سرگوشیاں تو شیطان (کی حرکات) سے ہیں (جو) اس لئے (کی جاتی ہیں) مومن (ان سے) غمناک ہوں مگر خدا کے حکم کے سوا ان سے انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ تو مومنوں کو چاہیے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں۔
Tafseer · Al-Qurtubi
مسئلہ نمبر 1۔ انما النجوی من الشیطن یہ نجوی شیطان کی طرف سیم زین کرنے کی وجہ سے ہے لیحزن الذین امنوا کیونکہ مومن خیال کرتے تھے سرایا (چھوٹے لشکر) میں مسلمانوں کو کوئی مصیبت واقع ہوگئی ہے یا وہ مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے اجتماع کیا کرتے تھے بعض اوقات وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ مناجات کیا کرتے تھے تو مسلمان گمان کرتے تھے کہ یہ لوگ نبی کریم ﷺ کے ہاں ان کے نقائص بیان کیا کرتے ہیں۔ ولیس بضآرھم یہ سرگوشیاں مومنوں کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ شیاً الا باذن اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت سے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کے علم سے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے، اس کے امر سے۔ ووعلی اللہ فلیتوکل المومنون۔ یعنی انہیں اپنے امور اللہ کے سپرد کرنے اور تمام لوگ اس کی مدد کو سپرد کرنے چاہئیں اور شیطان اور اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہئے کیونکہ اسی ذات نے بندے کے امتحان اور آزمائش کی خاطر شیطان کو وساوس کے ساتھ ان پر مسلط کیا ہے اگر چاہے تو شیطان کو اس سے دور کر دے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ صحیحین میں حضر ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب تین افراد ہوں تو ایک کو چھوڑ کر دو آدمی آپس میں سرگوشیاں نہ کریں “۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ و نے فرمایا : ” جب تم تین ہو تو ایک کو چھوڑ کر دو آدمی آپس میں سرگوشیاں نہ کریں یہاں تک کہ تم لوگوں میں گھل مل جائو تاکہ وہ اکیلا غمگین نہ ہو “۔ اس حدیث میں اس منع کرنے کی علت بیان کردی ہے وہ یہ ہے کہ تیسرا آدمی اس کو پائے جس کے ساتھ وہ گفتگو کرے جس طرح حضرت ابن عمر نے کہا : اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ایک آدمی کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے تو ایک اور آدمی آگیا جو آپ سے سرگوشی کرنا چاہتا تھا تو آپ نے اس سے رازداری سے بات نہ کی یہاں تک کہ چوتھے آدمی کو بلایا تو آپ نے اسے اور پہلے آدمی کو کہا : تم دونوں پیچھے ہوجائو اور جو سرگوشیاں کرنا چاہتا تھا اس کے ساتھ سرگوشی ی۔ اسے امام موطا نے نقل کیا ہے۔ اس میں علت پر تنبیہ بھی ہے۔ من اجل ان یحزنہ۔ یعنی اس کے دل میں ایسی بات واقع ہو جو اسے غمگین کرے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے دل میں سوچے کہ یہ بات اس کے متعلق ہے جو اسے ناپسند ہے یا انہوں نے اسے اس کے اہل نہیں سمجھا کہ وہ اسے اپنی بات میں شریک کریں اس کے علاوہ شیطان کے وساوس اور نفس کے توہمات ہوسکتے ہیں یہ سب صورتیں تب ہوسکتی ہیں کہ وہ اکیلا رہ گیا ہو جب اس کے ساتھ کوئی اور بھی ہو تو وہ اس سے امن میں ہوگا اس علت کی بنا پر تمام عدد اس حکم میں برابر ہوں گے۔ چار ایک کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں اور دس ایک کو چھوڑ کر اسی طرح ایک ہزار کیونکہ یہی وجہ اس عدد میں بھی پائی جا رہی ہے بلکہ کثیر تعداد میں اس کا وجود زیادہ دقیع ہے اس لئیے اسے منع کرنا زیادہ مناسب ہے۔ تین کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ یہ پہلا وہ وعدد ہے جس میں یہ معنی پایا جاتا ہے۔ اس حدیث کا ظاہر تمام زمانوں اور احوال کو شامل ہے ؛ اسی طرف حضرت ابن عمر، امام مالک اور جمہور گئے ہیں۔ خواہ سرگوشی کسی مستحب امر میں ہو، مباح میں ہو یا واجب میں ہو کیونکہ غم اس میں واقع ہوتا ہے۔ بعض لوگ اس طرف گئے ہیں کہ یہ ابتداء اسلام میں تھا کیونکہ یہ حکم منافقین کے بارے میں تھا منافقی مومنوں کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشیاں کیا کرتے تھے جب اسلام عام ہوگیا تو یہ حکم ساقط ہوگیا۔ بعض نے کہا : یہ حکم سفر میں ایسے مواقع پر ہوتا ہے جس میں ایک آدمی اپنے ساتھی سے امن میں نہیں ہوتا جہاں تک شہر اور آبادی کا تعلق ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ وہاں وہ ایسے شخص کو پاتا ہے جو اس کی مدد کرسکتا ہے سفر کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ وہاں دھوکہ کا امکان ہوتا ہے اور مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔