تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 58. Al-Mujaadila · Ayah 11
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴿11﴾
- يٰٓاَيُّهَااے
- الَّذِيْنَجو لوگ
- اٰمَنُوْٓامومنو
- اِذَا قِيْلَجب کہاجائے
- لَكُمْتمہیں
- تَفَسَّحُوْاتم کھل کر بیٹھو
- فِي الْمَجٰلِسِمجلسوں میں
- فَافْسَحُوْاتو تم کھل کر بیٹھ جایا کرو
- يَفْسَحِکشادگی بخشے گا
- اللّٰهُاللہ
- لَكُمْ ۚتمہیں
- وَاِذَا قِيْلَاور جب کہا جائے
- انْشُزُوْاتم اٹھ کھڑے ہو
- فَانْشُزُوْاتو اٹھ جایا کرو
- يَرْفَعِ اللّٰهُبلند کردے گا اللہ
- الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاجو لوگ ایمان لائے
- مِنْكُمْ ۙتم میں سے
- وَالَّذِيْنَاور جن لوگوں کو
- اُوْتُوا الْعِلْمَعلم عطا کیا گیا
- دَرَجٰتٍ ۭدرجے
- وَاللّٰهُاور اللہ
- بِمَااس سے جو کچھ
- تَعْمَلُوْنَتم کرتے ہو
- خَبِيْرٌباخبر
Translation · Al-Qurtubi
مومنو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کھل جاؤ تو کھل کر بیٹھا کرو خدا تم کو کشادگی بخشے گا۔ اور جب کہا حائے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہوا کرو جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے خدا ان کے درجے بلند کریگأ۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
تفسیر
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا الذین امنوا ذا قیل لکم تفحو فی المجلس۔ جب اس امر کی وضاحت کی کہ یہودی آپ کو ایسے انداز میں سلام کرتے ہیں جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام نہیں کیا اور اس امر پر ان کی مذمت کی ساتھ ہی انہیں رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں حسن ادب کا حکم دیا تاکہ وہ آپ پر مجلس کو تنگ نہ کردیں اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ باہم شفقت اور محبت کا اظہار کریں یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کے لئے جگہ کھلی کردیں تاکہ وہ رسول اللہ ﷺ کی بات سن سکیں اور آپ کا دیدار کرسکیں۔ قتادہ اور مجاہد نے کہا : صحابہ نبی کریم ﷺ کی مجلس میں باہم مقابلہ کیا کرتے تھے تو انہیں حکم دیا کیا کہ وہ ایک دوسرے کیلئے جگہ کھلی کردیں ؛ یہ ضحاک کا قول ہے (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہاں مراد قتال کی مجالس ہیں جب وہ جنگ کرنے کے لئے صف بندی کیا کرتے تھے (2) ۔ حضرت حسن بصری اور یزید بن ابی حبیب نے کہا : نبی کریم ﷺ جب مشرکوں سے جنگ کرتے تو آپ کے صحابہ پہلی صف میں کھڑا ہونے کو پسند کرتے تھے وہ ایک دوسرے کے لئے جگہ نہ چھوڑتے وہ قتال اور شہادت میں رغبت رکھتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح فرمایا : مقاعد للقتال (آل عمران :121) مقاتل نے کہا : نبی کریم ﷺ صفہ میں موجود تھے جمعہ کے روز جگہ میں تنگی ہوجاتی نبی کریم ﷺ بدری مہاجرین و انصاری کی تعظیم کرتے بدری صحابہ آئے ان میں حضرت ثابت بن قیس بن شماس تھے ان سے پہلے ہی لوگ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ بدری صحابہ نبی کریم ﷺ کے ارد گرد کھڑے ہوگئے وہ انتظار کر رہے تھے ان سے پہلے ہی لوگ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ بدری صحابہ نبی کریم ﷺ کے ارد گرد کھڑے ہوگئے وہ انتظار کررہے تھے کہ ان کیلئے جگہ کھلی کردی جائے گی تو لوگوں نے ان کے لئے جگہ کھلی نہ کی یہ امر نبی کریم ﷺ کو شاق گزرا آپ کے ارد گرد جو غیر بدری صحابہ موجود تھے آپ نے انہیں فرمایا :” اے فلاح تو اٹھ، اے فلاں تو اٹھ “ اتنے افراد کا نام لیا جس قدر بدری صحابہ کھڑے تھے جس اٹھایا گیا اس پر یہ امر شاق گزرا۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے چہروں سے ناگواری کے آثار محسوس کرلیے۔ منافقوں نے آنکھوں سے اشارے کیے اور یہ کہا : ان سے انصاف نہیں ہوا انہوں نے اپنے نبی کے قرب کو پسند کیا اور پہلے آئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا : تفسحوا کا معنی ہے کھل جائو۔
فسح فلان لاخیۃ فی مجلسہ یفسح فسحا یعنی اس کے لئے جگہ کو کھلا کردیا ؛ اسی معنی میں ان کا قول ہے بلد فسیح ولت فی کا فسحۃ شہر کھلا ہے تیرے لئے اس میں وسعت ہے فسح یفسح کا باب منع یمنع کی طرح ہے معنی ہے بیٹھنے والی جگہ کو کھلا کردیا۔ فسح یفسح فساحۃ جس طرح کرم یکرم کر امۃ یعنی کھلا ہوگیا اسی معنی میں مکان فسیح ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ سلمی، رزبن جیش اور عاصم نے فی المجالس پڑھا ہے۔ قتادہ، دائود بن ہند اور حسن بصری نے۔۔ سے اختلاف کیا ہے جب کہ باقی راء نے تفسحوا فی المجلس پڑھتا ہے۔ جس نے جمع کا صیغہ پڑھا ہے تو وہ اس امر کی خبر دیتا ہے کہ ہر ایک کیلئے ایک مجلس ہے اسی طرح اگر جنگ کا ارادہ کیا جائے اس طرح یہ بھی جائز ہے کہ مسجد نبوی کا ارادہ کیا جائے۔ صیغہ جمع کا ذکر کیا کہ ہر بیٹھنے والے کے لئے ایک مجلس ہے اسی طرح یہ بھی جائز ہے کہ اگر مجلس سے مراد نبی کریم کی مجلس ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ جنس کے اعتبار سے جمع مراد ہو جس طرح عربوں کا قول ہے : کثر الدینار والدرھم۔
میں کہتا ہوں : صحیح یہ ہے کہ یہ ہر مجلس میں عام ہے جس میں مسلمان خیر اور اجر کے لئے جمع ہوں خواہ جنگ کی مجلس ہو، ذکر کی مجلس ہو یا جمعہ کے دن کی مجلس ہو کیونکہ ہر ایک ایسی جگہ کا زیادہ حق دار ہے جس کی طرف وہ سبقت لے گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” جو ایسی جگہ کی طرف سبقت لے گیا جس کی طرف پہلے کوئی سبقت نہیں لے گیا تھا تو وہ اس جگہ کا زیادہ مستحق ہے مگر وہ اپنے بھائی کیلئے جگہ وسیع کردے جب تک اس سیاذیت میں مبتلا نہ ہو کہ کہیں تنگی اسے اپنی جگہ سے ہی نہ نکال دے “۔
امام مسلم حضرت ابن عمر سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” کوئی آدمی کسی آدمی کو اس کی جگہ سے نہ اتھائے پھر اس میں خود بیٹھے “ آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع کیا کہ ایک آدمی کو اس کی جگہ سے اٹھایا جائے اور اس میں کوئی آدمی بیٹھے، بلکہ کھل جائو اور جگہ کو وسیع کردو۔ حضرت ابن عمر ؓ اس امر کو ناپسند کرتے تھے کہ ایک آدمی اپنی جگہ سے اٹھ جائے پھر اسیجگہ بیٹھے۔ یہ بخاری کے الفاظ ہیں۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ جب لوگوں میں سے کوئی مسجد کی ایک جگہ میں بیٹھے تو کسی اور کے لئے جائز نہیں کہ اسے اٹھائے اور اس کی جگہ بیٹھے۔ امام مسلم نے ابو زبیر سے وہ حضرت جابر ؓ سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ” تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو جمعہ کے روز اپنی جگہ سے نہ اٹھائے پھر اس کے بیٹھنے کی جگہ کی طرف آئے اور اس میں بیٹھ جائے بلکہ کہے کھل جائو “۔
مسئلہ۔ کسی جگہ بیٹھنے والا شخص جب اٹھے یہاں تک کہ کوئی اور اس کی جگہ بیٹھ جائے تو اس میں غوروفکر کیا جائے گا اگر وہ جگہ جس کیلئے وہ اٹھا ہے وہ امام کا کلام سننے میں پہلے کی طرح ہے تو اس کے لئے یہ مکروہ نہیں اگر وہ جگہ امام سے دور ہے تو یہ اس کے لئے مکروہ ہے کیونکہ اس میں اپنے حصہ کو فوت کرنا ہے۔
مسئلہ نمبر 4 ۔ جب کوئی انسان دوسرے انسان کو کہے کہ وہ جامع مسجد کی طرف جلدی جائے وہ اس کے لئے ایک جگہ مختص کردے جہاں وہ آکر بیٹھے تو یہ مکروہ نہیں جب کہنے والا آئے تو پہلے سے موجود شخص اس کے لئے اٹھ کھڑا ہو کیونکہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ حضرت ابن سیرین کا یہ معمول تھا کہ وہ اپنے غلام کو جمعہ کے روز بھیجتے کہ وہ ان کے لئے جگہ بنائے وہ غلام ان کے لئے ایک جگہ بیٹھ جاتا جب وہ آتے تو وہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہوتا۔
مسئلہ : اس صورت میں یہ مسئلہ مستنبظ کیا گیا ہے کہ اگر کوئی آدمی قالین یا سجادہ بھیجے تو مسجد کی کسی جگہ اس کے لئے بچھا دیا جائے تو یہ جائز ہوگا۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اذا قام احدکم اور ابو عوانہ کی حدیث میں من قام من مجلس یعنی جو آدمی اپنی جگہ سے اٹھا پھر وہ اسی جگہ کی طرف لوٹا تو وہ اس جگہ بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہے۔
ہمارے علما نے کہا : یہ روایت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس کا قول صحیح ہے جو یہ کہتا ہے کہ بیٹھنے والا اپنی جگ کے لئے خاص ہوجاتا ہے یہاں تک کہ وہ وہاں سے اٹھ جائے کیونکہ وہاں سے اٹھنے کے بعد جب وہ اس جگہ کا زیادہ مستحق ہے تو اس سے پہلے تو بدرجہ اولی سے اسی جگہ کا مستحق ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس جگہ کا اس کے لئے خاص ہونا بطور مذب ہے کیونکہ یہ جگہ کسی کی ملکیت نہیں نہ بیٹھنے سے پہلے اور نہ ہی بیٹھنے کے بعد۔ اس میں اعتراض کی گنجائش ہے وہ یہ ہے کہ کہا جائے : ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کسی کی ملکیت نہیں لیکن یہ جگہ اس کے لئے خاص رہے گی یہاں تک کہ اس کی ضرورت پوری ہوجائے تو وہ جگہ اسی طرح ہوجائے گی گویا وہ اس کی منفعت کا مالک ہے کیونکہ کسی دوسرے فرد کو اسے منع کردیا گیا ہے کہ اس کے ساتھ مزاحمت کرے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
مسئلہ نمبر 6 ۔ یفسح اللہ لکم اللہ تعالیٰ تمہاری قبروں میں وسعت پیدا کردے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہارے دلوں میں وسعت پیدا کردے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دنیا و آخرت میں تمہارے لئے وسعت پید اکردے گا (1) ۔
واذا قیل انشرو وافنسروانافع، ابن عامر اور عاصم نے دونوں میں شین کو مضموم پڑھا ہے اور باقی قراء نے اسے کسرہ دیا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں جس طرح یعکفون اور یعرشون ہے اس کا معنی ہے نماز، جہاد اور عمل خیر کے لئے اٹھو ؛ یہ اکثر مفسرین نے کہا۔ مجاہد اور ضحاک نے کہا : جب نماز کے لئے اذان کہی جائے تو نماز کے لئے اٹھ کھڑے ہو اس کی وجہ یہ تھی کہ کچھ لوگ نماز سے سستی کیا کرتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت حسن بصری اور مجاہد نے کہا : جنگ کے لئے اٹھ کھڑے ہو۔ ابن زید نے کہا : یہ حکم نبی کریم ﷺ کے گھر کے متعلق ہے ہر ایک آدمی یہ پسند کرتا کہ وہ سب سے آخر میں نبی کریم ﷺ کے گھر میں رہے تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : جب تمہیں نبی کریم ﷺ کی جانب سے کہا جائے اٹھو تو اٹھ جائو کیونکہ آپ کی کچھ ضروریات ہیں تو اس لئے رکے نہ رہو۔ قتادہ نے کہا : معنی ہے جب تم کو معروف امر کی دعوت دی جائے تو اس پر لبیک کہو، یہی قول صحیح ہے کیونکہ یہ عام ہے۔ اور نشز کا معنی بلند ہونا ہے نشنوالارض سے ماخوذ ہے اس سیمراد زمین کا بلند ہونا ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : نشز ینشزو ینشو جب وہ اپنی جگہ سے اوپر اٹھ جائے۔ امراۃ ناشرۃ یعنی وہ عورت جو اپنے خاوند سے علیحٰدہ اختیار کرے۔ اسی کی اصل نشتر ہے نشز کا معنی ہے جو زمین سے اوپر اٹھ جائے، نحاس نے اس کا ذکر کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 7 ۔ یرفع اللہ الذین امنوا منکم والذین اوتو العلم درجت یعنی آخر میں ثواب اور دنیا میں کرامت میں درجات بلند فرمائے گا، اللہ تعالیٰ مومن کو غیر مومن پر بلند کرے گا اور عالم کو غیر عالم پر بلند کرے گا۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں علماء کی مدح کی ہے معنی ہے اللہ تعالیٰ علماء کو ان مومنوں پر درجہ میں بلند کرے گا جن کو علم نہیں دیا گیا جب کہ وہ ان امور کو بجا لائیں جن کا انہیں حکم دیا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : غنی لوگ ناپسند کرتے تھے کہ ان کے ساتھ وہ آدمی مل بیٹھے جو اون کا لباس زیب تن کرتا ہے تو وہ نبی کریم ﷺ کی مجلس میں جلدی جائے تو خطاب ان کو ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایک غنی کو دیکھا جو ایک فقیر سے نفرت کی وجہ سے اپنے کپڑے کو سمیٹ رہا تھا جس فقیر نے اس کے پاس بیٹھنے کا ارادہ کیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اے فلاں ! کیا تجھے ڈر ہوا کہ تیری غنا اس کی طرف متعدی ہوجائے گی یا اس کا فقر تیری طرف متعدی ہوجائے گی “۔
اس آیت میں اس امر کو واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں رفعت و بلندی علم و ایمان کے ساتھ ہے مجالس میں آگے بیٹھنے کے ساتھ نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : الذین اوتو العلم سے مرادہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے قرآن حکیم کو پڑھا۔ یحیٰی بن یحییٰ نے امام مالک (رح) سے روایت نقل کی ہے : یرفع اللہ الذین امنو امنکم سے مراد صحابہ ہیں۔ والذین اوتوا العلم درجب یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے عالم اور حق کے طالب کو بلند فرماتا ہے۔
میں کہتا ہوں : مسئلہ میں عموم زیادہ وقیع اور آیت کے معنی کے زیادہ مناسب ہے۔ اللہ تعالیٰ پہلی دفعہ مومن کو اس کے ایمان کے ساتھ اور دوسری دفعہ اس کے علم کے ساتھ بلند فرماتا ہے۔ صحیح میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ ، حضرت عبد اللہ بن عباس کو بھی بلایا صحابہ سے اذا جاء نصر اللہ والفتح۔ کی تفسیر کے بارے میں پوچھا تو صحابہ خاموش ہوگئے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کے وصال کا وقت ہے جس بارے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کیا۔ حضرت عمر ؓ نے کہا : میں اسے وہی جانتا ہوں جو آپ جانتے ہیں۔
بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت عینیہ بن حصن بن حذیفہ بن بدر آئے اور اپنے بھتیجے حسر بن قیس بن حصن کے ہاں ٹھہرے لوگوں میں سے کچھ ایسے تھے جنہیں حضرت عمر اپنے قریب بٹھاتے تھے۔ قراء حضرت عمر ؓ کے اصحاب مجلس اور اہل مشورہ ہوا کرتے تھے وہ بڑی عمر کے ہوتے یا جوان ہوتے۔ یہ چیز سورة اعراف کے آخر میں واقع ہوئی ہے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ نافع بن عبد حرث حضرت عمر سے عسفان میں ملے حضرت عمر ؓ انہیں مکہ مکرمہ کا عامل بنانا چاہتے تھے۔ پوچھا : اہل وادی پر کس کو آپ نے عامل بنایا ہے ؟ جواب دینا : ابن ابزی کو۔ پوچھا : ابن ابزی کون ہے ؟ جواب دیا : وہ ہمارے غلاموں میں سے ایک غلام ہے۔ پوچھا : کیا آپ نے ان پر ایک غلام کو عامل بنایا ہے ؟ جواب دیا : وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کا قاری ہے، وہ فرائض کا علم رکھنے والا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : خبردار ! تمہارے نبی نے ارشاد فرمایا :” اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے کئی لوگوں کو رفعت عطا فرماتا ہے اور اس کے ذریعے دوسروں کو پست کرتا ہے “۔ کتاب کے شروع میں بحث گزر چکی ہے۔ علم و علماء کی فضیلت کے حوالے سے گفتگو اسی کتاب میں کئی اور مواقع پر گزر چکی ہے۔ الحمد اللہ
نبی کریم ﷺ سے روایت مروی ہے کہ فرمایا : ” عالم اور عابد کے درمیان ستر درجے ہیں اور ہر درجے کے درمیان ضامر گھورے کی ستر سال کی مسافت حائل ہے “۔ نبی کریم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے :” عالم کی عابد پر فضیلت اس طرح ہے جس طرح چودہویں رات کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر ہوتی ہے “۔ آپ سے یہ بھی مروی ہے : قیامت کے روز تین قسم کے افراد شفاعت کریں گے انبیاء، علماء اور شہدائ۔ اس مقام کی عظمت کو تصور کر جو نبوت اور شہادت کے درمیان واسطہ ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے گواہی دی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ عنما سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو علم، مال اور ملک میں اختیار دیا گیا تو آپ نے علم کو پسند کیا تو مال اور ملک آپ کو ساتھ میں دے دیا گیا۔