تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 58. Al-Mujaadila · Ayah 12

  1. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿12﴾

    1. يٰٓاَيُّهَااے
    2. الَّذِيْنَجو لوگ
    3. اٰمَنُوْٓامومن
    4. اِذَاجب
    5. نَاجَيْتُمُتم کان میں بات کرو
    6. الرَّسُوْلَرسول
    7. فَقَدِّمُوْاتو تم دے دو
    8. بَيْنَ يَدَيْپہلے
    9. نَجْوٰىكُمْاپنے سرگوشی
    10. صَدَقَةً ۭکچھ صدقہ
    11. ذٰلِكَیہ
    12. خَيْرٌ لَّكُمْبہتر تمہارے لئے
    13. وَاَطْهَرُ ۭاور زیادہ پاکیزہ
    14. فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْاپھر اگر تم نہ پاؤ
    15. فَاِنَّ اللّٰهَتو بیشک اللہ
    16. غَفُوْرٌبخشنے والا
    17. رَّحِيْمٌرحم کرنے والا
Translation · Al-Qurtubi
مومنو ! جب تم پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہو تو بات کہنے سے پہلے (مساکین کو) خیرات دے دیا کرو۔ یہ تمہارے لئے بہت بہتر اور پاکیزگی کی بات ہے۔ اور أگر خیرات تم کو میسر نہ ہو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
تفسیر اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ یا یھا الذین امنوا اذا ناجیتم الرسول، ناجیتم یعنی تم راز داری سے بات کرو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ آیت اس وجہ سے نازل ہوئی کہ مسلمان رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں بیشمار مسائل پیش کیا کرتے تھے یہاں تک کہ وہ آپ کے لئے مشکلات پیدا کرتے۔ اللہ تعالیٰ نئے ارادہ کیا کہ وہ اپنے نبی ﷺ سے اس پر یشانی حسن بصری نے کہا یہ آیت اس وجہ سے نازل ہوئی کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ نبی کریم ﷺ سے تنہائی میں ملتے اور آپ سے سرگوشیاں کرتے تو مسلمانوں میں سے ایک قوم نے گمان کیا کہ یہ لوگ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں ان کے نقائص بیان کرتے ہیں تو یہ چیز ان پر شاق گزری تو اللہ تعالیٰ نے رازداری سے بات کرنے پر صدقہ کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ خلوت میں بات کرنے سے رک جائیں۔ زید بن اسلم نے کہا : یہ آیت اس وجہ سے نازل ہوئی کہ منافقین اور یہودی نبی کریم ﷺ سے سرگوشیاں کرتے اور کہتے : یہ کان کے کچے ہیں جو کچھ انہیں کہا جائے اسے مان لیتے ہیں، وہ کسی کو مناجات سے منع نہیں کرتے۔ یہ امر مسلمانوں پر شاق گزرتا کیونکہ شیطان ان کے نفسوں میں یہ القاء کرتا کہ ان لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے سرگوشی کی ہے کہ کچھ لشکر مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا : یایھا الذین امنو اذا تناجیتم فلا تتنا جوا بالاثم والعدوان ومعصیت الرسول وہ نہ رکے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا تو اہل باطل سرگوشی کرنے سے رک گئے کیونکہ انہوں نیسرگوشی سے قبل صدقہ نہ کیا۔ ایہ امر اہل ایمان پر شاق گزرا اور وہ بھی سرگوشی کرنے سے رک گئے کیونکہ ان کی کثیر تعداد صدقہ پیش کرنے سے عاجز تھی تو اللہ تعالیٰ نے بعد والی آیت میں ان سے تخفیف فرمادی۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ ابن عربی نے کہا (1): زید سے مروی اس خبر میں ایسی چیز ہے جو اس بات پر دال ہے کہ احکام مصالح کے اعتبار سے مرتب نہیں ہوتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ذلک خیر لکم واطھر پھر اس کے خیر اور پاکیزہ ہونے کے باوجود اسے منسوخ کردیا۔ یہ معتزلہ پر عظیم رد ہے جو وہ یہ کہتے ہیں کہ احکام میں مصالح کا التزام ضروری ہے لیکن اس حدیث کا راوی عبد الرحمن جو زید کا بیٹا ہے علماء نے اسے ضعیب قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمانا : ذلک خیر لکم واطھر یہ معتزل کے رد میں نص متواتر ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ امام ترمذی نے علی بن علقمہ انماری سے وہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ جب یہ آیت یایھا الذی امنوا اذ ناجیتم الرسلو فقدمو بین یدی نجولکم صدقۃ نازل ہوئی تو میں نے آپ سے پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے مجھے ارشاد فرمایا :” دینار کے بارے میں تیری کیا رائے ہے ؟ “ میں نے عرض کی : وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ فرمایا : ” نصف دینار ؟ “ میں نے عرض کی : وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ فرمایا : ” میں نے عرض کی : وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ فرمایا :” نصف دینار ؟ “ میں نے عرض کی : وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ فرمایا ” تو کتنا ؟ “ میں نے عرض کی : جو (کے برابر وزن) فرمایا : ” تو تو بہت ہی زہد اختیار کرنے والا ہے “ تو یہ آیت نازل ہوئی ءاشفقتم ان تقدموا بین یدی انجولکم صدقت کہا : میرے وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس امت سے تخفیف فرمائی۔ ابو عیسیٰ نے کہا : یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اسے اسی سند سے ہی پہچانتے ہیں۔ ان کے قول شعیرہ (جو) کا معنی ہے سونے میں سے جو کا وزن۔ ابن عربی نے کہا : یہ امردو اصولی اچھے مسالوں پر راہنمائی کرتا ہے (1) عبادت پر عمل سے پہلے ہی منسوک کرنا (2) معین مقداروں میں قیاس کے ذریعے غوروفکر کرنا جب کہ امام ابوحنیفہ نے اس میں اختلاف کیا ہے۔ میں نے کہا : ظاہر یہ ہے کہ نسخ صدقہ کے فعل کے بعد ہوا۔ مجاہد سے مروی ہے کہ اس بارے میں سب سے پہلے صدقہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے کیا اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ سرگوشی کی۔ ان کے بارے میں یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے انگوٹھی کا صدقہ کیا۔ قشیری اور دوسرے علماء نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت نقل کی ہے کہا انہوں نے کہا : کتاب اللہ میں ایک ایسی آیت ہے جس پر مجھ سے قبل کسی نے عمل نہیں کیا اور میرے بعد اس پر کوئی عمل نہیں کرے گا وہ یہ آیت ہے یایھا الذین امنو از ناجیتم الرسول فقدموا بین یدی نجولکم صدقۃ میرے پاس ایک دینار تھا جس کو میں نے بیچا جب میں رسول اللہ ﷺ سے سرگوشی کرتا تو میں ایک درہم صدقہ کرتا یہاں تک کہ وہ درہم ختم ہوگئے۔ تو اسے ایک دوسری آیت کے ساتھ منسوخ کردیا گیا ءاشفقتم ان تقدمو ابین یدی نجولکم صدقت۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اسی طرح کہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو بعد والی آیت سے منسوخ کردیا۔ حضرت ابن عمر نے کہا : حضرت علی شیر خدا کے لئے تین خصوصیات ایسی تھیں اگر ان میں سے ایک بھی میرے لئے ہوتی تو وہ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہوتی۔ (1) حضرت فاطمہ ؓ سے نکاح (2) غزوہ خیبر کے موقع پر جھنڈے کا عطا کیا جانا (3) سرگوشی والی آیت۔ ذلک خیر لکم و اطھر روکنے سے یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور نافرمانیوں سے پاکی کے لئے تمہارے دلوں کے لئے زیادہ پاکیزہ ہے۔ فان لم تجدوا فان اللہ غفور رحیم۔ اے فقرائ ! اگر تم نہ پائو تو اللہ تعالیٰ غفور ورحیم ہے۔