تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 58. Al-Mujaadila · Ayah 13

  1. ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ع﴿13﴾

    1. ءَاَشْفَقْتُمْکیا تم ڈر گئے
    2. اَنْ تُقَدِّمُوْاکہ تم دے دو
    3. بَيْنَ يَدَيْپہلے
    4. نَجْوٰىكُمْاپنی سرگوشی
    5. صَدَقٰتٍ ۭصدقات
    6. فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْاسو جب تم نہ کرسکے
    7. وَتَابَ اللّٰهُاور درگزر فرمایا اللہ
    8. عَلَيْكُمْتم پر
    9. فَاَقِيْمُواتو قائم کرو تم
    10. الصَّلٰوةَنماز
    11. وَاٰتُوا الزَّكٰوةَاور ادا کرو زکوہ
    12. وَاَطِيْعُوا اللّٰهَاور تم کہا مانو اللہ کا
    13. وَرَسُوْلَهٗ ۭاور اس کے رسول
    14. وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢاور اللہ باخبر
    15. بِمَااس سے جو
    16. تَعْمَلُوْنَتم کرتے ہو
Translation · Al-Qurtubi
کیا تم اس سے کہ پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہنے سے پہلے خیرات دیا کرو ڈر گئے پھر جب تم نے (ایسا) نہ کیا اور خدا نے تمہیں معاف کردیا تو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو اور خدا اور اس کے پیغبر کی فرمانبرداری کرتے رہو اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ ء اشفقتم یہ جملتہ استفہامیہ ہے اور کلمہ استفہام قد کے معنی میں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کا معنی ہے تم صدقہ کرے میں بخل کرتے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تم ڈرتے ہو۔ اشفاق سے مراد ناپسندیدہ چیز سے خوف کھانا ہے (1) ء یعنی تم ڈر گئے، صدقہ میں بخل کیا اور یہ امر تم پر شاق گزرا۔ ان قتدموا بین یدی نجولکم صدقت مقاتل بن حیان نے کہا : یہ حکم دس دن تک رہا پھر اسے منسوخ کردیا گیا۔ کلبی نے کہا : یہ حکم صرف ایک دن کے لئے رہا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ حکم دن کی چند گھڑیوں کے لئے رہا یہاں تک کہ منسوخہوگیا ؛ قتادہ نے اسی طرح کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ فاذلم تفعلوا وتاب اللہ علیکم اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو منسوخ کردیا۔ یہ خطاب ان کو ہے جس نے ایسا مال پایا جس کو وہ صدقہ کرسکتا تھا ،۔ فاقیموا الصلوۃ وتو الزکوٰۃ فرض زکوٰۃ نے اس صدقہ کو منسوخ کردیا۔ یہ امر اس پر دال ہے کہ فعل سے پہلے فسخ کرنا جائز ہے۔ حضرت علی شیر خدا سے جو مروی ہے وہ ضعیف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمانا ہے : فاز لم تفعلوا یہ اس امر پر دال ہے کہ کسی نے بھی کوئی چیز صدقہ نہ کی۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ واطیعو اللہ ورسولہ اس کے فرائض میں اس کی اطاعت کرو اور سنن میں اس کے رسول کی اتباع کرو۔ واللہ خبیر بما تعملون۔ جو کچھ تم عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے۔