تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 58. Al-Mujaadila · Ayah 14
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ﴿14﴾
- اَلَمْ تَرَکیا تم نے نہیں دیکھا
- اِلَىطرف، کو
- الَّذِيْنَجو لوگ
- تَوَلَّوْادوستی کرتے ہیں
- قَوْمًاان لوگوں سے
- غَضِبَ اللّٰهُاللہ نے غضب کیا
- عَلَيْهِمْ ۭان پر
- مَا هُمْنہ وہ
- مِّنْكُمْتم میں سے
- وَلَا مِنْهُمْ ۙاور نہ ان میں سے
- وَيَحْلِفُوْنَاور وہ قسم کھاجاتے ہیں
- عَلَيپر
- الْكَذِبِجھوٹ
- وَهُمْحالانکہ وہ
- يَعْلَمُوْنَجانتے ہیں
Translation · Al-Qurtubi
بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر خدا کا غضب ہوا وہ نہ تم میں ہیں نہ ان میں اور جان بوجھ کر جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے ہیں
Tafseer · Al-Qurtubi
آیات۔ 14۔ 16
تفسیر
الم تر الی الذین تولو قوما غضب اللہ علیھم قتادہ نے کہا : مراد منافق ہیں جنہوں نے یہودیوں سے دوستی کی ماھم منکم ولا منھم اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : منافق یہودیوں اور مسلمانوں میں سے نہیں بلکہ وہ ان دونوں طبقات کے درمیان مذبذب ہیں۔ وہ مسلمانوں کی خبریں ان تک پہنچاتے تھے۔ سدی اور مقاتل نے کہا : یہ آیت عبد اللہ بن ابی اور عبد اللہ بن نبتل منافق کے حق میں نالز ہوئی ان میں سے ایک نبی کریم ﷺ کی مجلس میں بیٹھتا تھا پھر آپ کی گفتگو یہودیوں تک پہنچاتا تھا۔ اس اثناء میں کہ نبی کریم ﷺ اپنے حجرون میں سے ایک حجرہ میں تھے کہ فرمایا : ” ابھی تم پر ایک ایسا آدمی داخل ہوگا جس کا دل جبارکا دل ہے اور وہ شیطان کی آنکھوں سے دیکھتا ہے “۔ تو عبد اللہ بن نبتل داخل ہوا۔ اس کی آنکھیں نیلی، رنگ گندم گوں، قد چھوٹا اور داڑھی کے بال تھوڑے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تو اور تیرے ساتھی مجھے کیوں برا بھلا کہتے ہیں ؟ “ اس نے قسم اٹھائی کہ اس نے ایسا نہیں کیا۔ نبی کریم ﷺ نے اسے ارشاد فرمایا :” تو نے ایسا کیا ہے “۔ وہ گیا اور اپنے ساتھیوں کو لے آیا تو انہوں نے اللہ کے نام کی قسم اٹھائی کہ انہوں نے آپ کو گالی نہیں دی تو یہ آیت نازل ہوئی۔
حضرت ابن عباس ؓ نے بھی اس کے ہم معنی قول کیا ہے۔ عکرمہ نے ان سے یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک درخت کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے سایہ آپ سے سمٹنے والا تھا کہ آپ نے فرمایا :” تمہارے پاس ابھی ایسا آدمی آئے گا جس کی آنکھیں نیلی ہوں گی وہ تمہیں شیطان کی آنکھ سے دیکھے گا “ ہم اسی طرح تھے کہ ایک آدمی آیا جس کی آنکھیں نیلی تھیں نبی کریم ﷺ نے اسے بلایا فرمایا :” تو اور تیرے ساتھی مجھے کیوں برا بھلا کہتے ہیں ؟ “ اس نے جواب دیا : مجھے چھوڑ دیں میں انہیں لے آتا ہوں۔ وہ گیا او انہیں لے آیا، ان سب نے قسم اٹھا دی کہ ایسی کوئی بات نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ یہودیوں کا ذکر قرآن حکیم میں غضب اللہ علیھم کے ساتھ کیا گیا ہے۔
اعدا اللہ لھم اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے لئے جہنم میں شدید عذاب تیار کر رکھا ہے اور وہ درک اسفل ہے انھم ساء ما کانو یعملون۔ یعنی ان کے اعمال کتنے برے ہیں۔
اتخذوا ایمانھم جنۃ وہ قتل سے بچنے کے لئے قسم کو ڈھال بناتے ہیں۔ حضرت حسن بصری اور ابو العالیہ نے کہا : یہاں ایمانھم ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ہے اور سورة المنافقون میں بھی اسی طرح ہے انہوں نے اپنے اقرار کو ڈھال بنا لیا ہے ان کی زبانیں قتل کے خوف سے ایمان لائی ہیں اور ان کے دلوں نے کفر کیا ہے۔
فلھم عذاب مھین۔ دنیا میں قتل اور آخرت میں آگ کا عذاب ہے۔ صد سے مراد اسلام سے روکنا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : عذاب سے مراد کفر کی وجہ سے قتل ہے جب انہوں نے نفاق کو ظاہر کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ عذاب خوف پیدا کرنے، مسلمانوں کو جہاد سے روکنے اور ان کو ڈرانے کی وجہ سے ہوگا۔