تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 58. Al-Mujaadila · Ayah 3

  1. وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴿3﴾

    1. وَالَّذِيْنَاور جو لوگ
    2. يُظٰهِرُوْنَظہار کرتے ہیں
    3. مِنْ نِّسَآئِهِمْاپنی بیویوں سے
    4. ثُمَّپھر
    5. يَعُوْدُوْنَوہ رجوع کرلیں
    6. لِمَااس سے جو
    7. قَالُوْاانہوں نے کہا (قول)
    8. فَتَحْرِيْرُتو آزاد کرنا لازم ہے
    9. رَقَبَةٍایک غلام
    10. مِّنْ قَبْلِاس سے قبل
    11. اَنْ يَّتَمَآسَّا ۭکہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں
    12. ذٰلِكُمْیہ
    13. تُوْعَظُوْنَتمہیں نصیحت کی جاتی ہے
    14. بِهٖ ۭاس سے، کی
    15. وَاللّٰهُاور اللہ
    16. بِمَااس سے جو
    17. تَعْمَلُوْنَتم کرتے ہو
    18. خَبِيْرٌباخبر ہے
Translation · Al-Qurtubi
اور جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ بیٹھیں پھر اپنے قول سے رجوع کرلیں تو (ان کو) ہم بستر ہونے سے بہلے ایک غلام آزاد کرنا (ضرور) ہے (مومنو) اس (حکم) سے تم کو نصحیت کی جاتی اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
مسئلہ نمبر 1۔ والذین یظھرون من نسآئھم یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر فتحریر رقبۃ ہے کیونکہ کلام اس پر دلالت کرتی ہے اس لئے اسے حذف کردیا گیا ہے یعنی فعلھم تحریر رقبۃ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کفارتھم عتق رقبۃ ظہار کے معاملہ میں جس قول پر تمام علماء کا اجماع ہے وہ ایک آدمی کا اپنی بیوی کو یہ کہنا ہے : انت علی کظھر امی یہ وہ قول منکر اور قول زور ہے جس کا ارادہ اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد میں فرمایا ہے : وانھم لیقولون منکرا من القول وزوراً جس نے یہ قول کیا اس پر اپنی بیوی سے وطی کرنا حرام ہے، جس نے یہ بات کہی پھر اس سے رجوع کیا تو اس پر کفارہ ظہار لازم وہ گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نافرمان ہے والذین یظھرون من نسآء ئبھم ثم یعودون لما قالوا فتحریر رقبۃ یہ کلام اس بات کے رد پر دلالت کرتا ہے کفارہ ظہار صرف قول سے لازم نہیں آتا یہاں تک کہ اس کے ساتھ رجوع ملا ہوا ہو۔ یہ مشکل حرف ہے اس میں اختلاف پایا جاتا ہے اس کے بارے میں سات اقوال ہیں : (1) اس سے مراد وطی پر عزم ہے یہ امام حنیفہ اور آپ کے اصحاب کا مشہور قول ہے۔ امام مالک سے مروی ہے، اگر اس نے وطی کا عزم کرلیا تو یہ عود تصور ہوگا اگر اس نے وطی کا عزم نہ کیا تو یہ عود نہ ہوگا (2) اس سے ظہار کرنے کے بعد امساک (اپنے پاس روکنے پر عزم) ، یہ امام مالک کا قول ہے (3) دونوں پر اس کا عزم یہ امام مالک کا موطا میں قول منقول ہے۔ امام مالک نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : والذین یظھرون من نسآء ئھم ثم یعودون لماقالوا کے بارے میں کہا، میں نے سنا کہ اس کی تفسیر یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی سے ظہار کرے پھر وہ اس کے ساتھ حقوق زویجت ادا کرے اور اس کو اپنے پاس روکنے کا پختہ عزم کرے۔ اگر اس نے یہ عزم کرلیا تو اس پر کفارہ واجب ہوگا۔ اگر اس نے اسے طلاق دے دی اور اس کے ساتھ حقوق زوجیت ادا نہ کئے اور اسے پاس رکھنے کا ارادہ نہ کیا تو اس پر کوئی کفارہ نہ ہوگا۔ امام مالک نے کہا، اگر اس نے اس سے اس کے بعد شادی کی تو جب تک کفارہ ظہار ادا نہ کرے تو اس پر کوئی کفارہ نہیں ہوگا۔ (4) عود سے مراد وطی کرنا ہے اگر اس نے وطی نہ کی تو یہ عود نہ ہوگا، یہ حضرت حسن بصری اور امام مالک کا نقطہ نظر ہے (5) امام شافعی نے کہا، اس سے مراد ہے کہ ظہار کے بعد طلاق پر قادر ہونے کے باوجود وہ اس کو اپنی بیوی کی حیثیت سے روکے رکھے کیونکہ جب اس نے ظہار کیا تھا تو اس نے تحریم کا قصد کیا تھا اگر اس نے اس کو طلاق دے دی تو اس نے اس کے برعکس کردیا جو اس نے حرمت واقع کرنے کا قصد کیا تھا اس پر کوئی کفارہ نہیں ہوگا۔ اگر وہ طلاق دینے سے رک گیا تو وہ اس امر کی طرف لوٹ آیا جس پر وہ پہلے سے تھا تو اس پر کفارہ واجب ہوگا (6) ظہار حرمت کو ثابت کرتا ہے اسے کفارہ ہی ختم کرسکتا ہے۔ اس قول کے قائلین کے نزدیک عود کا معنی ہے اس کے ساتھ وطی کرنا مباح نہیں مگر اس صورت میں کہ پہلے وہ کفارہ ادا کرے، یہ امام ابوحنیفہ آپ کے اصحاب اور لیث بن سعد کا نقطہ نظر ہے۔ (7) اس سے مراد ظہار کے لفظ کو مکرر ذکر کرنا ہے، یہ اہل ظواہر کا قول ہے۔ جو قیاس کی نفی کرتے ہیں انہوں نے کہا، اگر اس نے ظہار کا لفظ مکرر ذکر کیا تو یہی لوٹنا ہے اگر مکرر ذکر نہیں کیا تو یہ لوٹنا نہیں، اس قول کو بکیر بن اشج، ابو العالیہ اور امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، یہ فراء کا قول ہے۔ ابو العالیہ نے کہا، آیت کا ظاہر اس کی تائید کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ثم یعودون لما قالوا یعنی جو انہوں نے کہا اس کی طرف لوٹتے ہیں۔ علی بن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس سے اللہ تعالیٰ کے فرمان والذین یظھرون من نسآئھم ثم یعودون لما قالوا کے بارے میں روایت نقل کی ہے کہ اس سے مراد ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو کہتا ہے : انت علی کظھر امی جب اس نے پاین بیوی کو یہ کہا تو وہ اس پر حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ کفارہ ظہار ادا کرے (1) ابن عربی نے کہا، جہاں تک اس قول کا تعلق ہے کہ اس سے مراد لفظ ظہار کی طرف لوٹنا ہے تو یہ قطعی طور پر باطل ہے، یہ بکیر سے ثابت نہیں یہ اس کے زیادہ مشابہ ہے کہ یہ دجائود اور اس کے متعبین کی جہالت ہے۔ ظہار کرنے والوں کے قصے روایت کئے گئے ہیں ان پر کفاروں کے واجب ہونے کے ذکر میں ان کے قول کو دوبارہ کرنے کا ذکر نہیں۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ معنی اس کی نفی کردیتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس قول کی یہ صفت بیان کی ہے کہ یہ قول منکر اور زور ہے تو اسے یہ کیسے کہا جاسکتا ہے : جب تو نے ایسا قول دوبارہ کیا اور ممنوع سبب دوبارہ کیا تو تجھ پر کفارہ واجب ہوجائے گا ؟ یہ قابل فہم بات نہیں کیا تو نہیں دیکھتا کہ ہر وہ سبب جو کفارہ کو واجب کرتا ہے اس میں اعادہ کئی کوئی شرط نہیں وہ قتل ہو، روزہ کی حالت میں وطی ہو یا کوئی اور چیز (1) میں کہتا ہوں : اس (ابن عربی) کا قول یہ اس کے مشابہ ہے کہ یہ دائود اور اس کے پیروکاروں کی جہالت ہو یہ ابن عربی کی جابن سے اس پر ایک بات کو مسلط کرنا ہے اس نے دائود کا وہ قول کیا جس کو ہم نے اس سے ذکر کیا ہے جہاں تک امام شافعی کے قول کا تعلق ہے کہ یہ طلاق پر قدرت کے باوجود اسے ترک کرنا ہے تو تین اہم امور اس کی نفی کرتے ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ثم یہ ظاہر میں تراخی کا تقاضا کرتا ہے (2) اللہ تعالیٰ کا فرمان : ثم یعودون ایک جہت سے فعل کے وجو کا تقاضا کرتا ہے اور مرور زمانہ اس کی جانب سے فعل نہیں (3) طلاق رجعی ملک کی بقا کے منافی نہیں تو ظہار کا حکم ساقط نہیں ہوگا جس طرح ایلاء ہے۔ اگر یہ قول کیا جائے : جب اس نے اسے اپنی ماں کی حیثیت میں دیکھا ہے تو اسے اپنے پاس نہ روکے کیونکہ ماں کو نکاح میں روکنا صحیح نہیں۔ ماوراء النہر کے علماء کے قول کا انحصار اسی استدلال پر ہے۔ میں کہتا ہوں : جب اس نے اپنے قول کے خلاف کا عزم کرلیا اور اسے اپنی ماں کے خلاف دیکھا تو کفارہ ادا کردیا اور اپنے اہل کی طرف لوٹ آیا۔ اس قول کی وضاحت یہ ہے کہ عزم قول نفسی ہے یہ ایسا آدمی ہے جس نے ایسا قول کیا جو تحلیل کا تقاضا کرتا ہے وہ نکاح ہے اور اس نے ایسا قول کیا جو تحریم کا تقاضا کرتا ہے وہ ظہار ہے پھر اس نے اس کی طرف رجوع کیا جو اس نے کہا تھا وہ تحلیل ہے۔ یہ صحیح نہیں کی اس کی جانب سے عقد کی ابتداء ہو، کیونکہ عقد باقی ہے تو کوئی چیز باقی نہیں مگر یہ کہ اس نے ایسا عزم کیا جو اس کے اعتقاد کے مخلاف تھا اس نے اپنے دل میں ظہار کا قول کیا تھا جس کی خبر اس نے انت علی کظھر امی کے قول سے دی جب یہ اس طرح ہے تو اس نے کفارہ ادا کیا اور اپنے اہل کی طرف لوٹ آیا کیونکہ ارشاد ہے من قبل ان یتمآ سایہ بہت عمدہ تفسیر ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ بعض علماء نے کہا، آیت میں تقدیم و تاخیر ہے معنی ہے جو اپنی بیویوں سے ظہار کترے ہیں پھر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں جس پر وہ پہلے تھے یعنی جماع کیا تو اس پر غلام کو آزاد کرنا لازم ہے یعنی انہوں نے جو کچھ کہا ہے اس کی وجہ سے ان پر غلام آزاد کرنا لازم ہے۔ لما قالوا کا حرف جار اسی محذوف کے متعلق ہے جو مبتدا کی خبر ہے وہ علیھم ہے ! یہ اخفش کا قول ہے۔ زجاج نے کہا، معنی ہے وہ جماع کے ارادہ کی طرف لٹوتے ہیں اس وجہ سے جو انہوں نے کہا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی یہ ہے وہ دور جاہلیت میں اپنی بیویوں سے ظہار کیا کرتے تھے پھر وہ دور اسلام سے اس بات کی طرف لوٹتے ہیں جو انہوں نے دور جاہلیت میں کیہ تھی تو جس نے دور اسلام میں ایسی بات کہی تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ ایک غلام آزاد کرے۔ فراء نے کہا، لام، عن کے معنی میں ہے معنی ہے جو انہوں نے کہا اسی سے وہ رجوع کرتے ہیں اور وطی کا ارادہ کرتے ہیں۔ اخفش نے کہا، لماقالوا اور الی قالوا دونوں ایک ہی ہیں لام اور الی ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان : الحمد اللہ الذی ھدئنا لھذا (الاعراف : 43 ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فاھدوھم الی صراط الجحیم۔ (الصافات) نص کا فرمان ہے : بان ربک اوحی لھا۔ (الزلزتہ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واوحی الی نوح (ہود : 36) مسئلہ نمبر 3۔ فتحریر رقبۃ اس پر غلام کا آزاد کرنا لازم ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : حررتہ یعنی میں نے اسے آزاد کردیا۔ پھر اس غلام کے لئے ضرویر ہے کہ وہ کامل ہو اور ہر عیب سے محفوظ ہو۔ امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک اس کے کامل ہونے سے مراد اس کا مسلمان ہونا ہے جس طرح کفارہ قتل میں مسلمان غلام ہی آزاد کیا جاسکتا ہے۔ امام ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب کے نزدیک کافر غلام بھی آزاد کیا جاسکتا ہے اسی طرح وہ غلام بھی آزاد کیا جاسکتا ہے جس میں رق کا شائبہ ہو جیسے مکاتبت وغیرہ۔ مسئلہ نمبر 4۔ اگر اس نے دو غلاموں کا ایک ایک نصف آزاد کیا تو ہمارے امام ابوحنیفہ کے نزدیک جائز نہیں ہوگا۔ امام شافعی نے کہا، جائز ہے کیونکہ دو غلاموں کا نصف ایک غلام کے معنی میں ہے کیونکہ غلام کی صورت میں کفارہ کا طریقہ مال ہے تو اس میں تبعیض اور تجزیہ جائز ہے جس طرح کھانا کھلانا۔ مہاری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : فتحریر رقبۃ اس اسم سے مراد ایک شخص ہے۔ قربہ کا بعض رقبہ نہیں یہ ان چیزوں میں سے نہیں جس میں دو چیزوں کو ملا کر داخل کیا جاسکے کیونکہ وہ عبارت جو ایک رقبہ کے متعلق ہے تو دو رقبہ کا نصف اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتا۔ اس کی اصل یہ ہے کہ جب آدمی دو قربانیوں میں شریک ہوں اور اس لئے بھی کہ اگر کسی نے دوآدمیوں کو حکم دیا کہ وہ اس کی طرف سے ایک حج کریں تو ان میں سے کسی کے لئے جائز نہیں ہوگا کہ ان دونوں میں ایک اس کا نصف حج کرے اسی طرح یہ ہے اور اس لئے بھی کہ اگر اس نے وصیت کی کہ ایک غلام خریدا جائے اور اس کی طرف سے اسے آزاد کردیا جائے تو یہ جائز نہ ہوگا کہ دو غلام کا نصف نصف اس کی طرف سے آزاد کیا جائے اس طرح ہمارے اس مسئلہ میں ہے۔ اس بحث کے ساتھ ان کی دلیل باطل ہوجاتی ہے کھانا کھلانا وغیرہ میں بھی ہمارے نزدیک اس میں تجزی جائز نہیں۔ مسئلہ نمبر 5۔ من قبل ان یتمآسا اس کے ساتھ جماع کرنے سے پہلے۔ مظاہر کے لئے کفارہ ادا کرنے سے قبل وطی کرنا جائز نہیں (1) اگر اس نے کفارہ ادا کرنے سے قبل جماع کیا تو وہ گناہگار ہوگا، نافرمانی کرے گا اور اس سے کفارہ ساقط نہیں ہوگا۔ مجاہد سے مروی ہے : اگر اس نے کفارہ ادا کرنے میں شروع ہونے سے پہلے ہی وطی کی تو اس پر دوسرا کفارہ لازم وہ جائے گا۔ دوسرے علماء سے یہ مروی ہے : وہ کفارہ جو ظہار کی وجہ سے وابج ہوتا ہے وہ اس سے ساقط ہوجائے گا اس پر اصلاً کوئی چیز لازم نہ ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفارہ واجب کیا ہے اور جماع کرنا ے سے قبل اسے ادا کرنے کا حکم دیا ہے جب اس نے اسے موخر کیا یہاں تک کہ اس کے ساتھ جماع کرلیا تو اس کا وقت فوت ہوجائے گا۔ صحیح یہ ہے کہ کفارہ ثابت ہوگا کیونکہ وطی کے علاوہ بوسہ، معاشرت اور لذت حاصل کرنے کا تعلق ہے تو اکثر علماء کے نزدیک حرام نہیں، یہ حضرت حسن بصری اور سفیان کا قول ہے، امام شافعی کا بھی صحیح مذہب یہ ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ سب حرام ہیں اور سب کے معانی ہیں، یہ امام مالک، امام شافعی کے دو قولوں میں سے ایک قول ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر 6۔ ذلکم توعظون بہ اس کا تمہیں حکم دیا جاتا ہے واللہ بماتعملون خبیر۔ یعنی تم جو کفارہ وغیرہ دیتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے۔ مسئلہ نمبر 7۔ جو نہ غلام پائے اور نہ ہی اس کی قیمت پائے یا مالک تو ہو مگر اس غلام کی اس کو شدید ضرورت ہو یا وہ غلام کی قیمت کا مالک تو ہو مگر اس کو اپنے نفقہ کے لئے اس رقم کی ضرورت ہو یا اس کا مکسن تو ہو اس کے علاوہ اس کے پاس کچھ نہ ہو اور وہ اس کے علاوہ کوئی چیز نہ پاتا ہو تو اس کے لئے روزے رکھنا جائز ہے، یہ امام شافعی کا نقطہ نظر ہے امام ابوحنیفہ نے کہا، وہ روزے نہ رکھے اس پر غلام ہی آزاد کرنا لازم ہے اگرچہ اسے اس کی ضرورت بھی ہو۔ امام مالک نے کہا، جب اس کا گھر ہو اور اس کے پاس خادم بھی ہو تو اس پر غلام آزاد کرنا لازم ہوگا۔ مسئلہ نمبر 8۔ اگر وہ غلام آزاد کرنے سے عاجز ہو تو اس پر دو ماہ کے پے در پے روزے رکھنا لازم ہوں گے اگر اس نے عذر کے بغیر ان میں افطار کیا تو وہ نئے سرے سے روزے رکھے اگر اس نے سفر یا مرض کی وجہ سے روزہ نہ رکھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ بنا کرے، یہ ابن مسیب، حضرت حسن بصری، عطا بن ابی رباح، عمرو بن دینار اور امام شافعی کا نقطہ نظر ہے۔ یہ امام شافعی کے دو قولوں میں سے ایک قول ہے اور یہ ہی ان کا صحیح مذہب ہے۔ امام مالک نے کہ؁، جب وہ کفار ظہار کے روزوں میں ب یمار ہوگیا تو جب صحیح ہو تو پہلے روزوں پر بنا کرلے۔ امام اعظم ابوحنیفہ کا قنطہ نظر یہ ہے کہ وہ نئے سرے سے روزیر کھے۔ امام شافعی کے دو قولوں میں سے ایک قول یہی ہے۔ مسئلہ نمبر 9۔ جب اس نے روزے شروع کردیئے پھر غلام پایا تو روزوں کو مکمل کرے، یہ امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک جائز ہے کیونکہ جب وہ ان میں داخل ہوا تو اسے روزوں کا ہی حکم دیا گیا تھا۔ امام اعظم او حنیفہ اور آپ کے اصحاب کے نزدیک روزے اس کے ذمہ سے ساقط ہوجائیں گے اور وہ غلام آزاد کرے گا۔ وہ اسے اس بچی پر قیاس کرتے ہیں جو پہلے بالغ تھی جو مہینوں کے اعتبار سے عدت گزار رہی تھی تو وہ عدت کے ختم ہونے سے قبل خون دیکھتی ہے علمئا کا اس پر اجتماع ہے کہ وہ نئے سرے سے حیض کے اعتبار سے عدت گزارے گی۔ جب اس نے روزوں کی حالت میں سفر شروع کیا تو اس نے روزہ افطار کردیا تو وہ نئے سرے سے روزہ رکھے گا، یہ امام مالک، امام شافعی اور امام ابوحنیفہ کا نقطہ نظر ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے، متتابعین حضرت حسن بصری کا قول یہ ہے کہ وہ پہلے روزوں پر ہی بنا کرلے کیونکہ یہ عذر ہے اور وہ رمضان پر قیاس کرتے ہیں۔ اگر ان روزوں کے درمیان کوئی زمانہ حائل ہوجائے تو کفارہ میں اس کا روزہ حلال نہیں رہے گا جس طرح عیدین اور رمضان شریف کا مہینہ، اس سے انقطاع واقع ہوجائے گا۔ مسئلہ نمبر 10۔ ایک ظہار کرنے والے نے دونوں مہینوں کے درمیان دن میں وطی کی تو امام شافعی کے نزدیک اس کا تتابع باطل ہوجائے گا اگر رات کے وقت کی تو تتابع باطل نہیں ہوگا کیونکہ رات روزے کا محل نہیں۔ امام مالک اور امام ابوحنیفہ نے کہا : ہر حال میں تتابع باطل ہوجائے اور اس پر ابتداء سے کفارہ واجب ہوجائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے من قبل ان یتمآ سایہ شرط دونوں مہینوں اور ان کے بعض کی طرف لوٹ رہی ہے جب اس نے دونوں مہینوں کو ختم ہونے سے پہلے وطی کی تو یہ وہ روزے نہیں ہوں گے جن کا اسے حکم دیا گیا تھا تو نئے سرے سے روزے رکھنے لازم ہوں گے، جس طرح فرمایا : صل قبل ان تکلم زیدا تو اس نے زید سے نماز کی حالت میں کلام کیا یا کہا : صل قبل ان تبصر زیدا تو اس نے نماز کی حالت میں زید کو دیکھا تو اس پر نئے سرے سے نماز پڑھنا لازم ہوجائے گی کیونکہ یہ نماز وہ نماز نہیں جس کا اسے حکم دیا گیا تھا اسی طرح یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مسئلہ نمبر 11۔ جس کا مرض لمبا ہوجائے جس سے تندرست ہونے کی امید نہ ہو تو وہ بڑھاپے کی وجہ سے عاجز کے حکم میں ہوگا اور روزوں سے اطعام کی طرف عدول جائز ہوگا۔ اگر مضر ایسا ہو جس سے صحت یاب ہونے کی امید ہو اور اسے اپنی بیوی سے وطی کی حاجت ہو تو اسے اتخیار ہوگا کہ صحت مند ہونے کا انتظار کرے یہاں تک کہ روزوں پر قادر ہوجائے۔ اگر اس نے کھانا کھلا کر کفارہ دے دیا اور روزوں پر قادر ہونے کا انتظار نہ کیا تو یہ جائز ہوگا۔ مسئلہ نمبر 12۔ جس نے ظہار کیا جب کہ وہ تندگست تھا پھر خوشحلا ہوگیا تو اس کے لئے روزے رکھنا جائز نہ ہوں گے۔ جس نے ظہار کیا جب کہ وہ خوشحال تھا پھر وہ تنگدست ہوگیا جب کہ اس نے ابھی کفارہ ادا نہ کیا تھا تو وہ روزے رکھے جس دن اس نے کفارہ دیا اس کی اس دن کی حالت کو دیکھا جائے گا۔ اگر اس نے تندگست اور محرومی کی حالت میں جماع کرلیا اور اس نے روزے نہ رکھے یہاں تک کہ خوشحال ہوگیا تو اس پر غلام آزاد کرنا لازم ہوجائے گا۔ اگر اس نے روزے رکھنے شروع کئے پھر وہ خوشحال ہوگیا اگر روزوں میں سے مناسب حصہ گزر چکا تھا جیسے جمعہ یا اس کی مثل (یعنی پورا ہفتہ گزر چکا ہو) تو اس سلسلہ کو جاری رکھے اگر ایک یا دو دن گزرے ہوں تو روزے کو ترک کر دے اور آزادی کی طرف لوٹ آئے یہ اس پر واجب نہیں ہوگا کیا تو نہیں دیکھتا کہ اس پر نماز ترک کرنا واجب نہیں جس کو پانی میسر ہو جب کہ وہ تمیم کرنے کے بعد نماز میں داخل ہوچکا ہو اور نئے سرے سے وضو کرے، یہ امام مالک کا نقطہ نظر ہے۔ مسئلہ نمبر 13۔ اگر اس نے دو کفارہ ظہار کی جانب سے یا قتل اور رمضان کا روزہ توڑنے کی وجہ سے دو غلام آزاد کئے اور ان دونوں کو ہر ایک میں شریک کیا تو یہ اس کے لئے جائز نہیں ہوگا۔ یہ اس کے قائم مقام ہوگا کہ اس نے دو کفاروں کی جانب سے ایک غلام کو آزاد کیا ہو۔ اسی طرح اگر اس نے ان دونوں کی جانب سے چار ماہ کے روزے رکھے یہاں تک ان دونوں میں سے ہر ایک جابن سے دو ماہ کے روزے رکھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ اس کے لئے جائز ہوگا اگر اس نے اپنی دو عورتوں سے ظہار کیا اس نے ایک کی جانب سے ایک غلام آزاد کردیا مگر کسی عورت کا تعین نہ کیا تو اس کے لئے ان دو میں سے کسی سے بھی وطی کرنا ج ائز نہیں ہوگا یہاں تک کہ دوسرا کفارہ ادا کرے اگار ان دونوں عورتوں میں سے ایک کا تعین کرے تو اس کے لئے جائز ہے کہ اس کے ساتھ وطی کرے اور دوسری کی جانب سے بعد میں کفارہ ادا کرے۔ اگر اس نے چار عورتوں سے ظہار کیا تو اس نے ان کی طرف سے تین غلام آزاد کئے اور دو ماہ کے روزے رکھے تو اس کے لئے غلام آزاد کرنا اور روزے رکھنا جائز نہ ہوگا کیونکہ اس نے ہر ایک عورت کی جانب سے پندرہ روزے رکھے ہیں اگر اس نے اس کا کفارہ کھانا کھلانے کی صورت میں دیا تو اس پر دو سو مسکینوں کو کھانا کھلاناجائز ہوگا اگر اکٹھے کھانا کھلانے پر قادر نہ ہو تو الگ الگ کھانا کھلا لے مگر غلام آزاد کرے اور روزہ رکھنے میں تفریق نہیں کرسکتا کیونکہ دو ماہ کے روزوں میں تفریق نہیں کرسکتا اور کھانا کھلانے میں تفریق کرسکتا ہے۔