تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 67. Al-Mulk · Ayah 17
اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ﴿17﴾
- اَمْ اَمِنْتُمْکیا بےخوف ہوگئے تم کو
- مَّنْ فِي السَّمَآءِاس سے جو آسمان میں ہے
- اَنْ يُّرْسِلَکہ وہ بھیجے
- عَلَيْكُمْتم پر
- حَاصِبًاپتھروں کی بارش
- فَسَتَعْلَمُوْنَپس عنقریب تم جان لو گے
- كَيْفَ نَذِيْرِکیسے تھا ڈراؤ میرا
Translation · Al-Qurtubi
کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نڈر ہو کہ تم پر کنکر بھری ہوا چھوڑ دے سو تم عنقریب جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
حاصباً یعنی آسمان سے پتھر برسائے جس طرح اس نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اور اصحاب فیل پر پتھر برسائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، ایسی ہوا بھیجے جس میں پتھر اور سنگریزے ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایسا بادل بھیجے جس میں پ تھر ہوں۔ نذیر اندازی کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نذیر منذر کے معنی میں ہے۔ مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے تو تم عنقریب آپ ﷺ کی صداقت اور جھٹلانے کا انجام دیکھ لو گے۔