تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 72. Al-Jinn · Ayah 23
اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ﴿23﴾
- اِلَّا بَلٰغًامگر (پیغام) پہنچانا
- مِّنَ اللّٰهِاللہ کی طرف سے
- وَرِسٰلٰتِهٖ ۭاور اسکے پیغام (جمع)
- وَمَنْاور جو
- يَّعْصِ اللّٰهَنافرمانی کریگا اللہ کی
- وَرَسُوْلَهٗاور اس کے رسول کی
- فَاِنَّتو بیشک
- لَهٗاس کے لئے
- نَارَ جَهَنَّمَجہنم کی آگ
- خٰلِدِيْنَہمیشہ رہیں گے
- فِيْهَآاس میں
- اَبَدًاہمیشہ ہمیشہ
Translation · Al-Qurtubi
ہاں خدا کی طرف سے احکام کا اور اسکے پیغاموں کا پہنچا دینا (ہی) میرے ذمے ہے اور جو شخض خدا اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کرے گا تو ایسوں کے لئے جہنم کی آگ ہے ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے
Tafseer · Al-Qurtubi
الابلغا من اللہ ورسالتہ۔ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں ہی امان اور نجات ہے۔ یہ حضرت حسن بصری کا نقطہ نظر ہے قتادہ نے کہا، اللہ تعالیٰ کا پیغام حق پہچانا ہی ایک ایسا عمل ہے جس کا اللہ تعالیٰ کی توفیق سے مالک ہوں۔ جہاں تک کہ کسی کے لیے کفر ایمان کو پیدا کرنے کا تعلق ہے میں ان کا مالک نہیں اس تعبیر کی صورت میں اس کلام کا تعلق قلی انی لا املک لکم ضراولارشدا۔ کے ساتھ ہوگا معنی یہ بنے گا کہ میں اس بات کا مالک ہوں کہ تمہیں پیغام حق پہنچادوں۔ ایک قول یہ کیا گیا یہ کلام، لا املک لکم ضرا ولارشدا۔ سے مستثنی منقطع ہے تو معنی یہ ہوگا کہ لیکن میں تمہیں وہ پیغام حق پہنچادوں جس کے ساتھ کوئی پناہ گاہ نہیں پاؤں گا مگر یہ کہ جو پیغام حق مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے وہ آگے پہنچادوں یا یہ معنی ہوگا جن پیغامات کی تبلیغ کا مجھے حکم ہوا وہ پہنچادوں یا اس کا معنی یہ ہوگا کہ مگر یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہوئے پیغام کو پہنچاؤں اس کے ارشادات کے مطابق عمل کروں اور غیر کو جس کا حکم دیتا ہوں اس پر اپنے آپ کو پابند کروں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے بلغا، مفعول مطلق ہے لالو کے معنی میں ہے اور حرف ان شرط کا معنی دے رہا ہے معنی یہ بنے گا اگر میں اس کے پیغام کو نہ پہنچاؤں تو میں اس کے سوا کوئی پناہ نہ چاہوں گا۔
جوتوحید اور عبادت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے تو بیشک اس کے لیے جہنم کی آگ ہے، فان، کے ہمزہ کو کسرہ دیا ہے کیونکہ جزا کا مابعد یہ ابتدا کا محل ہے یہ بحث پہلے گزرچکی ہے۔ خالدین یہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے، خالدین کو جمع ذکر کیا ہے کیونکہ معنی یہ ہے جس نے بھی یہ کیا ہے پہلے من کے لفظ کا اعتبار کرتے ہوئے ضمیر واحد ذکر کی پھر معنی کا اعتبار کرتے ہوئے خالدین کو جمع ذکر کیا ابدا کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہاں عصیان سے مراد شرک ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہاں شرک کے علاوہ معاصی مراد ہیں یہاں ان کے ہمیشہ رہنے سے مراد یہ ہے اگر میں ان کو معاف نہ کروں یا انہیں شفاعت نصیب نہ ہو تو یہ ضروری بات ہے جب وہ دنیا سے ایمان کی حالت میں نکلے ہیں تو انہیں عفو ضرور لاحق ہقگی یہ معنی سورة النساء اور دوسری صورتوں میں بڑا واضح گزرا ہے۔