تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 73. Al-Muzzammil · Ayah 6
اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ﴿6﴾
- اِنَّبیشک
- نَاشِئَةَاٹھنا
- الَّيْلِرات
- هِيَیہ
- اَشَدُّسخت (نفس کو)
- وَطْاًروندنے والا
- وَّاَقْوَمُاور زیادہ درست
- قِيْلًاالفاظ کے تلفظ میں
Translation · Al-Qurtubi
کچھ شک نہیں کہ رات کا اٹھنا (نفس بہیمی کو) سخت پامال کرتا ہے اور اس وقت ذکر بھی خوب درست ہوتا ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
ان ناشئۃ اللیل۔۔۔ تا۔۔۔۔ طویلا۔
ناشئۃ اللیل سے کیا مرا ہے ؟
اس میں پانچ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1۔ ان ناشئۃ اللیل علماء نے کہا : ناشئۃ اللیل سے مراد رات کے اوقات اور گھڑیاں ہیں کیونکہ اسکے اوقات یکے بعد دیگرے پیدا ہوتے ہیں جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، نشاء الشئی ینشا۔ جب وہ ابتدا کرے اور ایک چیز کے بعد دوسری چیز کی طرف متوجہ ہو، ناشئۃ یہ نشات سے فاعلہ کا وزن ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، اومن ینشوا فی الحلیۃ وھو فی الخصام غیرمبین (الزخرف) مراد یہ ہوگا رات کی گھڑیاں پروان چڑھ رہی ہیں تو اسم کی بجائے وصف پر اکتفا کیا ناشئۃ کو مونث ساعۃ کے لفظ کی وجہ سے ذکر کیا ہے کیونکہ ہر گھڑی جنم لیتی ہے ایک قول یہ کیا گیا، ناشئۃ مصدر ہے جس کا معنی رات کا قیام ہے جس طرح خاطئۃ اور کاذبۃ مصدر ہیں یعنی رات کا قیام روندنے میں سخت ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، ناشئۃ اللیل سے مراد رات کا قیام ہے، حضرت ابن مسعود نے کہا، حبشی کہتے ہیں، نشائ، یعنی اٹھا شاید انہوں نے یہ ارادہ کیا ہو کہ کلمہ توعربی ہے مگر حبشی زبان میں عام اور غالب ہے وگرنہ قرآن میں کوئی ایسی چیز نہیں جو لغت عرب میں نہ ہو کتاب کے مقدمہ میں اس کی مکمل وضاحت گزرچکی ہے۔
رات کی نماز دن کی نماز سے افضل ہے۔
مسئلہ نمبر 2۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رات کی نماز کی دن کی نماز پر فضیلت بیان کی ہے اور یہ واضح کردیا ہے کہ جتنا ممکن ہو رات کی نماز میں زیادہ قرات کرنی چاہیے کیونکہ یہ عظیم اجر اور زیادہ ثواب کا باعث ہے۔
ناشئۃ اللیل سے کیا مراد ہے۔ اس میں علماء کا اختلاف ہے، حضرت ابن عمر اور حضرت انس بن مالک نے کہا، اس سے مراد مغرب اور عشاء کے درمیان کی عبادت ہے وہ اس چیز استدلال کرتے ہیں لفظ نشاء ابتداء کا معنی دیتا ہے تو ابتدائی جز زیادہ حق رکھتا ہے اسی بارے میں شاعر کا شعر ہے : ولولا ان یقال صبا نصیب، لقلت بنفسی النشاء الصغار۔ اگر یہ بات نہ کہی جاتی کہ نصیب بےدین ہوگیا تو میں اپنے آپ کو کہتا یہ تونئی اٹھان ہے۔ علی بن حسین مغرب وعشا کے درمیان نماز پڑھتے اور کہتے، یہ ناشئۃ اللیل ہے، عطا اور عکرمہ نے کہا، اس سے مراد رات کا آغاز ہے حضرت ابن عباس، مجاہد اور دوسرے علماء نے کہا، اس سے مراد ساری رات ہے کیونکہ یہ دن کے بعد جنم لیتی ہے امام مالک بن انس نے اسے ہی پسند کیا ہے ابن عربی نے کہا، لفظ یہی معنی دیتا ہے اور لغت اس کا ہی تقاضا کرتی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت ابن عباس اور مجاہد نے کہا، ناشئۃ سے مراد نیند کے بعد رات کا قیام ہے جس نے نیند سے پہلے رات کے پہلے پہر قیام کیا تو اس نے ناشئۃ اللیل کا قیام نہ کیا، یمان اور ابن کیسان نے کہا، رات کے آخری حصہ میں قیام ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، ان کی نماز رات کے ابتدائی حصہ میں ہوا کرتی تھی اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان جب سوتا ہے تو وہ نہیں جانتا کب بیدار ہوگا ؟ صحاح میں ہے، ناشئۃ اللیل سے مراد رات کی ابتدائی گھڑیاں ہیں۔ قتبی نے کہا، یہ رات کی گھڑیاں ہیں کیونکہ یہ یکے بعد دیگرے پیدا ہوتی ہیں۔ حسن اور مجاہد سے مروی ہے یہ عشاء کے بعد سے لے کر صبح تک کا وقت ہے۔ حضرت حسن بصری سے یہ بھی مروی ہے، عشاء کے بعد کا وقت ناشئۃ ہے ایک قول یہ کیا جاتا ہے اس سے مراد وہ طاعتیں ہیں جو رات کو کی جاتی ہیں یہ جوہری نے بیان کیا ہے۔
وطاً کی لغوی تشریح اور معنی ومفہوم۔
مسئلہ نمبر 3۔ ھی اشد وطا۔ ابوالعالیہ، ابوعمرو، ابن ابی اسحاق، مجاہد، حمید، ابن محیصن، ابن عامر، مغیرہ اور ابوحیوۃ نے اسے وطا، واو کے کسرہ کے ساتھ، طاء کے فتحہ اور الف ممدودہ کے ساتھ پڑھا ہے، ابوعبیدہ نے اسے ہی پسند کیا ہے جب کہ باقی قراء نے وطا، واؤ کے فتحہ اور طاء کے ساکن اور الف مقصورہ کے ساتھ پڑھا ہے، ابوحاتم نے اسے اختیار کیا ہے جس طرح تیرا قول ہے، اشتدت علی القوم وطاء سلطانھم، جو چٹیاں ان پر لازم کی گئیں وہ ان پر ثقیل ہوگئیں۔ اس معنی میں نبی کریم کا ارشاد ہے، اللھم اشدد وطاتک علی مضر، اے اللہ مضرقبیلہ پر اپنی پکڑ کو سخت کردے، اس کا معنی یہ ہے نمازی پر یہ ساعتیں دن کی ساعتوں سے بھاری ہوتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ رات نیند اور کام کاج چھوڑ نے کا وقت ہے جو آدمی عبادت میں مشغول ہو تو اس نے عظیم مشقت اٹھائی، جب یہ الف ممدودہ کے ساتھ ہو تو واطات ومواطاۃ کا مصدر ہوگا یعنی میں نے اس کی موافقت کی، ابن زید نے کہا، واطاتہ علی الامر مواطاۃ یعنی جب میں نے اس کے ساتھ موافقت کی فلان یواطی اسمہ اسمی، فلاں اپنے نام کو میرے نام کے ساتھ موافق کرتا ہے۔
تواطئوا علیہ۔ انہوں نے آپس میں موافقت کی۔ معنی یہ ہوگا یہ عمل دل، نظر، کان اور زبان کو موافق کرنے والا ہے کیونکہ آوزیں اور حرکتیں ہوچکی ہوتی ہیں۔ یہ قول مجاہد، ابن ابی ملیکہ اور دوسرے علماء نے کیا۔ حضرت ابن عباس نے اس کے معنی کے موافق قول کیا، یعنی یہ قوت سماعت کو دل کے موافق کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، لیواطئوا عدۃ ماحرم اللہ۔ (توبہ 37) تاکہ وہ اس کی موافقت کریں ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے تفکر اور تدبر میں تصرف کے لیے سختی سے موافقت کرنے والا ہے۔ وطاء، غطاء کے خلاف ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، اشد وطا دن کی بنسبت سختی سے ثبت کرنے والا ہے کیونکہ رات ایسا وقت ہوتا ہے جس میں انسان عمل نہیں کرتا تو یہ عمل کو زیادہ مضبوط کرنے والاجوچیز انسان کو غافل کرے اور دل کو مشغول کرے اس سے زیادہ پاک ہوتا ہے۔ الوط کا معنی ـثبات ہے تو کہتا ہے، وطئت الارض بقدمی۔ میں اپنے قدم کے ساتھ زمین پر ثابت ہوا۔ اخفش نے معنی کیا ہے، اشد قیام۔ قیام میں شدید ہے۔ فراء نے کہا، اثبت قراءۃ قیاما۔ قرات اور قیام میں زیادہ ثبت کا باعث ہے انہیں سے اشد وطا کا معنی منقول ہے عمل کو ثبت کرنے والا اور جو زیادہ عبادت کا ارادہ کرے اس کے لیے دوام کا باعث ہے۔ رات کا وقت زندگی کی مصروفیات سے فارغ ہونے کا وقت ہے اس کی عبادت دائمی ہوتی ہے ختم نہیں ہوتی۔ کلبی نے اشد وطا کا معنی کیا ہے، نمازی کے لیے زیادہ نشاط کا باعث ہے کیونکہ وہ اپنی راحت کے زمانہ میں ہوتا ہے عبادہ نے کہا، اشد وطا کا معنی ہے نماز کے لیے نشاط کا باعث ہے زیادہ خفیف اور قرات کو درست کرنے والا ہوتا ہے۔
واقوم قیلا کی تشریح۔
مسئلہ نمبر 4۔ واقوم قیلا، یعنی رات کے وقت کی قرائت دن کی بنسبت درستگی پر استقامت و دوام میں شدید ہوتی ہے کیونکہ آوازیں پرسکون ہوتی ہیں دنیا خاموش ہوتی ہے نماز جو پڑھتا ہے وہ نمازی پر مضطرب نہیں ہوتا قتادہ اور مجاہد نے کہا، قرات کو درست کرنے والا، قول کو ثبت کرنے والا ہوتا ہے۔ کہا یہ وقت سمجھنے کا ہوتا ہے، ابوعلی نے کہا، واقوم قیلا سے مراد ہے رات کے وقت فارغ البال ہونے کی وجہ سے استقامت کو مضبوط بناتا ہے ایک قول یہ کیا گیا، دعا کو جلدی قبول کراتا ہے ابن شجرہ نے یہ بیان کیا ہے عکرمہ نے کہا، رات کی عبادت مکمل نشاط والی کامل اخلاص والی اور زیادہ برکت والی ہوتی ہے۔ زید بن اسلم نے کہا، یہ اس کے زیادہ مناسب ہوتی ہے کہ وہ قرآن میں تفقہ حاصل کرے۔ اعمش سے مروی ہے کہ حضرت انس بن مالک نے اصوب قیلاپڑھا تو انہیں کہا گیا، واقوم قیلا تو انہوں نے جواب دیا، اقوم، اصوب اور اھیا، سب برابر ہیں۔ ابوبکر انباری نے کہا، ان کج رو لوگوں میں سلسلہ لگاتار جاری رہایہاں تک کہ انہوں نے یہ کہا، جس نے کسی ایسے حرف کے ساتھ قرآن پڑھا جو قرآن کے حرف کے معنی کے موافق ہو تو وہ درست قرات کرنے والا ہے۔ جب کہ اس نے معنی کی مخالفت نہ کی ہو اور اللہ تعالیٰ کا جو قصد وار ارادہ تھا اس کا غیر نہ لایاہو، ان لوگوں نے حضرت انس کے قول سے استدلال کیا ہے یہ ایسا قول ہے جس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور اس کے قائل کی طرف التفات نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس نے اگر ایسے الفاظ سے قرات کی جو قرآن کے الفاظ کے مخالف ہو اور اس کے معانی کے قریب ہو تو اس کے پھر یہ بھی جائز ہوگا کہ وہ الحمدللہ رب العالمین کی جگہ الشکر للباری ملک المخلوقین پڑھ لے، اس میں معاملہ بہت وسیع ہوجائے گا یہاں تکہ تمام قرآن کے الفاظ باطل ہوجائیں گیا وران الفاظ کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرنے والا اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھے گا، رسول اللہ پر جھوٹ بولے گا ان کے لیے حضرت ابن مسعود کے قول میں کوئی دلیل نہیں کہ قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے یہ تمہارے اس قول کی طرح ہے، ھل، تعال اور اقبل کیونکہ یہ حدیث اس امر کو ثابت کرتی ہے کہ نبی کریم سے صحیح سندوں سے منقول قرائتیں جب الفاظ مختلف ہوں اور معانی متفق ہوں تو وہ ھلم، تعال، اور اقبل کے معنی میں ہیں مگر جس لفظ کے ساتھ نبی کریم آپ کے صحابہ اور تابعین نے نہیں پڑھا تو جو ایسا ایک حرف بھی قرآن میں لایاتوصحیح مذہب سے نکل گیا۔
ابوبکر نے کہا، وہ حدیث جسے انہوں نے اس گمراہی میں بطور قاعدہ پیش کیا ہے وہ ایسی حدیث ہے جو کسی اہل علم سے ثابت نہیں کیونکہ اس کا انحصار اس سند پر منحصر ہے اعمش، انس سے روایت کرتے ہیں یہ سند مقطوع ہے متصل نہیں کہ اس سے استدلال کیا جاسکے کیونکہ اعمش نے حضرت انس کو دیکھاتو ہے ان سے احادیث نہیں سنیں۔