تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 73. Al-Muzzammil · Ayah 7
اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ﴿7﴾
- اِنَّ لَكَبیشک آپ کیلئے
- فِي النَّهَارِدن میں
- سَبْحًاشغل
- طَوِيْلًاطویل
Translation · Al-Qurtubi
دن کے وقت تو تمہیں اور بہت سے شغل ہوتے ہیں
Tafseer · Al-Qurtubi
سبحا طویلا کا معنی مفہوم۔
مسئلہ نمبر 5۔ ان لک فی النھار سبحا طویلا۔ عام قرات میں حاء غیر معجمہ کے ساتھ ہے یہاں آپ کو ضروریات کے لیے آناجانا پڑتا ہے۔ سبح کا معنی دوڑنا اور چکرلگانا ہے اسی سے پانی میں تیرنے والا ہے کیونکہ وہ اپنے ہاتھ پاؤں مارتا اور فرس سابح ہے جو گھوڑا بہت تیز دوڑتا ہے۔ امراء القیس کا شعر ہے۔ مسح اذا ما السابحات علی الونی، اثرن الغبار بالکدید المرکل۔ وہ بہت تیز دوڑنے والا ہوتا ہے جب کہ تیز رفتار گھوڑے تھکاوٹ کے وقت سخت جگہ غباراڑاتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، سبح سے مراد فراغت ہے یعنی دن کے وقت کام کاج کے لیے آپ کے پاس فراغت ہوتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے آپ دن کے وقت آرام کرتے ہیں تسبح کا معنی لمبا ہوتا ہے یہ خلیل نے ذکر کیا ہے حضرت ابن عباس اور عطا سے مروی ہے، سبحاطویلا، یعنی آپ کی نیند اور آپ کے آرام کے لیے طویل فراغت ہوتی ہے پس رات کا وقت عبادت کے لیے بنالیجئے، زجاج نے کہا، اگر رات کے وقت کوئی شے فوت ہوجائے تو دن میں آپ کے لیے آرام کے لیے فراغت ہوتی ہے۔
یحیی بن یعمر اور ابو وائل نے سبحا پڑھا ہے، مہدوی نے کہا، اس کا معنی نیند ہے اس قرات کے قاریوں سے یہ مروی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی خفت وسعت اور استراحت ہے اسی معنی میں حضرت عائشہ کے لیے نبی کریم کا ارشاد ہے جب کہ حضرت عائشہ نے چادر چوری کرنے والے کے لیے بددعا کی تھی، لاتسبحی بدعائک علیہ۔ یعنی اس کے گناہ کو اس سے ہلکانہ کرو، شاعر نے کہا، فسبح علیک الھم واعلم بانہ، اذا قدر الرحمن شئیا فکائن۔ اپنے غم کو ہلکا کردو اور یہ جان لو جب اللہ تعالیٰ کسی شی کو مقدر کرتا ہے تو وہ ہوکررہتی ہے۔ اصمعی نے کہا، یہ قول کیا جاتا ہے، سبح العر یعنی گرمی ہلکی پڑگئی تسبیح سے مراد سخت نیند ہے تسبیح کا معنی ہ بھی ہے روئی، کتان، اور اون کے اجزا کو الگ الگ کرنا، عورت کو کہا جاتا ہے، سبخی قطنک اور سبیح من القطن، سے مراد یہ ہوتا ہے اسے لپٹاجائے تاکہ عورت اسے کا تے، اس کے ایک حصہ کو سبیخہ کہتے ہیں، اسی طرح بھیر بکریوں کی اون اور اونٹ کی اون میں ہوتا ہے روئی کے ان حصوں کو سبائخ کہتے ہیں اخطل شکاریوں اور کتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے، فارسلون یذرین التراب کما، یذری سبائخ قطن ندف اوتار۔ شکاریوں نے کتوں کو چھوڑا اور وہ مٹی کو یوں اڑ رہے تھے جس طرح روئی کا دھنکنا روئی کے اجزاء کو اڑاتا ہے۔ ثعلب نے کہا، سبخ کا معنی تردد اور اضطراب ہے، سبخ کا معنی سکون بھی ہے اس معنی میں نبی کریم کا ارشاد ہے، الحمی من فیح جھنم فسبحوھا بالمائ، بخار جہنم کی لپک ہے اسے پانی کے ساتھ ٹھنڈا کرو، ابوعمرو نے کہا، سبخ سے مراد نیند اور فراغت ہے میں کہتا ہوں اس لحاط سے تو یہ لفظ اضداد میں ہوا اور یہ سبح کے معنی میں ہے۔