تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 74. Al-Muddaththir · Ayah 16

  1. كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ﴿16﴾

    1. كَلَّا ۭہرگز نہیں
    2. اِنَّهٗ كَانَبیشک وہ ہے
    3. لِاٰيٰتِنَاہماری آیات کا
    4. عَنِيْدًاعناد رکھنے والا (مخالف)
Translation · Al-Qurtubi
ایسا ہرگز نہیں ہوگا یہ ہماری آیتوں کا دشمن کا رہا ہے۔
Tafseer · Al-Qurtubi
انہ کان لایتینا عنیدا۔ یعنی ولید نبی کریم اور جو وہ پیغام حق لائے ہیں اس سے عناد رکھتا تھا جس طرح یہ کہا جاتا تھا، عائد، عنید جیسے جالس، جلیس، یہ مجاہد کا قول ہے، عند یعند کسرہ کے ساتھ ہو اس کا معنی حق کی مخالفت کرنا ہے اورس کا رد کرنا ہے جب کہ وہ حق کو پہچانتا ہو اس سے اسم فاعل عنید اور عائدا استعمال ہوتا ہے عائد اس اونٹ کو بھی کہتے ہیں جو راستہ سے بھٹک جائے اس کی جمع عند آتی ہے جس طرح راکع کی جمع رکع آتی ہے، ابوعبیدہ نے حارثی کا شعرذکر کیا ہے۔ اذا رکبت فاجعلانی وسطا، انی کبیر لا اطیق العند۔ جب میں کوچ کرتا ہوں تو وہ دونوں مجھے درمیان میں رکھ لیتے ہیں میں بوڑھا ہوچکا ہوں میں راستہ نہیں بھٹکتا۔ ابوصالح نے کہا، عنید کا معنی مباعد ہے شاعر نے کہا، ارانا علی حال تفرق بیننا نوی غربۃ ان الفراق عنود۔ اس نے ہمیں ایسی حالت میں دکھایا جب کہ دوری ہمارے درمیان جدائی ڈال رہی تھی بیشک فراق بہت دوری کا ہے، قتادہ نے کہا، اس کا معنی انکار کرنے والا ہے، مقاتل نے کہا، اس کا معنی ہے اعراض کرنے والا، حضرت ابن عباس نے کہا، بہت زیادہ انکار کرنے والا، ایک قول یہ کیا گیا وہ اپنی دشمنی کو ظاہر کرنے والا ہے، مجاہد نے بھی یہی کہا ہے اس کا معنی ہے حق سے پہلوتہی کرنے والا، اس سے دشمنی رکھنے والا اور اس سے اعراض کرنیوالا، سب کا معنی قریب قریب ہے۔ عرب کہتے ہیں، عندالرجل۔ یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب وہ حد سے تجاوز کرجائے۔ اونٹوں میں سے عنودا سے کہتے ہیں جو اونٹوں کے ساتھ ملتاجلتانہ ہو بلکہ وہ ایک میں رہتا ہو، رجل عندوا سے کہتے ہیں جب وہ تنہا پڑاؤ ڈالتا ہو اور لوگوں کے ساتھ میل جول نہ رکھتاہ و، عنید یہ تجبر (اپنے آپ کو سرکش سمجھنا) کا پیکر ہے، عرق عائد اس رگ کو کہتے ہیں جس کا خون نہ رکے۔ یہ سب ایک ہی قیاس ہے، سورة ابراہیم میں اس کی بحث گزرچکی ہے۔ عنید کی جمع عند ہے جس طرح رغیف کی جمع رغف آتی ہے۔