تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 74. Al-Muddaththir · Ayah 36

  1. نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِۙ﴿36﴾

    1. نَذِيْرًاڈرانے والی
    2. لِّلْبَشَرِلوگوں کو
Translation · Al-Qurtubi
(اور) بنی آدم کے لئے موجب خوف
Tafseer · Al-Qurtubi
نذیراللبشر۔ یعنی اس صفت سے موصوف آگ لوگوں کو خبردار کرنے والی ہے۔ نذیرا، انھا کی ضمیر سے حال ہے، یہ زجاج کا قول ہے، نذیرا کو مذکر ذکر کیا ہے، کیونکہ اس کا معنی عذاب ہے، یا یہ نسبت کے معنی میں ہے یعنی ذات انذار، جس طرح ان امثلہ میں اسم فاعل نسبت کے معنی میں ہے، امراۃ طالق واطاہر۔ خلیل نے کہا، نذیر مصدر ہے جس طرح نکیر مصدر ہے اسی وجہ سے اس کے ساتھ اسم مونث کی صفت ذکر کردی جاتی ہے حضرت حسن بصری نے کہا، اللہ تعالیٰ کی قسم، اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اس سے زیادہ خوفناک چیز کے ساتھ نہیں ڈرایا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، نذیر سے مراد حضرت محمد مصطفیٰ کی ذات ہے، معنی یہ ہوگا، لوگوں کو ڈرانے کے لیے اٹھ کھڑے ہو، نذیرا، ثم میں پوشیدہ ضمیر سے حال ہے، جو قم فعل سورت کے آغاز میں ہے، ارشاد فرمایا، قم فانذر، ابوعلی فارسی اور ابن زید نے یہ کہا، حضرت ابن عباس سے مروی ہے، فراء نے اس کا انکار کیا ابن انباری نے کہا، بعض مفسری نے کہا، اس کا معنی ہے اے چادر اوڑھنے والے۔ لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے اٹھیے۔ یہ تعبیر پسندیدہ نہیں کیونکہ ان دونوں کے درمیان کلام بہت طویل ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، ابومعاویہ ضریر نے روایت کی ہے اسماعیل بن سمیع نے ابورزین سے روایت نقل کی ہے کہ نذیراللبشر۔ کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میں تمہیں اس سے خبردار کرنے والا ہوں اس سے ڈرو، اس صورت میں نذیرا حال ہوگا، یعنی ہم نے جہنم کے داروغے نہیں بنائے مگر فرشتے اس حال میں کہ اس کے ساتھ انسانوں کو خبردار کرے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ ھو سے حال ہے، جو اللہ تعایل کے اس ارشاد میں ہے، ومایعلم جنود ربک الاھو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ مصدر کی جگہ واقع ہے گویا یہ فرمایا، انذارللبشر۔ فراء نے کہا، یہ بھی جائز ہے کہ نذیرا، انذار کے معنی میں ہو تقدیر کلام یہ ہوگی، انذرانذارا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے، فکیف کان نذیر، یعنی میرا ڈرانا کیسا ہے ؟ اس صورت میں یہ سورت کے آغاز کی طرف راجع ہوگی، تقدیر کلام یہ ہوگی قم فانذر انذارا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ مضمر فعل کی وجہ سے منصوب ہے، ابن ابی عبلہ نے نذیر کو مرفوع پڑھا ہے، اس صورت میں ھو ضمیر مضمر ہوگی ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ قرآن انسانوں کو خبردار کرنے والا ہے کیونکہ یہ اپنے اندر وعدہ اور وعید کو لیے ہوئے ہے۔