تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 74. Al-Muddaththir · Ayah 37
لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَؕ﴿37﴾
- لِمَنْاور جو کوئی
- شَآءَچاہے
- مِنْكُمْتم میں سے
- اَنْ يَّتَقَدَّمَکہ وہ آگے بڑھے
- اَوْیا
- يَتَاَخَّرَپیچھے رہے
Translation · Al-Qurtubi
جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہنا چاہے
Tafseer · Al-Qurtubi
لمن شاء منکم ان یتقدم اویتاخر۔ لام تعلیل نذیرا کے ساتھ متعلق ہے یعنی یہ خبردار کرنے والا ہے اسے بھی جو خیر اور طاعت کی طرف آگے بڑھے یاشر اور معصیت کے لیے پیچھے ہٹے، اس کی مثل ولقد علمنا المستقدمین منکم والقد علمنا المستاخرین۔ حجر) ہے تحقیق ہم نے تم میں سے خیر کی طرف آگے بڑھنے والوں کو بھی جان لیا، اور تم میں سے جو اس سے پیچھے رہنے والے ہیں ابھی جان لیا، حضرت حسن بصری نے کہا، یہ وعید اور دھمکی ہے اگرچہ خبر کے انداز میں بیان کی گئی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر۔ کہف 29) جو چاہے ایمان لائے جو چاہے کفر اختیار کرے بعض اہل تاویل نے یہ تعبیر کی ہے اس کا معنی ہے جس کے حق میں اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ آگے بڑھے اور پیچھے رہے، مشیت اللہ تعالیٰ کے ساتھ متعلق ہے یہاں تقدیم سے مراد ایمان اور تاخیر سے مراد کفر ہے۔ حضرت ابن عباس کہا کرتے تھے، یہ دھمکی اور آگاہی ہے کہ جو آدمی حضرت محمد ﷺ پر ایمان اور آپ کی اطاعت کی طرف بڑھا اسے ایسا بدلہ دیا جائے گا جو ختم نہ ہوگا اور جو طاعت سے پیچھے رہا اور حضرت محمد ﷺ کو جھٹلایا اسے ایسا عذاب دیا جائے گا کہ جو ختم نہ ہوگا، سدی نے کہا، اس سے مراد ہے، جو مذکورہ آگ کی طرف آگے بڑھایا جنت کی طرف جانے کے لیے اس سے پیچھے ہٹا۔