تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 74. Al-Muddaththir · Ayah 51
فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍؕ﴿51﴾
- فَرَّتْبھاگے جاتے ہیں
- مِنْ قَسْوَرَةٍشیر سے
Translation · Al-Qurtubi
(یعنی) شیر سے ڈر کر بھاگ جاتے ہیں
Tafseer · Al-Qurtubi
فرت من قسورۃ۔ وہ ان تیراندازوں سے بھاگے جارہے ہیں جو انہیں تیر مارتے ہیں اہل لغت میں سے ایک نے کہا، قسورۃ کا معنی تیرانداز ہے اس کی جمع ق سورة ہے۔ سعید بن جبیر، عکرمہ، مجاہد، قتادہ، ضحاک اور ابن کیسان نے کہا : ق سورة سے مراد تیر انداز اور شکاری ہیں۔ عطاء، حضرت ابن عباس اور ابوظبیان (ابوحیان) حضرت ابوموسی اشعری سے روایت نقل کرتے ہیں، اس سے مراد شیر ہے، یہی قول حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابن عباس کا ہے۔ ابن عرفہ نے کہا، ق سورة کا معنی غلبہ ہے شیر، درندوں پر غالب آجاتا ہے اور وحشی گدھے درندوں سے دور بھاگتے ہیں ابوحمزہ نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہا، میں عربوں میں سے کسی کی لغت میں بھی ق سورة کا معنی شیر نہیں جانتا کہیں یہ لوگوں کی جماعتیں ہیں کہا، ق سورة سے مراد بہاروں کی جماعتیں ہیں اور یہ شعر پڑھا۔ یابنت کونی خیرہ لغیرہ، اخوالھا الجن واھل القسورۃ۔ اے بیٹی خیرہ، کے لیے اچھی صفات والی ہوجا اس کے ننہال جن اور بڑی جماعتوں والے ہیں۔ حضرت ابن عباس سے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی لوگوں کی آوازیں ہیں انہیں سے ایک قول یہ بھی مروی ہے، فرت من ق سورة یعنی وہ شکاریوں کی چالوں سے بھاگے ہوئے ہیں انہیں سے ایک قول یہ بھی مروی ہے۔ عربوں کی زبان میں ق سورة سے مراد شیر اور حبشیوں کی زبان میں تیر انداز، ایرانیوں کی زبان میں شیر اور نبطیوں کی زبان میں اریا ہے، ابن اعرابی نے کہا، ق سورة سے مراد رات کا پہلا حصہ ہے یعنی وہ رات کی تاریکی سے بھاگے ہوئے ہیں۔ عکرمہ نے بھی یہی قول کیا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، رات کی سیاہی کا پہلاحصہ ق سورة یکبلاتا ہے اور رات کی سیاہی کے آخری حصہ کو ق سورة اور قسور کہتے ہیں لبید بن ربیعہ نے کہا، اذا ھتفنا ھتفۃ فی ندینا، اتانا الرجال العائدون القس اور۔ جب ہم نے اپنی مجلس میں آواز دی تو ہمارے پاس طاقتور لوگ آئے۔