تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 74. Al-Muddaththir · Ayah 52

  1. بَلْ یُرِیْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةًۙ﴿52﴾

    1. بَلْ يُرِيْدُبلکہ چاہتا ہے
    2. كُلُّ امْرِۍہر آدمی
    3. مِّنْهُمْان میں سے
    4. اَنْ يُّؤْتٰىکہ وہ دئے جائیں
    5. صُحُفًاصحیفے
    6. مُّنَشَّرَةًکھلے ہوئے
Translation · Al-Qurtubi
اصل یہ ہے کہ ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی ہوئی کتاب آئے
Tafseer · Al-Qurtubi
بل یرید کل امری منھم ان یوتی صحفا منشرہ۔ یعنی انہیں کھلی کتاب دی جائے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ ابوجہل اور قریش کی ایک جماعت نے کہا، اے محمد ﷺ ہم میں سے ہر ایک پاس رب العالمین کی جانب سے ایک مکتوب لے آ جس میں یہ لکھا ہوا ہے، میں نے حضرت محمد ﷺ کو تمہاری طرف بھیجا ہے، اسی کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، ولن نومن لرقیک حتی تنزل علینا کتابا نقروہ۔ الاسرائ 93) ہم تیرے آسمان پر جانے کو تسلیم نہیں کریں گے یہاں تک کہ تو ہم پر کتاب نازل کرے جسے ہم پڑھیں، حضرت ابن عباس نے فرمایا وہ کہا کرتے تھے اگر محمد سچے ہیں تو وہ صبح کے وقت ہم میں سے ہر کسی کے پاس ایک صحیفہ لے آئیں جس میں اس کے جہنم سے بری ہونے اور اس سے محفوظ ہونے کا ذکر ہو۔ مطروراق نے کہا، انہوں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ انہیں بغیر عمل کے یہ چیز دے دی جائے، کلبی نے کہا، مشرکوں نے کہا، ہمیں یہ خبر پہنچی ہے بنی اسرائیل کے ایک آدمی کے پاس صبح کے وقت اس کے سرہانے اس کا گناہ اور کفارہ لکھا ہوتا تھا ہمارے پاس اس کی مثل لاؤمجاہد نے کہا، انہوں نے ارادہ کیا ان میں سے ہر ایک کے پاس ایک کتاب ہو جس میں یہ تحریر ہوفلاں بن فلاں، کے نام خط ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی یہ ہے اس کا ذکر جمیل کیا جائے تو صحیفے ذکر کی جگہ مجازا رکھے گئے انہوں نے کہا، جب انسان کے گناہ اس پر لکھے جاتے ہیں تو کیا وجہ ہے ہم اسے نہیں دیکھتے۔